Blog لیبل والی اشاعتیں دکھا رہا ہے۔ سبھی اشاعتیں دکھائیں
Blog لیبل والی اشاعتیں دکھا رہا ہے۔ سبھی اشاعتیں دکھائیں

اتوار، 27 دسمبر، 2015

افسانہ: خاموش محبت


کوئی عام سا دن تھا میں ہسپتال اپنے ایک عزیز کی عیادت کیلئے گیا تھا. ان سے فارغ ہو کر میں نے سوچا کیوں نہ یہیں نماز پڑھ کی جائے، ہسپتال کے بہت کونے پر نماز کی جگہ تھی، نماز ادا کی یہیں کونے پر چند سنگل روم تھے جہاں کچھ مریضوں کو رکھا گیا تھا. اپنے تجسس میں میَیں ایک کمرے میں داخل ہوا. عام سا ہسپتال کا کمرہ کے جس میں دواؤں کی مہک کچھ زیاده ہی تھی. ایک وجود بستر پر پڑا ہوا بند آنکھیں سکوت چہرے پر ایک لڑکی کوئی تیس سال کی عمر کی ہوگی. کچھ دیر کیلئے نہ جانے کیا ہوا میں یوں ہی دیکھتا رہا پھر فوراً باہر آگیا
مبادا کہ کوئی دیکھ لے اور بات کیا سے کیا ہوجائے، پورا دن نہ جانے کیوں میں گم سم سا رہا،
اگلے دن آفس سے واپسی پر میری بائیک نہ جانے کیوں دوبارہ ہسپتال کی جانب مڑ گئی، کچھ دیر میں میں اس ہی روم کے باہر کھڑا ہوا تھا، مجھے ڈر بھی لگ رہا تھا، اس پری پیکر کو یوں گھورتے مجھے کسی نے دیکھ لیا تو کیا سوچے گا، نہ جانے ہسپتال کے اس جانب کسی کی آمد و رفت ہے کہ نہیں
قدموں کی چاپ سنائی دیتے ہی میں نے سوچا کہ کہیں بھاگ جاؤں مگر پھر نہ جانے کیوں ساکن سا ہو گیا، وہ ایک نرس تھی، اپنے معمول کی ٹریٹمنٹ کے بعد وہ وہاں سے جانے لگی، اس نے اچٹتی سی نگاہ مجھ پر ڈالی، اور چلی گئی
میں گھر واپس آگیا، نہ جانے کیا ہوا تھا، میرا روز کا معمول وہی بن گیا تھا، آفس سے واپس آ کر میں سیدھا وہیں جاتا مجھے نہیں پتا تھا میرا کیا مقصد تھا مگر کچھ مقناطیسی سا تھا جو مجھے وہاں لے جاتا، گھر پر میں نے کام سے زیادتی کا بہانا بنا دیا تھا، مگر یہ میں ہی جانتا تھا کہ میں کہاں تھا اور کیا کررہا تھا۔
"سنیں ، ، ، آپ جانتے ہیں نا مریضہ کی حالت کس اسٹیج پر ہے؟"، ایک دن اچانک نرس اپنی معمول کی کاروائی کے بعد مجھ سے مخاطب ہوئی، میں خاموش رہا، آپ ان سے باتیں کیا کیجئے، وہ تکلیف میں ہیں، مگر بہت کچھ ہوتا ہے انسان آخری وقت میں کہنا چاہتا ہے۔"
"جی"، میں اس سے زیادہ کچھ بھی نہ کہہ سکا۔
اس دن میں پہلی دفعہ اس کے بیڈ کے کافی نزدیک کھڑا ہوا، وہ ساکن سی پڑی تھی، میں کچھ دیر بعد واپس آگیا
میں نہیں جانتا مجھے اپنا پہلا لفظ کہتے کتننے دن کی محنت لگی تھی مگر بالآخر میں نے یہ معرکہ سر انجام دے ہی دیا تھا، بیڈ کے سرہانبے لگی تختی پر اس کا نام لکھا تھا میں نے اس کو اس کے نام سے پکارا، کچھ دیر انتظار کیا، مگر پھر سے پکارنے کی ہمت نہ ہوئی،
میں ایسا ہی تھا، ایک دفعہ کسی کام میں مایوس ہوجاتا تو پھر کوشش ترک کردیتا
مگر اس دن ایسا نہ ہوا، میں نے کئی بات وقفے وقفے سے اس کو پکارا، مگر بے سود
وہ بھی ایک معمول کا دن تھا میں اس کے بیڈ کے نزدیک کھڑا اس کو دیکھ رہا تھا کہ اس نے آنکھیں کھول دیں ، میرا دل کیا چینخ چینخ کر سب کو بتادوں مگر کچھ سوچ کر خاموش رہا، ایک جذبات کا سمندر میرے دل میں تھا، اس نے ہاتھ کے اشارے سے کچھ کہا، میں وہ سمجھتا تھا،
وہ اشاروں کی زُبان تھی، وہ مجھ سے پانی لانے کا کہہ رہی تھی، جگ سے پانی لا کر اس کو پلانا ایک الگ سعی تھی، مگر میں جس کیفیت سے گزر رہا تھا اس کا اندازہ نہیں کیا جاسکتا ۔۔ ۔
اس دن اس نے مجھ سے کچھ کہنے کی کوشش کی، میں اشاروں میں صرف چند لفظ جانتا تھا
اس کے ہر اشارے پر میں "مجھے پتا ہے" کا نشان اپنے سینے پر ہاتھ رکھ رکھ کر کہتا رہا۔
میں نے شام کی کلاسس میں اشاروں کی زبان سیکھنی شروع کی
اب میں اس سے باتیں کرسکتا تھا
وہ صرف اپنی کیفیت بتاتی رہتی تھی، وہ تکلیف میں مبتلا تھی، اس کو ٹھیک سے نظر نہیں آتا تھا، وہ میرا بار بار شکریہ ادا کرتی تھی، نہ جانے وہ مجھے کون سمجھتی، اکثر بچوں کا پوچھتی، میں کہہ دیتا بچے سو گئے تھے، وہ مطمئن ہوجاتی،
کبھی سوچتا اگر کسی دن اس کا کوئی جاننے والا آگیا تو کیا جواب دونگا کہ میں کون ہوں اور اس کے پاس کیا کررہا ہوں، مجھے نہیں پتا تھا بس میں نہ جانے کیوں اپنے آپ کو روک نہیں پارہا تھا ۔ ۔
دن بدن اس کی حالت خراب ہوتی جارہی تھی، اس کا خرچہ ہسپتال کی ایک فلاحی تنظیم اٹھا رہی تھی، کبھی میں جاتا تو اس کی آنکھوں سے آنسو رواں ہوتے، پہلے اپنی تکلیف کا رونا روتی تھی، پھر مجھ سے معافی مانگتی کہ میں اس قدر مصروفیت کے بعد بھی اس کے پاس آتا ہوں اس کو وقت دیتا ہوں
اس کی باتوں سے ایسا لگتا میں اس کو کوئی بہت قریبی جاننے والا ہوں، کبھی سوچتا اس سے پوچھوں ، پھر سوچتا کہ نہ جانے میں پوچھوں تو وہ سارا ماحول جو بنا ہوا ہے، اس نے اپنے ذہن میں جو کچھ میرے بارے میں سوچا ہوا ہے، یہ مجھے جو بھی سمجھ رہی ہے، سب کرچی کرچی نہ ہوجائے، کہیں اس ہی کی وجہ سے وہ تڑپ نہ جائے، کہیں یہی تکلیف اس کی جان نہ لے لے
میں ایک الگ ہی آگ میں جلنے لگا تھا ، مجھے لگتا میں اس کے ساتھ مذاق کررہا ہوں، کبھی لگتا ٹھیک کررہا ہوں، اس کو دو پل کی خوشی میری وجہ سے ملتی ہے تو اس میں کیا برا ہے، کبھی سوچتا اس کو دھوکے میں کیوں رکھوں ، تو کبھی سوچتا کہ بعض دفعہ دھوکہ حقیقت سے زیادہ پیارا ہوتا ہے 
ہم بھی تو زندگی میں کئی دفعہ حقیقت سے نظریں چراتے ہیں، اور اپنے من پسند ماحول میں رہنا چاہتے ہیں، 
میں نے سوچا یونہی چلتے رہنا چاہئے، شاید بہت سی چیزیں جیسے چل رہی ہوں ویسے ہی چلتی اچھی لگتی ہیں، 
کبھی کبھی سوچتا نہ جانے کب یہ سب ختم ہوگا
مجھے جلد ہی جواب مل گیا، اس کی حالت خراب ہورہی تھی، 
میں روز گھر لوٹتا تو بہت پریشان ہوتا، کچھ سمجھ نہیں آتا تھا کہ کیا کروں کس سے کہوں، گھر والوں نے پریشانی محسوس کی میں نے ٹال دیا، کیا کہتا؟ ایک انجان مریضہ کے پاس وقت گزارتا ہوں، اپنی گرہستی چھوڑ کو اس کو وقت دیتا ہوں؟
مگر ایک انجانا سا اطمینان تھا
اس دن اس کی حالت بہت خراب تھی، اس کو آئی سی یو میں منتقل کردیا گیا، 
ڈاکٹروں کی نقل و حرکت، ای سی جی آواز،شور، دوپہر کچھ دیر کو اس کی حالت سنبھلی، میں اس کے پاس گیا، وہ اپنی آنکھیں تلکلیف سے بند کرتی اور پھر کبھی کھولتی، وہ مجھے دیکھنے کی کوشش کرتی میرا چہرہ پہچاننے کی کوشش کرتی، یقینی سی بے یقینی تھی، اس نے ہاتھ بڑھایا میں نے تھام لیا، کچھ لمحے گزر گئے، اس نے اشاروں کی زبان بولنی شروع کی
"تم میری پہلی محبت تھے، تم ہی میری آخری محبت ہو، مجھے اچھا لگا میں مر رہی ہوں تو تم میرے پاس ہو، تم نے محبت کا حق ادا کیا، سنو، محبت صرف پا لینے کا نام نہیں، میں تمہیں دیکھتی، خوش ہوتی، مجھے اپنی زندگی کی پرواہ نہ تھی، کبھی سوچتی ہمیں وہ سب کیوں نہیں ملا، مگر پھر تمہیں خوش دیکھتی میں مطمئن ہوجاتی، مگر آج جب کہ میرا بہت تھوڑا وقت اس دنیا میں رہ گیا ہے ، مگر تم جومیرے ساتھ ہو اب جیسے میرے سارے غم دھندھلا گئے، بس ایک عجیب سا سکون اور سرشاری ہے"
میں نے کچھ نہ کہا، جب وہ اپنی بات مکمل کرچکی تو میں نے اپنے سینے پر ہاتھ رکھتے ہوئے اشاروں کی زبان میں کہا 
"مجھے معلوم ہے، اور میں بھی تم سے بہت محبت رکھتا ہوں"
اس کے چہرے پر ایک مسکراہٹ پھیل گئی، اس دن عشاء کی نماز کے بعد ان ہی ڈاکٹروں کی دوڑ، ای سی جی کی آوز میں وہ اپنے خالق حقیقی کے پاس جا پہنچی۔
اور اس ہی رات وہ منوں مٹی تلے دفن ہوگئی
کبھی سوچتا ہوں وہ میرا ہسپتال جانا، پھر اس طرف متوجہ ہونا، کیا تھا یہ سب، کیا صرف ایک خواب، یا اس میں کچھ مقصد تھا، نہ جانے کیا تھا، مگر آج میں پرسکون ہوں۔
اویس سمیر

اتوار، 6 ستمبر، 2015

September 06, 2015 at 08:41PM

"حور"۔۔۔ قسط: 29 -- آخری قسط۔۔۔دوسرا، بقیہ اور آخری حصہ ۔ ۔ ۔ ۔ تحریر: اویس سمیر۔۔۔ نوکری کے لئے میں نے دوبارہ کوششیں شروع کردیں، کئی جگہ درخواستیں بھیجیں، انٹرویو بھی دئے، ابھی تک کہیں سے بھی جواب نہیں آیا تھا، کچھ ہی دن بعد ایک کمپنی کی جانب سے جواب آیا، ایک اور بار انٹرویو ہوا، تنخواہ پچھلی تنخواہ سے کچھ کم تھی، میں اس ہی شش و پنج میں تھا کہ اس آفر کو قبول کیا جائے کہ نہیں ۔ ۔ ۔ کئی دن اس میں ہی گزر گئے، میں نورالعین اور حور کی محبتوں میں مگن رہا ، تقریباً دو ہتے مجھے یہاں آئے گزر چکے تھے کہ ایک دن پھر ایک عجیب صورتحال نے نئے دوراہے پر لا کھڑا کیا، دبئی والی کمپنی کے آفس سے کال تھی، ویزہ پراسس ایک ہفتے میں مکمل ہونا تھا جس کے بعد مجھے واپسی کا سفر کرنا تھا، کیا کروں کیا نا کروں، جاؤں یا پھر یہیں رُک جاؤں، اس بات کا ذکر حور سے کیا جائے یا نہیں، ڈھیروں سوالات میرے ذہن پر آہستہ آہستہ جمع ہوتے گئے اور وبال جان بن گئے تھے، یہاں تک کہ ہمیشہ کی طرح ایک بار پھر حور نے میری پریشانی محسوس کرلی اور پوچھ ڈالا، "کیا ہوا ہے ساحل؟"، اس نے نور کو گود میں بہلاتے ہوئے مجھ سے سوال کیا، "کچھ بھی تو نہیں ۔ ۔ ۔ادھر لاؤ میری گُڑیا کو؟"، میں نے ننھی نور کو اپنی گود میں لیتے ہوئے بات ٹالنے کی کوشش کی، "ابھی تک نہیں بدلے ساحل، ہر پریشانی چھپاتے ہیں، اور میں بھی دیکھو بھانپ ہی جاتی ہوں" ، اس نے کِن انکھیوں سے دیکھتے ہوئے مجھے کہا "چھوڑو حور ۔ ۔ ابھی نہیں"، میں نے کہا، "پھر کب ساحل ، کبھی نہ کبھی تو مسائل کو حل کرنا ہے، تو ابھی کیوں نہیں؟" اس نے مجھے جانے نہ دیا "اچھا بابا"، میں نے ہتھیار ڈالتے ہوئے کہا "دبئی والی جاب سے کال آگئی ہے، دو ہفتوں میں واپسی ہے"، میں نے کہا کچھ دیر حور خاموش رہی، پھر اس نے دھیرے سے کہا، "تو؟ اس میں کیا پریشانی؟ آپ کا فیصلہ ہمیشہ ٹھیک ہی ہوا ہے۔" اس کی آواز مدھم ہی رہی "مجھے پتا تھا تمہیں ٹھیک نہیں لگے گا"، میں نے کہا "نہیں ساحل ایسی بات نہیں ہے، میں تو بالکل ٹھیک ہوں"، وہ مسکرائی، "بس آپ جانے کی تیاری کریں، ہماری بالکل فکر نہ کریں، میں نور میں مگن رہوں گی"، وہ چہکی "اور میں؟ نور کو محبت دینے میں میرا حصّہ؟"، میں نے شکوہ کر ڈالا۔ بات آئی گئی ہوگئی ۔ ۔ ۔ میں نے آفس رابطہ کیا، ویزہ اور ٹکٹ کے حوالے سے کوششیں شروع کردیں، کچھ ہی دن میں میرے ہاتھ میں ورکنگ ویزہ اور ٹکٹ آچکا تھا، وقت گزر رہا تھا روانگی کے دن قریب آرہے تھے، میں حور اور ننھی نورالعین کے ساتھ بہت سارا وقت گزارنا چاہتا تھا، اتنی محبت سمیٹ لینا چاہتا تھا کہ جتنی مجھے دور رہنے کے لئے کافی ہو جائے، لیکن شاید میرا فلسفہ غلط تھا، محبت جتنی بھی سمیٹ لو، جب دور جاؤ تو دل اس سے زیادہ چاہت دوبارہ مانگتا ہے۔ حور کے پاس جب بھی جاتا ، اس کی بڑی بڑی آنکھوں میں مجھے محبت کے ساتھ ساتھ عجیب سا خوف بھی دکھائی دیتا، مجھے ایسا لگتا تھا کہ وہ پھر سے کھو دینے کے خوف کا شکار ہورہی ہے، نور کے آنے سے تو سب مسائل حل ہوجانے چاہئے تھے، میں تو سمجھتا تھا کہ جب بچے ہوجائیں تو میاں بیوی کی آپسی محبت تقسیم ہوجاتی ہے، محبت میں شراکت دار جو آجاتے ہیں لیکن جب تجربہ ہوا تو معلوم ہوا کہ شراکت تو دور کی بات، محبت تو تقسیم کی شئے ہی نہیں، یہ تو بڑھتی ہی چلی جاتی ہے، جیسے ہر ایک نئے اضافے کے ساتھ اتنی ہی محبت کا مزید اضافہ ہوجائے۔ ----------- ایئرپورٹ، میرا مختصر سا سامان جسے حور نے محبت سے پیک کیا ہے، میرے ماں باپ، میرا بھائی اور بھابی، میرے ساتھ ایئرپورٹ پر کھڑے ہیں، سامان رکھتا ہوں، نورالعین کو گود میں لے کر خوب سارا پیار کرتا ہوں، ننھی کے سر پھر نرم نرم ہلکے ہلکے سے بال آگئے ہیں، ان کو سہلاتا ہوں، ان کو پیار کرتا ہوں، باقی گھر والوں سے ملتا ہوں ، مگر دل میں تشنگی باقی رہتی ہے۔ شاید کچھ غلط کر رہا ہوں ۔ ۔ ۔ ---------- میں نے اندر کی جانب قدم بڑھائے، آخری نظر حور پر ڈالی اور پھر گود میں ہمکتی نورالعین کی جانب نگاہ ڈالی، چمکتی آنکھیں روشن چہرہ، نظر اوپر اُٹھائی، حور کے چہرے پر اداسیوں کے ڈیرے، مجھے اپنی جانب دیکھتا دیکھ کر نہ جانے کیوں مسکرانے کی ناکام کوشش کرنے لگی، پتا نہیں خود کو یا پھر مجھے دھوکہ دے رہی ہو، ۔ ۔ ۔ زندگی میں بہت بار ایسا ہوتا ہے جب دلی خواہش ہوتی ہے کہ کوئی آواز دے کر روک لے، میں نے اندر کی جانب چلنا شروع کیا، ۔ ۔ ۔ کوئی تو پُکار لو ۔ ۔ ۔ ۔ حور ۔ ۔ ایک بار کہہ دو کہ "ساحل لوٹ آؤ" تو ساری دنیا، نوکری، سب کچھ چھوڑ کر تمہارے پاس آجاؤں گا، خدا نے رزق جہاں لکھا ہے وہاں سے ہی ملے گا، اتنا ہی ملے گا، "ساحل ۔ ۔ ۔ کہاں گیا تمہارا توکل؟"، میں نے خود سے سوال کیا، قدم اندر کی جانب بڑھ گئے ٹکٹ گارڈ کو دکھایا اور اندر کی جانب روانہ ہوگیا۔ کاؤنٹرکی جانب بڑھا لائن میں لگا، سارے مسافر ایک ایک کرکے اپنا سامان رکھوا رہے تھے اور بورڈنگ پاس لے رہے تھے، میری باری آنے میں کچھ وقت لگا، ایک سوچوں کا تسلسل تھا جس میں بہا جارہا تھا "کیا میں ٹھیک کر رہا ہوں؟ کیا ایک پھر سے وہی کہانی دہرائی جائے گی؟ یہ جانتے ہوئے بھی کہ میں اور حور ایک دوسرے کے بناء نہیں رہ سکتے پھر بھی میں دل پر جبر کرکے چلا آیا ۔ ۔ ۔ یہ سوچے بغیر کہ میرے جانے کے بعد اس کا کیا حال ہوگا ۔ ۔ ۔ دن تو کام کاج کی مصروفیات میں گزر جائے گا مگر راتوں کا خراج کس سے طلب کیا جائے؟" "ساحل، تمہاری بیٹی کو تمہاری ضرورت ہے، کہ جب اس کو تمہاری محبت، قربت، چاہت، لمس کی ضرورت ہو تم سات سمندر پار پیسہ کمانے کی مشین بنے ہوئے ہو، زندگی میں پیسہ کمانا ضروری ہے، لیکن "صرف" پیسہ کمانا ایک بہت بڑی غلطی ہے، تمہیں اپنے گھر والوں کی ضرورت ہے، اور تمہارے خاندان کو تمہاری ضرورت!" "ایک ایسی محبت کہ جس میں کھو دینے کا خوف نہ ہو!" ننھی نورالعین کا ہمکنا، اس کی بڑی آنکھیں، روشن پیشانی، معصومیت، لمس، اس کو وہ سینے سے لگانا، ایک سال دو سال تین سال کا عرصہ اپنی اولاد سے دور رہنا ۔ ۔ ۔ "بس یہی تھا تمہارا توکّل ساحل؟ یہیں تمام ہوگئیں ساری باتیں؟ اب بھی وقت ہے" - - -"سر پلیز"، کاؤنٹر پر بیٹھے شخص نے اپنا ہاتھ آگے بڑہایا، میں نے ٹکٹ اور ویزہ اس کی جانب بڑھایا، مگر رُک کیا، "ایکسکیوز می!"، یہ کہہ کر میں لائن سے باہر آگیا ۔ ۔ گزرے ہوئے لمحات ایک فلم کی مانند میرے ذہن میں چل رہے تھے، میں سب کچھ برداشت کرلیتا، جہاں اتنے امتحان برداشت کئے وہاں ایک اور امتحان بھی سہہ لیتا، لیکن شاید میں اپنی حور کو بہت کچھ دینا چاہتا تھا، سب سے بڑھ کر وہ محبت جس کی اس کو چاہ تھی، ایسی محبت کہ جس میں کھو دینے کا خوف نہ ہو! میرے قدم واپسی کی جانب بڑھنے لگے، باہر آتے آتے میں اپنا ٹکٹ پُرزے پُرزے کرکے ہوا میں اڑا چکا تھا۔ زندگی میں اتنا ہلکا پھُلکا کبھی محسوس نہ کیا تھا۔ مسکراہٹ میرے لبوں پر تھی، ٹھنڈی ہوائیں سی چلنے لگی تھیں، ایسا سکون جیسے سخت گرمی میں اچانک کہیں سایہ مل جائے ۔ ۔ ۔ میرے قدم اپنی حور کی جانب بڑھ رہے تھے جس کے چہرے کی مسکراہٹ کو میں اور بڑھا دینا چاہتا تھا! اس محبت کو اَمر کردینا چاہتا تھا! (ختم شُد)

September 06, 2015 at 08:39PM

"حور"۔۔۔ قسط: 29 -- آخری قسط۔۔۔ کا پہلا حصہ ۔ ۔ ۔ تحریر: اویس سمیر۔۔۔ (گزشتہ سے پیوستہ) حور سیریس حالت میں تھی، مگر مجھے میری دعاؤں پر بھروسہ تھا، بچی الحمدللہ ٹھیک ٹھاک تھی، میں نے اس کو اپنی گود میں لیا، میٹھی نیند سوتی ننھی مُنی، معصوم سی گُڑیا، "اِس کی بھی حور جیسی بڑی بڑی آنکھیں ہونگی"، میں نے سوچا، اور مسکرا دیا، اس کے نرم نرم گالوں کو چھوتا رہا، بہت دیر تک سینے سے لگا کر رکھا، اتنی تھکن اتنی ٹینشن کے بعد اللہ نے مجھے اتنا خوبصورت انعام جو دیا تھا، حور کی جانب سے پریشانی تھی مگر اس کو دیکھا اس کا چہرہ بہتر لگ رہا تھا، جس طرح میں نے اس کو کومہ کی حالت میں دیکھا تھا اس سے کہیں زیادہ بہتر لگ رہی تھی، مجھے اپنی دعاؤں پر یقین تھا جیسے اللہ نے اس دعا کو قبول کیا ویسے ہی باقی بھی قبول ہونگی، یہی تو حکم ہے، "توکّل!" اس کی ذات پر، پھر ہر مشکل آسان ہوجاتی ہے، بس اس کی چاہت کو اپنی چاہت بنا لو، یا پھر اپنی چاہت کو اس کی چاہت کے مطابق ڈھال لو! اگلی شام میں حور کے سرہانے بیٹھا ہوا تھا کہ مجھے اس کی نقاہت بھری آواز آئی، "ساحل! ۔ ۔ ۔"، اُس کو ہوش آرہا تھا، میں فوراً نرس کر اطلاع دینے گیا! (اب آگےپڑھئے) میں فوراً ہی نرس کو لے آیا، میری بےچینی بےتابی سے اب تک تو ہسپتال کا اسٹاف بھی آگاہ ہو چکا تھا لہذا مجھے اُن کی جانب سے وی آئی پی ٹریٹمنٹ مل رہی تھی، نرس نے آتے ہی پہلے ابتدائی طور پر چیک کیا، اور پھر رپورٹ میں نہ جانے کیا درج کرتے ہوئے باہر نکل گئی، کچھ ہی دیر گزری ہوگی کہ چند جونیئر ڈاکٹر حضرات آگئے، شاید یہ ان کا اسٹڈی کیس تھا، بےدرپے مختلف واقعات نے اس کیس کو منفرد بنا دیا تھا، کومہ، ذہنی دباؤ، ولادت، کمزوری، اور الحمداللہ اس سب کے باوجود اللہ کی دعاؤں سے یہ سب ممکن ہوا، ڈاکٹر بھی اس پر حیران تھے، مگر میں مطمئن تھا، اللہ بہت بار اس طرح کے کرشمے دکھاتا ہے کہ کئی دفعہ ناممکنات کو ممکنات سے تبدیل کردیتا ہے اور انسان محو حیرت رہتا ہے کہ کیا سوچا تھا اور کیا ہوگیا مگر حکمت اللہ ہی بہتر جانتا ہے۔ کچھ ہی دیر میں وہی سینیئر ڈاکٹر صاحب کمرے میں داخل ہوئے جن سے میرا جھگڑا ہوا تھا، میں نے ان سے ہاتھ ملایا، "میں نے کہا تھا کہ آپ کی دعائیں بہت کام آئیں گی، ساحل صاحب، بہت بار ایسے کیسز سامنے آتے ہیں کہ ہم ڈاکٹر حضرات بھی حیران رہ جاتے ہیں، ہماری سائنس، حکمت و ڈاکٹری وہاں لاچار ہوجاتی ہے اور پھر بڑے سے بڑے ملحد کو بھی اللہ کی ذات پر یقین آجاتا ہے، ہم تو پھر عام گناہ گار مسلمان ہیں، اس طرح کے کیس ہمارے ایمان کی تقویت کا باعث بنتے ہیں، بظاہر ہمیں یوں ہی لگ رہا تھا کہ ماں اور بچے میں سے کسی ایک ہی کی جان بچ سکتی ہے، لیکن جب کیس کو ہاتھ میں لیا تو صورتحال مزید واضح ہوئی، معلوم ہوا کہ کیس ابھی اس نہج پر نہیں پہنچا، پھر آپ کے سخت رویہ نے ہماری بشری لاپرواہی اُڑن چھو کردی، تمام ٹیم اس کیس کو حل کرنے میں لگ گئی اور یوں ہم نے اللہ کی مدد سے اس کیس کو حل کیا، تمہاری دعائیں کام میں آگئیں اور دیکھو سب کچھ ٹھیک ہوگیا۔" میں کیا کہتا، سب کچھ تو انہوں نے کہہ ہی دیا تھا، مسکرا کر انہیں جگہ دی، وہ آگے بڑھے حور کا معائینہ کیا اور نرس کو کچھ مزید احکامات دے کر چلے گئے۔ اب مجھے ٹھیک طرح سے حور کو دیکھنے کا موقع ملا تھا، اس کی نظریں بےچینی سے ادھر اُدھر منڈلا رہی تھیں، میں سمجھ گیا، ماں اپنی اولاد کو دیکھنا چاہ رہی ہے، لہذا اپنی گُڑیا کو نرمی سے گود میں لیا اور گھوم کر بستر کی دوسری جانب سے اُٹھا کر حور کے پہلو میں لِٹا دیا، ایک ہلکی سے نقاہت زدہ مسکراہٹ حور کے لبوں پر آئی، اپنے ہاتھ پر زور دے کر اس نے بچی کو اپنے سینے سے نزدیک کیا اور اپنی آنکھیں بند کرلیں، دو ننھے ننھے آنسو اس کی آنکھ سے نکل پڑے، اس کے لب ہلے، "الحمد للہ ، الحمدللہ، الحمدللہ"، آنسو تو میرے بھی بہہ نکلے تھے، مگر میں نے دوسری جانب منہ کرکے اپنی آستین سے صاف کئے، میں نہیں چاہتا تھا کہ حور مجھے اس طرح دیکھے، ابھی اس کو بہت زیادہ ہمت کی ضرورت تھی۔ دوپہر تک اس کی حالت مزید بہتر ہوچکی تھی، شام تک باقی افراد بھی آگئے تھے رشتہ داروں کا تانتا بندھ گیا، مبارک بادوں اور مٹھائی کے ڈبوں کا ڈھیر لگ گیا تھا، جو بھی دیکھتا یہی کہتا کہ بچی اپنی ماں پرگئی ہے، نہ جانے کیوں یہ سُن کر ہر بار میں دل میں "الحمد للہ" کہتا، میری تو دعا ہی یہی تھی کہ اللہ کرے اس کی عادت و اطوار بھی حور سے ہی میل کھائیں۔ شام کو حور نے ہلکا سا کھانا کھایا، لوگوں کو اٹینڈ کرتی کرتی کافی تھک سی گئی تھی، رات لوگوں کا رش کم ہوا، بھائی بھی گھر چلے گئے، حور اور میری والدہ کے گھر جانے کے بعد میں اور حور ہی رہ گئے۔ مجھے بہت دیر بعد اس سے باتیں کرنے کا موقع ملا تھا، وہ بھی منتظر تھی، میں نے نہایت قریب آ کر اس سے سرگوشی میں کہا، "کیسی لگی میری "نور العین"؟"، حور نے حیرت سے مجھے دیکھا، پھر مسکرا کر مصنوعی ناراضگی سے کہنے لگی، "نام رکھ لیا اور مشورہ بھی نہیں"، ----- "اب بتا دیا نا! کیسا لگا؟"، میں نے پوچھا ۔ ۔ ۔ "بہت اچھا" وہ بولی، "بالکل اِس کی روشن آنکھوں جیسا" --------- صبح اماں کے آنے کے بعد مجھے تھوڑا وقت ملا تو میں نے سوچا کیوں نہ پرانے آفس اپنے واجبات کی وصولی کے لئے چکر لگا لیا جائے، مگر پہلے فون کرکے معلوم کرلوں، دبئی جانے سے قبل معلوم کیا تھا تو حساب بےباق نہیں ہوا تھا، اب اس بات کو کئی ماہ گزر چکے تھے، فون کیا تو معلوم ہوا کہ چیک تیار ہے اور میرا ہی انتظار کر رہا ہے، لہذا حور اور اماں کو ایک کام کا بتا کر وہاں سے روانہ ہوا، آفس پہنچا اور سیدھا فنانس ڈپارٹمنٹ گیا، چند کاغذات پر پر دستخط لئے گئے، کچھ ہی دیر میں چیک میرے پاس تھا، مجھے کچھ دیر انتظار کا کہا گیا، نہ جانے کیا بات تھی، "سر آپ سے ملنا چاہتے ہیں!"، فنانس آفیسر نے پیغام دیا۔ "اب کیا مصیبت پڑ گئی، کوئی پرانا کیس نہ کھول دیں"، میں نے دل میں سوچا اور ان کے آفس کی جانب چل پڑا مجھے دیکھ کر وہ مسکرائے، آگے بڑھ کر ہاتھ ملایا اور بیٹھنے کا کہا، ادھر اُدھر کی بات کی، کچھ دیر بعد میں نے اجازت چاہی اور بتایا کہ حور ہسپتال میں ہے۔ "ساحل، تم سے مجھے ایک ضروری بات کرنی تھی"، وہ دروازہ بند کرتے ہوئے واپس اپنی سیٹ پر آگئے "جی سر"، میں نے کہا، "ساحل، تمہارے جانے کے بعد ٹاپ مینیجمنٹ کی ایک میٹنگ ہوئی، اس میں ان تمام معاملات اور آڈٹ رپورٹ کا ازسرِ نو جائزہ لیا گیا تھا، اور ان ہی رپورٹ کی روشنی میں تین بڑی مچھلیوں کی کرپشن بےنقاب ہوئی تھی، ظاہر سی بات ہے اس کے بعد ان کی جاب تو کیا سلامت رہنی تھی، معاشرے میں اپنی نیک نامی اور ساکھ بھی کھو بیٹھے، کمپنی نے ان پر مقدمہ بھی کیا جس کو ابھی تک وہ بھگتا رہے ہیں، ساحل، کمپنی اپنے عمل پر بہت شرمندہ ہے" "میں آپ کی کیا خدمت کر سکتا ہوں سر"، ان کی باتیں مجھے کچھ بھی نیا رُخ نہیں دکھا رہی تھیں، میں جلد ہسپتال واپس جانا چاہتا تھا تاکہ اپنا کام مکمل کرسکوں۔ "ساحل، کمپنی تم کو دوبارہ جاب آفر کرتی ہے، اپنی پرانی پوزیشن پر، تمہارا گریڈ بڑھا دیا جائیگا، اور چونکہ تمہارے پاس اب باہر کا بھی تجربہ ہے، لہذا تنخواہ بھی پہلے سے زیادہ ہوگی"، انہوں نے کہا ایک لمحے کو تو میں گڑبڑا گیا، ان کی مادہ پرستانہ آفر ہی ایسی تھی کہ کسی کا دل بھی لچا جاتا، میں نے کچھ دیر سوچا، "کیا سوچ رہے ہو؟"، انہوں نے پوچھا "سر، ایک بات کہوں، میری رپورٹ میں تو آپکی بھی کرپشن کی داستان تھی، اس پر کس قدر عمل ہوا؟" میں نے سیدھا سوال کیا "کیا بات کر رہے ہو ساحل، کمپنی نے اس رپورٹ کو بھی دیکھا تھا، مگر انہوں نے اس کو مسترد کردیا، تم سے جو کہا اس پر دھیان دو، ایسی آفر بار بار نہیں ملتی" ، انہوں نے ایک بات پھر لالچ دیا "سر میری بات کا جواب مل جائے تو میں کچھ سوچوں، میری رپورٹ پر عمل کیوں نہیں ہوا؟"، میں نے دوبارہ ان کی آنکھوں میں جھانکتے ہوئے کہا "ساحل، وہ رپورٹ بوگس تھی، ساحل، ہم مل کر کام کرینگے، مجھے افسوس ہے پچھلی دفعہ تمہارے ساتھ ہونے والی زیادتی میں تمہارا ساتھ نہیں دے سکا!"، وہ بولے "سر لعنت بھیجتا ہوں میں ایسی نوکری پر، اتنی غیرت الحمدللہ ہے کہ بھیک میں ڈالی ہوئی نوکری پر لات مارتا ہوں، اللہ کے سوا کسی سے ڈرتا نہیں، میرا ایمان ہے رزق اس ہی ذات کے ہاتھ میں ہے، کسی فنانس مینجر کے ہاتھ میں نہیں، اب آتے ہیں اصل موضوع کی طرف، سر جو کمپنی میری تمام رپورٹ کو دوبارہ از سر نو زندہ کرکے تین افسران کو نکال سکتی ہے اور ایک رپورٹ کو چھوڑ دیتی ہے تو مجھے تو لگتا ہے کہ یہ بھی ایک بڑا گیم ہے اور اس گیم کا ایک حصہ آپ بھی ہیں، نوکری کرنی ہے سر کھیل اور سیاست نہیں کرنی! اور ہاں، جس طرح پچھلی بار آپ نے مجھے سپورٹ نہیں کیا تھا امید ہے آگے بھی جب آپ لوگوں کو ایک کاندھے کی ضرورت ہوگی مجھے یا مجھ جیسے کسی ملازم کو استعمال کیا جائے گا اور پھر ٹِشو پیپیر کی طرح پھینک دیا جائے گا۔ اس بات کا مجھے یقین ہے کہ پچھلی بات کیا، ، ، آئندہ بھی کبھی ایسا ہوا تو آپ کو اپنی سیٹ ہی بچانی ہوگی، کیسی مِڈل لیول ملازم کی نہیں!" میں نے چند جملوں میں ان کے چالیس سالہ تجربہ کا پول کھول دیا تھا، وہ آگے سے کچھ نہیں بولے، پتا تھا کہ اگر دوبارہ بھرتی کیا بھی گیا تو صرف اپنے کرپٹ مقاصد میں استعمال کی غرض سے کیا جائے گا اور کام نکلوا کر واپس پھینک دیا جائے گا، دوسری بات میری فطرت نہیں تھی کہ ایک جگہ سے دھکا کھا کر دوبارہ اس مقام پر جاؤں۔ لہذا اللہ پر بھروسہ کرکے آفر ان کے منہ پر مار کر نکل آیا۔ ------------------- واپسی پر چیک کیش کرا کر اپنے اکاؤنٹ میں جمع کروائے مبادا کہ سابق باس بپھرا ہوا سانپ بن کر چیک بھی نہ کینسل کروا دے۔ حور کو آ کر پوری بات بتائی اس نے بھی میرے فیصلے کو سراہا۔ تین دن بعد حور کو ڈسچارج کردیا گیا، نقاہت بہت تھی، ٹریٹمنٹ ختم ہوچکی تھی، ہسپتال میں بیڈ ریسٹ ہی دیا جارہا تھا، ڈاکٹر نے بھی رسمی اجازت دے دی تھی، لہذا اور ٹھہرنا منساب نہ سمجھا، گھر آ کر حور آرام ہی کرتی رہی، ننھی نور العین کو سنبھالنے کی ذمہ داری میں نے اور امی نے اٹھائی ہوئی تھی، اس کی آنکھیں بالکل حور کی طرح تھیں، بڑی بڑی، گہری۔ ----------------- (بقیہ حصہ اگلی پوسٹ میں)

ہفتہ، 5 ستمبر، 2015

September 06, 2015 at 01:02AM

"حور"۔۔۔ قسط: 28 ۔۔۔ تحریر: اویس سمیر۔۔۔ (گزشتہ سے پیوستہ) رات آپریشن شروع ہوا، بھائی بھی آچکے تھے، اور آتے ہی ان پر ایک کام کا بوجھ خون کا بندوبست کرنا تھا، میں نے بھی خون کے لئے اپنے دوستوں کو فون کرنا شروع کردیا، اللہ اللہ کرکے بندوبست ہوا، آپریشن اسٹارٹ ہوچکا تھا، اماں، بھائی اور میں باہر بیٹھے تھے، ماحول میں ٹینشن جیسے کوٹ کوٹ کر بھر دی گئی تھی، اچانک آپریشن تھیٹر کا دروازہ کھُلا، ڈاکٹر صاحب نے مجھے ساتھ آنے کا اشارہ کیا، اندر تھیٹر کی جانب ایک طرف لے جا کر مجھے کہنے لگے، "صبح میں آپ سے ذکر کر چکا تھا، کیس بگڑ چُکا ہے، ابھی صورتحال مزید واضح ہوئی ہے، مجھے افسوس ہے ہم ماں اور بچے میں سے کسی ایک کو ہی بچا سکتے ہیں ۔ ۔ ۔ " میرا خون کھول رہا تھا، ڈاکٹر میری جانب حیران نظروں سے دیکھنے لگا، میں نے ان کی طرف دیکھ کر کہا ، "ڈاکٹر صاحب، جائیے جو آپکی ذمہ داری ہے وہ پوری کیجئے" "دیکھو، آپ کو ایک فیصلہ کرنا پڑیگا ۔ ۔ "، اس کے الفاظ ابھی زبان پر ہی تھے کہ میں نے جھپٹ کر اس کا گریبان پکڑ لیا "کیسا فیصلہ ۔ ۔؟؟" میں چینخا! ۔ ۔ ۔"تم کون ہوتے ہو جان بچانے والے؟" میں بےقابو ہورہا تھا، "زندگی دینے والی ذات صرف اللہ کی ہے اللہ کی!" میں نے اس کو جھٹکا دیا "جاؤ جا کر اپنی کوشش کرو ۔ ۔ مجھے نہیں کرنا کوئی فیصلہ ویصلہ ،، ، " وہ دیوار سے لگا خوف زدہ نظروں سے مجھے دیکھ رہا تھا "ساحل ساحل ۔۔ چھوڑو اسے ۔ ۔ دور ہٹو ۔ ۔ " ، بھائی دوڑتے ہوئے آئے اور مجھے چھڑانے لگے۔ (اب آگےپڑھئے) "ڈاکٹرصاحب معاف کیجئے گا، آپ جائیں ٹریٹمنٹ کریں، کسی چیز کی ضرورت ہو تو میں یہاں موجود ہوں۔۔ ۔ "، بھائی نے معذرت خواہانہ لہجے میں ڈاکٹر صاحب سے کہا پھر مجھے کاندھے سے پکڑ کے سائیڈ پر لے گئے، "ساحل، صبر کرو، ایسے معاملات حل نہیں ہوتے"، انہوں نے نہایت مدبرانہ انداز میں مجھ سے کہا "میرے معاملات ایسے ہی ہیں بھائی"، میں نے بغیر سوچے سمجھے کہا، "یہ فیصلے انسان کے اختیار میں نہیں بھائی، اگر کسی کی زندگی ہے تو یہ بھی لکھا ہے اور کسی کی موت لکھی ہے تو وہ بھی لکھا ہے، اور سب سے بڑھ کر مجھے کسی کی جان کی بھیک کسی ڈاکٹر سے نہیں مانگنی، اگر میں اپنے پیاروں کی زندگی کی بھیک مانگوں گا تو اللہ سے مانگوں گا۔" میں نے ایک یقین سے کہا، اور بات بھی یہی تھی، کیوں میں ایک انسان جو کہ خود لاچار مخلوق ہے کے سامنے دست سوال پھیلاؤں، آخر کیوں؟ میرا رُخ مسجد کی جانب تھا، اُس وقت آپریشن تھیٹر کے سامنے کھڑے ہوکر پریشان ہونے کا کوئی فائدہ مجھے نظر نہیں آیا، مجھے میری منزل مصلّے پر نظر آرہی تھی۔ کئی گھنٹے تک آپریشن جاری رہا، میں جائے نماز پر بیٹھا اللہ کے حضور اپنی اور اپنے ہونے والی اولاد کی زندگی کی بھیک مانگتا رہا، نظر بار بار آسمان کی جانب اٹھتی، مجھے نہیں معلوم تھا کہ آپریشن تھیٹر میں کیا ہورہا تھا، صرف اتنا پتا تھا کہ حور اس وقت تکلیف میں ہے اور اس کو کوئی چیز بچا سکتی ہے تو دعائیں ہی ہیں۔ ادھر بھائی آپریشن تھیٹر کے باہر کھڑے ہوئے تھے، خون کا بندوبست کرنا، کئی سارے کام انہوں نے اپنے ذمہ لے رکھے تھے، پریشانی کے وقت میں کسی کی تھوڑی سی بھی مدد بہت ہوتی ہے، اور یہ تو پھر ایک پوری ذمہ داری اٹھا لینے والی بات تھی، یہی وجہ تھی کہ مجھے پوری لگن کے ساتھ دعائیں مانگنے کا موقع مل گیا، میری دعاؤں میں اپنے بھائی کے لئے بھی بہت ساری دعائیں تھیں، بھلے اپنی مالی حالت کی وجہ سے وہ میری کوئی مالی امداد نہیں کرسکے لیکن زندگی کی ہر مشکل اور پریشانی میں ایک مضبوط سہارا بن کر میرے ساتھ موجود رہے۔ کافی دیر بعد میں واپس لوٹا، سب باہر خاموش کھڑے تھے، نہ جانے کیا ہوا تھا، شاید کوئی بات تھی ۔ ۔ یا پھر شاید کوئی اطلاع ملنی تھی، میرا دل پھٹنے لگا، نہ جانے کیا ہونے والا تھا ٹھیک اسی وقت، آپریشن تھیٹر کا دروازہ کھلا، اور ڈاکٹر صاحب چہرے سے ماسک ہٹاتے ہوئے باہر نکلے، چہرے پر مسکراہٹ تھی، "الحمدللہ دونوں حیات ہیں!" انہوں نے کہا۔ میں سجدہ میں گِر گیا، آنسو میری آنکھوں سے رواں تھے۔ "مگر اگلے اڑتالیس گھنٹے بہت سیریس ہیں، آپکی دعائیں بہت کام آئیں گی"، ڈاکٹر نے میری جانب دیکھ کر لفظ "آپکی" پر زور دے کر کہا۔ "ہوش میں آتے ہی مجھے اطلاع پہنچائیں!"، اس نے ساتھ میں موجود نرس کو احکامات دئے۔ مجھے اللہ پر توکل تھا، بھروسہ تھا کہ جہاں اس نے اتنے مشکل حالات اور امتحانات میں کامیاب کیا وہ آگے بھی بھلا ہی کریگا، کچھ بھی ہو میں نے اس ہی کے در پر سر جھکانا ہے، مل جائے تو ٹھیک، نہ ملے تو اس کا اچھا نعم البدل اور اگر دنیا میں نہ ملا تو یقیناً اس کا اجر آخرت میں تو ضرور ملے گا، اللہ پر یقین ہو تو کچھ بھی ممکن ہے، وہی تو ہے جو کہتا ہے جو بھی مانگنا ہے مجھ سے مانگو، یہ ہم ہی ہیں کہ اس سے مانگنے کے بجائے دنیا میں اِدھر اُدھر غیروں کے دروں پر دھکے کھاتے ہیں۔ وہ تو کہتا ہے کہ تم قدم اُٹھاؤ میں چل کر آؤں گا، تم چل کر آؤ میں دوڑ کر آؤں گا، وہ تو کہتا ہے کہ تمہارا جوتے کا تسمہ بھی ٹوٹے تو مجھ سے مانگو، اور ہم ہیں کہ اس قدر اسپیشل آفر کو بھی نعوذباللہ قبول کرنے سے ہچکچاتے ہیں! حور سیریس حالت میں تھی، مگر مجھے میری دعاؤں پر بھروسہ تھا، بچی الحمدللہ ٹھیک ٹھاک تھی، میں نے اس کو اپنی گود میں لیا، میٹھی نیند سوتی ننھی مُنی، معصوم سی گُڑیا، "اِس کی بھی حور جیسی بڑی بڑی آنکھیں ہونگی"، میں نے سوچا، اور مسکرا دیا، اس کے نرم نرم گالوں کو چھوتا رہا، بہت دیر تک سینے سے لگا کر رکھا، اتنی تھکن اتنی ٹینشن کے بعد اللہ نے مجھے اتنا خوبصورت انعام جو دیا تھا، حور کی جانب سے پریشانی تھی مگر اس کو دیکھا اس کا چہرہ بہتر لگ رہا تھا، جس طرح میں نے اس کو کومہ کی حالت میں دیکھا تھا اس سے کہیں زیادہ بہتر لگ رہی تھی، مجھے اپنی دعاؤں پر یقین تھا جیسے اللہ نے اس دعا کو قبول کیا ویسے ہی باقی بھی قبول ہونگی، یہی تو حکم ہے، "توکّل!" اس کی ذات پر، پھر ہر مشکل آسان ہوجاتی ہے، بس اس کی چاہت کو اپنی چاہت بنا لو، یا پھر اپنی چاہت کو اس کی چاہت کے مطابق ڈھال لو! اگلی شام میں حور کے سرہانے بیٹھا ہوا تھا کہ مجھے اس کی نقاہت بھری آواز آئی، "ساحل! ۔ ۔ ۔"، اُس کو ہوش آرہا تھا، میں فوراً نرس کر اطلاع دینے گیا! (جاری ہے) کیا حور ٹھیک ہوجائے گی؟ ہسپتال کا بِل ۔ ۔ ۔ ایک نئی پریشانی، کیسے حل ہوگی؟ کیا ساحل واپس حور کو چھوڑ کر واپس دبئی چلا جائیگا؟ کیا کہانی کا اختتام جدائی ہے؟ یا پھر نہیں؟ کیا اشیاء کی محبت، احساس کی محبت پر غالب آجائے گی؟ پڑھئے ۔ ۔ ۔ کل آخری قسط! (حور - - - اویس سمیر)

جمعہ، 4 ستمبر، 2015

September 04, 2015 at 09:52PM

"حور"۔۔۔ قسط: 27 ۔۔۔ تحریر: اویس سمیر۔۔۔ (گزشتہ سے پیوستہ) میں اس کے بستر کے کنارے سر ٹکا کر بیٹھا ہوا تھا، میرے سر پر اس ہی شفیق ہاتھ کا لمس محسوس ہوا، میں نے ماں کی گود میں سر رکھ دیا، نہ جانے کتنے آنسو ان کی گود میں گرا دئے، وہ میرے بالوں میں اپنی انگلیوں سے کنگھی کرتی رہیں۔ ان کے لب ہلتے رہے، دعائیں کرتی رہیں مجھ پر دم کرتی رہیں، بہت سکون مل رہا تھا، میری اس وقت بس ایک ہی دعا تھی، اللہ میری حور کو اچھا کردے۔ ڈاکٹر کے مطابق حور ہوش میں تو آ گئی تھی، مگر مستقل نقاہت میں تھی، کبھی اس پر بیہوشی طاری ہوجاتی تو کبھی بہتری کی طرف جاتے جاتے پھر بگڑ جاتی، میں بہت پریشان تھا، اور پھر یہ ایک نہیں دو جانوں کا سوال تھا ۔ ۔ ۔! (اب آگےپڑھئے) میں ساری رت جاگتا ہی رہا، نیند میری آنکھوں سے کوسوں دور تھی، اماں میری گرتی ہوئی صحت دیکھ کر بہت پریشان تھیں، میں کرتا بھی کیا، ان حالات میں کس کو کھانے پینے کا ہوش تھا، آںکھوں کے گرد حلقے تھے کو مزید بڑھ کر میرا سراپا خوفناک بنا رہے تھے۔ پھر بھی میں نے ضد کرکے اماں کو گھر بھیج دیا تھا وہ بھی مستقل یہاں رہنے سے تھک گئیں تھیں، اور اصل بات یہ بھی تھی کہ میں اپنی حور کی دیکھ بھال خود کرنا چاہتا تھا، رات بھر اس ہی امید میں رہا کہ حور کب آنکھیں کھولے اور مجھ سے باتیں کریں، ۔ ۔ ۔ بھلے بات نہ کرے مگر میری جانب آنکھ اُٹھا کر ہی دیکھ لے، مجھے باتوں کیلئے الفاظ کی ضرورت نہیں، حور سے میں آنکھوں آنکھوں میں ہی بہت باتیں کرسکتا تھا۔ مگر اس رات حور نہ جاگی۔ "حور ۔ ۔ ۔دیکھو نا ۔ ۔ میں لوٹ آیا، یاد کرو تم نے ایک دفعہ کہا تھا کہ تمہیں ایسی محبت کی چاہ ہے جو کھو دینے کا خوف نہ رکھتی ہو، دیکھو میں لوٹ آیا تمہارے لئے، اب وہی محبت ہوگی جیسا تم چاہتی ہو" "حور ۔ ۔ ۔ تمہیں پتا ہے؟ ایک بات جو میں نے نہ جانے کب سے تم سے چھپائی ۔ ۔۔ بولو؟ بتا دوں؟ پتا ہے شادی سے قبل میں نے ایک بار بھی تمہاری تصویر نہیں دیکھی تھی، مجھے سرپرائز بہت پسند تھے، اور دیکھو اللہ نے پھر مجھے تمہاری صورت زندگی کا ایک انمول سرپرائز دیا" "یاد ہے حور، جب میں نے پہلی بار باہر جانے کا فیصلہ کیا تھا، تو تم کیسی روہانسی سی ہوگئیں تھیں! اور تم مجھ سے شکایت کرتی کرتی مجھ میں سمٹنے لگیں تھیں! اس دن میں نے مزید سرد مہری دکھائی تھی، کیوں؟ کیوں کہ مجھے تمہارا مجھ میں سمٹنا بہت بھلا لگ رہا تھا" "اور ہاں حور۔۔ جب پہلی بار تم ناراض ہوئیں تھیں تو تمہیں کیسے منایا تھا؟ یاد ہے؟ نہ کچھ کہا تھا نہ کچھ سُنا، وہ ساری باتیں آنکھوں ہی آنکھوں میں ہوگئیں تھیں، پتا ہے ۔ ۔ ۔ تمہارا یوں میرے کاندھے کو سختی سے بھینچ لینا ہی مجھے بتلا گیا کہ اب ہمارے درمیان کوئی خلا نہیں!" "اور ہاں ۔ ۔ ۔ یہ چوڑیاں ۔ ۔ یہ تمہاری ان نازک کلائیوں میں ہی اچھی لگتی ہیں! انہیں اپنے ہاتھ سے اُتارنے اور مجھ پر وارنے کیلئے اتنی بےتاب نہ ہوا کرو" اور ۔ ۔ نہ جانے کتنی ساری باتیں میں اس سے کرتا جارہا تھا، وہ آنکھیں بند کئے بستر پر دراز تھی، شاید سُن رہی تھی، یا شاید نہیں، مگر مجھے تو یہ سب کچھ اس سے کہنا تھا، اس کو بتانا تھا، اور میں کہتا ہی گیا، نہ جانے کتنے گھنٹے گزر گئے، میں اس وقت رُکا جب میرے کانوں میں فجر کی اذان کی آواز آئی اور میرے ہاتھ بےاختیار دعا کے لئے اُٹھ گئے، آنسو میری آنکھوں میں تھے، ہاتھ بلند ، جس قدر اللہ سے بھلائیاں مانگ سکتا تھا مانگتا گیا، نماز کا وقت ہوگیا تھا میں نے وضو کیا اور نماز ادا کی، نماز پڑھ کر بھی دعاؤں میں ہی مشغول رہا، اور پھر وہیں بستر سے سر ٹکا دیا، نہ جانے کب میری آنکھ لگ گئی۔ صبح ہوچکی تھی ۔ ۔ ۔ حور بدستور غنودگی میں تھی، ہسپتال کا اسٹاف کمرے کی صفائی اور چادر وغیرہ بدلنے کے لئے آیا ہوا تھا، ایک نرس بھی ساتھ تھی، اس کے ہاتھ میں کچھ رپورٹس تھیں جن پر وہ پین سے کچھ لکھ رہی تھی، پھر وہ میری جانب متوجہ ہوئی اس نے میرا مریضہ سے رشتہ پوچھا اور پھر ساری تفصیلات بتانے لگی، اس کی ساری باتوں کا لب لباب صرف یہ تھا کہ ، "ابھی کچھ بھی کہنا قبل از وقت ہے، بڑے ڈاکٹر صاحب آکر ہی تفصیل بتائیں گے"، خیر جہاں اتنا انتظار کیا تھا وہاں اور کرلیتا مجھے بہرحال اللہ سے مانگی گئیں اپنی دعاؤں پر اتنا تو بھروسہ تھا کہ وہ کسی دعا کو رد نہیں کرے گا۔ مجھے انتظار کرتے کرتے کئی گھنٹے گزر چکے تھے، گھڑی دیکھنا چھوڑ چکا تھا، بس وقت کے بہاؤ کے ساتھ بہتا چلا جارہا تھا، کافی دیر بعد ڈاکٹر صاحب کی آمد ہوئی، ان کی آمد کے ساتھ ہی سارا اسٹاف اپنے اپنے کاموں میں لگ گیا، میری جانب آتے آتے ان کو مزید ایک گھنٹہ لگ چکا تھا، جب تک میں مزید ذہنی دباؤ کا شکار ہوچکا تھا۔ وہ میری جانب آئے، رپورٹ دیکھنے لگے، میں نے بےصبری سے کچھ ۔۔ بلکہ بہت کچھ پوچھنا چاہا جسے انہوں نے شان بے نیازی سے ہاتھ کے اشارے سے روک دیا، "نہ جانے کیسے اتنے بےرحم ہوجاتے ہیں لوگ"، میں نے سوچا۔ بہت دیر بعد وہ گویا ہوئے، "چونکہ مریضہ کی جسمانی کمزوری، کومہ اوردوسری کامپلیکیشنز کی وجہ سے یہ کیس بگڑ چکا ہے، لہذا میں یہ مشورہ دوں گا کہ آج ہی آپریشن کرا دیں تاکہ زیادہ لیٹ ہونے سے مزید خرابیاں ہونے سے بچ جائیں" مجھے نہیں معلوم تھا کہ کیا کہہ رہا ہے، کیوں کہہ رہا ہے، آج رات آپریشن کا وقت دے دیا گیا تھا۔ رات آپریشن شروع ہوا، بھائی بھی آچکے تھے، اور آتے ہی ان پر ایک کام کا بوجھ خون کا بندوبست کرنا تھا، میں نے بھی خون کے لئے اپنے دوستوں کو فون کرنا شروع کردیا، اللہ اللہ کرکے بندوبست ہوا، آپریشن اسٹارٹ ہوچکا تھا، اماں، بھائی اور میں باہر بیٹھے تھے، ماحول میں ٹینشن جیسے کوٹ کوٹ کر بھر دی گئی تھی، اچانک آپریشن تھیٹر کا دروازہ کھُلا، ڈاکٹر صاحب نے مجھے ساتھ آنے کا اشارہ کیا، اندر تھیٹر کی جانب ایک طرف لے جا کر مجھے کہنے لگے، "صبح میں آپ سے ذکر کر چکا تھا، کیس بگڑ چُکا ہے، ابھی صورتحال مزید واضح ہوئی ہے، مجھے افسوس ہے ہم ماں اور بچے میں سے کسی ایک کو ہی بچا سکتے ہیں ۔ ۔ ۔ " میرا خون کھول رہا تھا، ڈاکٹر میری جانب حیران نظروں سے دیکھنے لگا، میں نے ان کی طرف دیکھ کر کہا ، "ڈاکٹر صاحب، جائیے جو آپکی ذمہ داری ہے وہ پوری کیجئے" "دیکھو، آپ کو ایک فیصلہ کرنا پڑیگا ۔ ۔ "، اس کے الفاظ ابھی زبان پر ہی تھے کہ میں نے جھپٹ کر اس کا گریبان پکڑ لیا "کیسا فیصلہ ۔ ۔؟؟" میں چینخا! ۔ ۔ ۔"تم کون ہوتے ہو جان بچانے والے؟" میں بےقابو ہورہا تھا، "زندگی دینے والی ذات صرف اللہ کی ہے اللہ کی!" میں نے اس کو جھٹکا دیا "جاؤ جا کر اپنی کوشش کرو ۔ ۔ مجھے نہیں کرنا کوئی فیصلہ ویصلہ ،، ، " وہ دیوار سے لگا خوف زدہ نظروں سے مجھے دیکھ رہا تھا "ساحل ساحل ۔۔ چھوڑو اسے ۔ ۔ دور ہٹو ۔ ۔ " ، بھائی دوڑتے ہوئے آئے اور مجھے چھڑانے لگے۔ (جاری ہے)

جمعرات، 3 ستمبر، 2015

September 03, 2015 at 09:50PM

"حور"۔۔۔ قسط: 26 ۔۔۔ تحریر: اویس سمیر۔۔۔ (گزشتہ سے پیوستہ) اُدھر حور کی طبیعت دن بدن خراب ہوتی چلی جارہی تھی، میں اس جانب سے بہت فکر مند تھا۔ میں وطن واپس لوٹنے کی تیاری کرنے لگا، حالات کچھ اس نہج پر تھے کہ میں کچھ اور سوچنے سمجھنے کے قابل نہیں رہا تھا۔ جتنا جلدی جو کچھ ہو سکتا تھا میں نے کیا، میرے واپس لوٹنے تک حور کومہ میں جاچکی تھی۔ (اب آگےپڑھئے) مجھے نہیں پتا تھا کیا ہوا کیسے ہوا، کسی پل میں آفس میں تھا تو کسی پل میں اپنے پاسپورٹ کے لئے تگ و دو کر رہا تھا، کسی پل میں ٹکٹ کے لئے بھاگ رہا تھا تو کسی وقت مسجد میں بیٹھا آنسو بہا رہا تھا، نہیں معلوم کب مجھے ٹکٹ ملا کب میں نے وہاں سے دوڑ لگائی، فلائٹ کب کی تھی، کتنے گھنٹے میں سفر میں رہا ۔ ۔ مجھے بس اتنا معلوم تھا کہ مجھے حور کے پاس پہنچنا ہے، ایئر پورٹ سے سیدھا نکل کر میں اس ہی جانب گیا ۔ ۔ میں ہسپتال میں داخل ہوا، بکھرا حلیہ، نقاہٹ چہرے پر، سفر کی تھکن، ہاتھ میں سفری بیگ، جیب خالی، ایسا لگتا تھا جیسے تھکن سے گِر جاؤں گا، پاؤں درد سے اینٹھ رہے تھے، ایک ایک قدم مَن مَن بھر بھاری ہورہا تھا، شاید حور کو دیکھنے کی ہمت مجتمع نہیں کر پارہا تھا میں کاؤنٹر پر گیا، میرے منہ سے صرف اتنے ہی الفاظ نکلے، "حور ساحل"، اس سے آگے میں کچھ نہیں بولا کاؤنٹر پر بیٹھی لڑکی نے ایک نظر مجھ پر ڈالی پر کمپوٹر میں کچھ انڈر کیا، "سر کمرہ نمبر 044" ، وہ بولی چوتھے فلور تک کا سفر، اور اب میں کمرہ نمبر چوالیس کے دروازے کے سامنے کھڑا تھا، فلور پر کمروں کی قطاریں موجود تھیں، جانے ہر کمرے میں ایک الگ کہانی ہوگی، کسی کی ماں، کسی کا باپ، کسی کی حور تو کسی کا ساحل، یہی زندگی کی داستان ہے یہی سانسوں کی ڈور، کب ای سی جی مشین پر ابھرتی دل کی دھرکن کی بیپ ایک لمبی ٹون میں تبدیل ہوجائے، اور بس ۔۔۔ روز و شب کے میلے میں، غفلتوں کے مارے ہم، بس یہی سمجھتے ہیں، ہم نے جس کو دفنایا، بس اس ہی کو مرنا تھا۔ شاید ہم زندگی کی حقیقت نہیں سمجھتے، یا سمجھتے ہیں تو ماننے سے انکار کرتے ہیں، اپنی زبان سے نہیں تو اپنے عمل سے ضرور، نہ جانے کیوں اس زندگی کو ایک انتظار گار ایک امتحان گاہ سمجھ کر نہیں گزارتے! میں نے دروازے کے لاک کو گھما کر زور دیا اور اندر داخل ہوگیا، بستر پر میری حور تھی، ہاں ۔۔ یہ میری حور تھی ، ، نہیں ۔۔۔ یہ میری حور نہیں ہوسکتی، میں زمین پر بیٹھ گیا، میں آنسوؤں کو روک نہیں پایا، اچھا تھا کہ کوئی کمرے میں نہیں تھا، ورنہ مجھے بالکل بھی بھلا نہیں لگتا اگر کوئی اس وقت مجھے روکتا یا دلاسا دیتا، مجھے رونا تھا، جی بھر کر، مجھے اس غم کو اپنے آنسوؤں کی صورت بہانا تھا، شاید کہ اس سے میرے دل کی بےچینی کم ہوجاتی، کیوں ساحل؟ کیوں کیا تم نے ایسا؟ بولو؟ کیا بگاڑا تھا حور نے تمہارا، صرف ایک ہی تو خواہش تھی، صرف تمہارا ساتھ ہی تو مانگا تھا، کیوں ساحل کیوں؟ میں خود سے سوال کرتا جاتا اور بلکتا جاتا تھا۔ میں اُٹھا، اور حور کے پاس جا پہنچا، بند آنکھیں سپاٹ پیلا پڑتا چہرہ، ہاتھوں میں گھپی سوئی کی نوکیں، جن کے دوسری جانب کئی ساری ڈرپیں لگی تھیں، وہ رعنائی، وہ گرمجوشی، وہ چمکتی آنکھیں، وہ کھلکھلاہٹ، کدھر گئی میری حور، کئی لمحے گزر گئے میں اس کو دیکھتا رہا، میں اس کے سرہانے بیٹھ گیا، اس کا ہاتھ تھام لیا، اس لمس کی چاہت مجھے کتنے دنوں سے تھی، برف جیسا ٹھنڈا ہاتھ، ایک ایک لمحہ مجھے یاد آرہا تھا، وہ لمحہ جب حور رخصت ہو کر میرے دل کی دھڑکن بنی، وہ لمحہ جب میں نے اس کا گھونگٹ اُٹھا کر واقعتاً ایک حور کا روپ دیکھا،وہ لمحہ جب میں نے اس کے دونوں ہاتھ چوڑیوں سے بھر دئے، وہ لمحہ جب بارش میں ہم دونوں بھیگ گئے، وہ سارے لمحے جب ہم ایک دوسرے کی چاہتوں میں کھوئے رہے، وہ لمحہ جب اس نے میری بیماری میں اپنی طبیعت کی پرواہ نہ کی، وہ لمحہ جب میرے کاندھے کو وہ مضبوطی سے تھامے رہی، وہ لمحہ جب میری مالی پریشانی کو دیکھتے ہوئے اس نے اپنی چوڑیاں مجھے دینا چاہیں، وہ لمحہ جب جدائی کے تصور نے ہمیں ایک دوسرے کے اور قریب لا کھڑا کیا تھا، وہ لمحہ جب ساحل سمندر پر اس نے چلتے چلتے اچانک رک کر مجھ سے وہ محبت مانگنی جس میں ڈر کی آمیزش نہ ہو، اور ہر وہ لمحہ جب اس کی معصوم کھلکھلاہٹ ساری آوازیں گم کردیتی اور صرف حور کی کھلکھلاہٹ ہی چار سو رہ جاتی ۔ ۔ میں اس کے چہرے پر جھکا ہوا تھا، ایک ایک کرکے سارے لمحے میری آنکھوں کے سامنے آتے جاتے، میری آنکھ سے نادانستہ طور پر ایک آنسو ٹپکا اور حور کے چہرے پر لڑھک گیا، شاید میری گرفت اس کے ہاتھ پر مضبوط تھی، اس کے بدن میں ارتعاش ہوا، اس کی آنکھیں کھلیں، بہت کم، بہت مدھم، نیم وا آنکھوں سے اس نے میری جانب دیکھا، لب ہلے، شاید کچھ کہنا چاہتی تھی مگر کہہ نہ سکی، شاید کہ "اتنی دیر ساحل؟"، اس نے کچھ لمحے مجھے دیکھا اور پھر آنکھیں بند کرلیں، بہت تھک بھی تو گئی تھی دُکھ سہتے سہتے۔ --------- میں اس کے بستر کے کنارے سر ٹکا کر بیٹھا ہوا تھا، میرے سر پر اس ہی شفیق ہاتھ کا لمس محسوس ہوا، میں نے ماں کی گود میں سر رکھ دیا، نہ جانے کتنے آنسو ان کی گود میں گرا دئے، وہ میرے بالوں میں اپنی انگلیوں سے کنگھی کرتی رہیں۔ ان کے لب ہلتے رہے، دعائیں کرتی رہیں مجھ پر دم کرتی رہیں، بہت سکون مل رہا تھا، میری اس وقت بس ایک ہی دعا تھی، اللہ میری حور کو اچھا کردے۔ ڈاکٹر کے مطابق حور ہوش میں تو آ گئی تھی، مگر مستقل نقاہت میں تھی، کبھی اس پر بیہوشی طاری ہوجاتی تو کبھی بہتری کی طرف جاتے جاتے پھر بگڑ جاتی، میں بہت پریشان تھا، اور پھر یہ ایک نہیں دو جانوں کا سوال تھا ۔ ۔ ۔! (جاری ہے)

بدھ، 2 ستمبر، 2015

September 02, 2015 at 11:39PM

"حور"۔۔۔ قسط: 25 ۔۔۔ تحریر: اویس سمیر۔۔۔ (گزشتہ سے پیوستہ) ادھر حور کا بھی الگ ہی حال تھا، وہ اپنی زبان سے تو صرف یہی بیان کرتی کہ وہ "ٹھیک" ہے، مگر اس کی اصل حالت کا علم مجھے امّاں اور گھر کے دوسرے افراد سے ہوتا تھا، وہ نہ تو اب کسی سے زیادہ بات کرتی تھی نہ ہی خود کو مصروف رکھنے کیلئے کوئی مشغلہ اختیار کرتی، اس کی صحت دِن بدِن گر تی جارہی تھی، وہ بیمار رہنے لگی تھی، اُسکی کھلکھلاہٹ تو جیسے کسی اور ہی دنیا جا بسی تھی، امّاں نے کچھ دن اُس کو میکے بھیجا شاید دل بہل جائے مگر جلد ہی وہ واپس چلی آئی، اماں کے پوچھنے پر بس اتنا جواب دیا کہ، "اس گھر سے ساحِل کی نسبت ہے"، کبھی تو اس قدر پُر سکون ہوتی اور کبھی اس قدر بےچین گویا اس کے دل میں ایک طوفان ہو جا پھٹ پڑنے کو تیار ہو۔ ایک دن میں آفس میں تھا کہ میرے پاس فون آیا، کال ریسیو کی تو دوسری جانب بھائی جان تھے، میرے بار بار پوچھنے پر صرف اتنا بتایا، "آج صبح کام کرتی کرتی گِر گئی تھی، حور کی طبیعت بہت خراب ہے ساحل، ہم ہسپتال میں ہیں" (اب آگےپڑھئے) میں پہلے ہی گھر سے دوری کی وجہ سے پریشان تھا میرے لئے تو یہ خبرجیسے ایک قیامت بن کر نازل ہوئی تھی ، اس صورتحال میں میں خود کو کیسے سنبھالتا، کچھ دیر تو میں نے اپنے آپ پر قابو پانے کی ہر ممکن کوشش کی مگر سب بےسود میں ، فون میرے ہاتھ سے گر چکا تھا، میں مدہوش ہوچکا تھا، فون پر کچھ دیر بھائی میرا نام پاکرتے رہے مگر پھر جیسے ہر جانب خاموشی سی طاری ہوگئی۔ ہر جانب اندھیرا تھا، اِس اندھیرے میں میں بھٹکنے لگا، کبھی اپنے دائیں جاتا تو کبھی بائیں مگر ہاتھ کو ہاتھ سجھائی نہ دیتا، مجھے میرا راستہ نہ ملا، مگر میں نے کوشش کرنی بند نہ کی، آخر کار تھک ہار کر اللہ کے سامنے سر جھکا دیا، میں سجدے میں گِر چکا تھا، میری ہر امید میرے اللہ سے وابستہ تھی، نہ جانے کتنی دیر میں سجدے میں سر جھکائے پڑا رہا، میرے ہر جانب اندھیرا ہی اندھیرا تھا، مجھے روتے روتے نہ جانے کتنی دیر ہوچکی تھی، پھر ایک شفیق سا ہاتھ میرے سر پر آیا، کوئی ہولے ہولے میرے سر پر ہاتھ پھیر رہا تھا۔۔۔ میں اس ہاتھ کے لمس کو اچھی طرح پہچانتا تھا، جب میں ننھا سا تھا تو یہی ہاتھ مجھے انگلی پکڑ کر کھڑا کرتا تھا، یہی ہاتھ مجھے سہارا دیتا تھا، اس ہی ہاتھ کا لمس تھا کہ میں روتے روتے چُپ ہوجاتا تھا، یہی ہاتھ تھا کہ گھر آنے کے بعد جب تک میرے سر پر اس کا لمس نہ ثبت ہوتا مجھے چین نہ آتا، یہی ہاتھ تو میری پہلی محبت تھا، میری ماں کا ہاتھ، ہر لمحے میری لئے رونے والا دعا دنے والا۔۔۔ میں نے سر اٹھایا، ہاں شاید ماں ہی تھیں، میں ان کی گود میں سر رکھ دیا، اور بلک بلک کر رونے لگا، "ماں ۔۔ کیا یہ سزا ہے؟ یا یہ امتحان ہے؟"، ماں کچھ نہ بولی، بس اس کے لب ہلتے رہے نہ جانے وہ میرے لئے کیا کیا دعائیں کر رہی تھیں۔ پھر نہ جانے کیا ہوا کہ میرے گرد موجود اندھیرا چھَٹنے لگا، میں اُٹھ کھڑا ہوا، ایک نور کا ہالہ میرے اطراف میں تھا۔۔۔ شاید میں ہسپتال میں تھا، شاید وہ دل کا دورہ تھا، یا کچھ اور ۔۔ مگر وہ خبر سُن کر میں اپنے ہوش میں نہ رہا تھا، فون میرے ہاتھ سے گر گیا تھا، آفس میں ساتھ والے مجھے اُٹھا کر ہسپتال لے آئے ، باقی میری ماں کی دعا اور توجہ تھی کہ میں ٹھیک رہا، اگلے چوبیس گھنٹوں میں میں بہتر ہوچکا تھا، فون منع تھا، بستر سے اٹھنے کی اجازت ملتے ہی فوراً اپنے گھر کال ملائی، بھائی سے بات ہوئی، انہیں میں نے اپنی طبیعت کے حوالے سے کچھ بھی نہیں بتایا، وہ پوچھتے رہے کہ کیا ہوا تھا اور میں نے فون کیوں بند کردیا تھا مگر میں ٹالتا رہا۔۔۔ ان ہی کی زبانی مجھے معلوم ہوا کہ اماں اُس وقت سے اب تک جائے نماز پر بیٹھی میرے اور حور کے لئے دعائیں کر رہی ہیں۔ حور بدستور ہسپتال میں ہی تھی، میرا بےچینی سے برا حال تھا، نہ جانے کیا ہوگیا تھا، اگلا دن آفس گیا، واپسی کے بعد سارا وقت مسجد میں بیٹھا دعائیں مانگتا رہا۔ نہ کھانے کا ہوش تھا نہ ہی پینے کا، حور کا موبائل بند تھا، شام میں بھائی کو کال کی، "بھیا! حور کیسی ہے؟"، میں نے پوچھا۔ "بہتر ہے، گھر واپس آگئی ہے ڈاکٹر نے کہا ہے کہ بہت کمزوری ہے، اس حالت میں کمزوری بہت برا اثر ڈلتی ہے، اس لئے فوری طور پر کئی ڈرپ چڑھائی گئیں اور بعد ازاں صحت کو معمول پر لانے کے لئے وٹامنز ۔ ۔ ۔ " بھائی نہ جانے کیا کیا بولے جارہے تھے مگر میرا ذہن و دل ان کے اس لفظ پر رُک گیا، "اس حالت" میں؟کیا کہہ رہے ہیں بھائی، کس حالت کی بات کر رہے ہیں؟ میں سمجھا نہیں!"، میں نے پوچھا "ساحل ۔۔ ان شاءاللہ بہت جلد اللہ تم کو خوشیاں دے گا۔۔" میرا دل خوشی سے جھوم سا گیا "کیا میری حور سے بات ہوسکتی ہے؟"، میں نے بےتابی سے پوچھا، اب اور انتظار کی سکت مجھ میں نہ تھی! "ساحل ۔۔ وہ تو ابھی آرام کر رہی ہے، ہاں جیسے ہی وہ نارمل ہوتی ہے میں اس کی تم سے بات کراتا ہوں"، بھائی نے کہا۔ "مگر بھائی ۔۔ " ، میں نے کچھ کہنا چاہا ۔۔ مگر بھائی نے ہسنتے ہوئے کہا کہ ، "ارے اتنی بھی کیا بےصبری ساحل ۔۔ میں سمجھ سکتا ہوں، مجھ پر بھروسہ کرو"۔ تقریباً پانچ گھٹے بعد میرے موبائل کی گھنٹی بجی اور میں نے ایک سیکنڈ ضائع کئے بغیر وہ فون اُٹھا لیا۔ دوسری جانب حور کی نقاہت بھری آواز آئی ۔۔ "ساحل" اس نے کہا۔ "ہاں حور بولو میں سن رہا ہوں۔۔ ۔ " میری آواز بھرا سی گئی تھی۔ "ساحل ۔۔ مجھے آپ کی ضرورت ہے۔" "میں تمہارے پاس آجاؤں گا حور بہت جلد تم فکر نہ کرو"، میری بات میں ایک یقین سا تھا "مجھے یقین ہے ساحل آپ جلد میرے پاس آجاؤ گے" "ان شاءاللہ" میں نے جوا ب دیا اس وقت زیادہ بات نہ ہوئی، حور کی طبیعت اس قابل نہیں تھی کہ وہ زیادہ بات چیت کرسکے -------- اللہ نے حور سے میرے وعدے کا بھرم رکھ لیا، لیکن وہ کہتے ہیں نا کچھ پانے کے لئے کچھ کھونا پڑتا ہے، کچھ ایسا ہی میرے ساتھ بھی ہوا میری نوکری کو دو ماہ مکمل ہونے والے تھے، ایک دن صبح میں آفس پہنچا تو مجھے اطلاع دی گئی کہ ویزہ پالیسی میں کچھ تبدیلی کی وجہ سے تین ماہ کے ویزوں کو دو ماہ میں تبدیل کردیا گیا ہے، لہذا میرا اور مجھ جیسے دوسرے ملازمین کا ویزہ ختم ہوچکا تھا جس کے بعد ہمیں واپس بھیج دیا جانا تھا جب تک کہ کمپنی دوبارہ ویزہ جاری نہ کردیتی، یہ میرے لئے ایک بہت بڑا مسئلہ تھا، کیوں کہ اب تک تو صرف میرے پاس اتنے ہی پیسے جمع ہوئے تھے کہ میں اپنے اوپر موجود قرض، کمیٹی کے پیسے اور چند ماہ کا خرچ اٹھا سکوں، اس سے زیادہ اگر کچھ بھی ہوتا تو میر ے لئے بہت مسائل کا باعث ہوسکتا تھا۔ اُدھر حور کی طبیعت دن بدن خراب ہوتی چلی جارہی تھی، میں اس جانب سے بہت فکر مند تھا۔ میں وطن واپس لوٹنے کی تیاری کرنے لگا، حالات کچھ اس نہج پر تھے کہ میں کچھ اور سوچنے سمجھنے کے قابل نہیں رہا تھا۔ جتنا جلدی جو کچھ ہو سکتا تھا میں نے کیا، میرے واپس لوٹنے تک حور کومہ میں جاچکی تھی۔ (جاری ہے)

منگل، 1 ستمبر، 2015

September 01, 2015 at 10:20PM

"حور"۔۔۔ قسط: 24 ۔۔۔ تحریر: اویس سمیر۔۔۔ (گزشتہ سے پیوستہ) "آر یو آل رائیٹ سر؟" کسی نے میرا کندھا پکڑ کر جھنجوڑا، "سر کیا آپ ٹھیک ہیں؟"، کسی مرد کی آواز میری سماعت سے ٹکرائی مسافروں کی باتیں، بھنبھناہٹ، مائیک پر ایئر ہوسٹرس کا سیٹ بیلٹ باندھنے کا اعلان، جہاز کے پہیوں کی زمین پر لگنے کی گڑگڑاہٹ اور دھمک، سب کچھ معمول پر آچکا تھا "تو کیا یہ سب ایک خواب تھا۔۔؟"، میں نے سوچا (اب آگےپڑھئے) "سر کیا میں آپ کی مدد کرسکتی ہوں؟" ، اب شاید جہاز کی ایئر ہوسٹس بھی اس جانب متوجہ ہوچکی تھی "نہیں، میں ٹھیک ہوں!"، میں نے جواب دیا جہاز لینڈ کرچکا تھا، مسافر اپنی اپنی سیٹوں سے اُٹھ چکے تھے اور باہر کی جانب جارہے تھے، میں نے کچھ دیر رَش چَھٹنے کا انتظار کیا اور پھر اپنا سامان سمیٹ کر باہر کی جانب نکلنے لگا ایک عجیب سی سنسناہٹ میرے سارے بدن میں دوڑ گئی۔ ایک عجیب سا ڈر کہ نہ جانے کیا ہو، نہ جانے کب تک یہاں رہنا پڑے، گھر سے اور اپنوں سے دور کیا ماحول ملتا ہے، بہت سی سوچیں تھیں مگر اللہ کا نام لے کر قدم رکھا، گھر والوں کی دعائیں تھیں اور سب سے بڑھ کر حور کے آخری الفاظ میرے لئے کسی آبِ حیات سے کم نہ تھے۔ یوں میں نے اپنے نئے دور کا آغاز کیا، حور سے رابطے میں تھا، اپنے ملک میں آفس جاتا تو میرا وہاں رکنا محال ہوتا، یہاں تو نہ جانے کب تک میں گھر سے دور رہتا، مجھے بالکل سمجھ نہیں آرہا تھا کہ کیا کروں ۔۔۔ پہلے دن آفس گیا، اچھا ماحول تھا، اچھے لوگ اور کام بھی نہایت آسان اور کم تھا، میں آدھے دن میں ہی اپنا سارا کام نمٹا کر فارغ ہوجاتا، پھر وقت پورا ہوتے ہی گھر واپسی، اب گھر پہنچ کر وقت گزارنا ایک الگ مسئلہ تھا، پہلے دوسرے دن تو تھوڑا بہت گھوم پھر لیا تو دل بہل گیا مگر اس کے بعد کیا کرتا، پھر جیسے جیسے رات ہوتی گئی تو ویسے ویسے میرے ذہن و دماغ میں پرانی یادیں میں تازہ ہوتی گئیں، پھر اس میں شدت پیدا ہوتی گئی۔ میں نے طے کیا ہوا تھا کہ حور سے بات ہوگی تو کسی قسم کی دکھ دینے والی بات نہ کروں گا مگر کال آئی تو جیسے سارے ضبط ٹوٹ گئے، "حور ۔۔۔ ۔ ۔ ۔ "، میں نے مدھم آواز میں کہا میری آواز ہلکی سی بھرائی مگر میں نے خود پر قابو رکھا، حور سن اور سمجھ چکی تھی وہ ضبط نہ کرسکی اور رونے لگی، میں اس کو چُپ کرانے لگا مگر پھر میری آواز بھی لرز گئی، ضبط کرتا مگر کتنا، اتنے دن گزارنے تھے، ایسا تو کبھی سوچا بھی نہ تھا جیسا ہوگیا تھا وہ روتی رہی، میں سسکتا رہا، پھر بہت دیر میں نے اس کو نہیں روکا، رونے دیا، اگر بند کمزور ہو تو طوفان کے آگے نہیں باندھا کرتے! ہماری روز بات ہوتی مگر روز ہی ہماری کیفیت وہی ہوتی، بس آنسو تھے، آہیں تھیں، اور بس۔۔۔! کئی ہفتے گزر گئ ےتھے مگر یہ ماحول مجھے راس نہیں آیا، شاید میں مشین بن کر کام کرنے کے لئے نہیں بنا تھا، میں حساس تھا، مجھے کسی مادی اشیاء سے زیادہ محبت، جذبات و احساسات کی فکر تھی۔ وہ کہتے ہیں نا کہ بعض لوگ اس قدر غریب ہوتے ہیں کہ سوائے پیسے کہ ان کے پاس کچھ نہیں ہوتا، اور بعض اس قدر امیر کہ محبت سے سہارے ساری زندگی گزار دیتے ہیں، شاید میں دوسری قسم والوں میں سے تھا۔ گن گن کر دن گزار رہا تھا، دن تو جیسے تیسے گزر جاتا مگر راتیں حور کا تصور کرتے ہی گزرتیں، نوبت یہاں تک پہنچ گئی کہ آفس والوں نے بھی اس بات کو نوٹ کر لیا کہ میں جسمانی طور پر تو یہاں موجود ہوتا ہوں مگر میرا ذہن کہیں اور ہی ہوتا ہے، یوں پورا ایک مہینہ گزر گیا، ایک ماہ ۔ ۔ ۔ ہاں ۔ ۔ پورا ایک ماہ گزر گیا تھا،کہاں آٹھ گھٹے کہ میں اس کے بغیر نہیں رہ سکتا تھا اور کہاں یہ نوبت تھی کہ ایک ماہ گزار چکا تھا، آٹھ گھنٹوں اور ایک ماہ کا موازنہ کرو، میرا کھانا میرا پینا میرا اوڑھنا بچھونا میرا ہر انداز و طور بدل چکا تھا۔۔ -------- ادھر حور کا بھی الگ ہی حال تھا، وہ اپنے منہ سے تو صرف یہی بیان کرتی کہ وہ "ٹھیک" ہے، مگر اس کی اصل حالت کا علم مجھے اماں اور گھر کے دوسرے افراد سے ہوتا، اب نہ کسی سے زیادہ بات کرتی تھی نہ ہی کوئی مشغلہ، اس کی صحت دن بدن گر رہی تھی، وہ بیمار رہنے لگی تھی، اس کی کھلکھلاہٹ تو جیسے کسی اور ہی دنیا جا بسی تھی، اماں نے کچھ دن اس کو میکے بھیجا کہ شاید دل بہل جائے مگر جلد ہی وہ واپس چلی آئی، اماں کے کہنے پر بس اتنا کہا، "اس گھر سے ساحل کی نسبت ہے"، اس کے دل میں گویا ایک طوفان تھا جو پھٹ پڑنے کو تیار تھا۔ ایک دن میں آفس میں تھا کہ میرے پاس فون آیا، کال ریسیو کی تو دوسری جانب بھائی جان تھے، میرے بار بار پوچھنے پر صرف اتنا بتایا، "آج صبح کام کرتی کرتی گِر گئی تھی، حور کی طبیعت بہت خراب ہے ساحل، ہم ہسپتال میں ہیں" (جاری ہے)

پیر، 31 اگست، 2015

August 31, 2015 at 08:24PM

"حور"۔۔۔ قسط: 23 ۔۔۔ تحریر: اویس سمیر۔۔۔ (گزشتہ سے پیوستہ) میں نے اندر کی جانب قدم بڑھائے، گیٹ کے نزدیک پہنچ کر میں نے پیچھے دیکھا، سب کو ہاتھ ہلایا اور اندر آگیا۔ بورڈنگ پاس اور سارے معاملات کس طرح ہوئے مجھے یاد نہیں، میں جہاز میں بیٹھ چکا تھا، ایئر ہوسٹس نے مائیک پر اعلان کیا، اپنے موبائل فون بند کرلیں، ٹھیک اس ہی وقت میرا موبائل بجنا شروع ہوا، میں نے موبائل نکالا، اسکرین پر موجود نام دیکھ کر میرا دل بیٹھنے لگا۔۔۔ (اب آگےپڑھئے) "حور"۔۔۔ موبائل کی اسکرین پر ابھرنے والا نام کوئی اور نہیں حور کا تھا، وہ کیا کہنا چاہتی تھی، کیا ہوگیا، کہیں گھر جاتے کچھ نہ ہوگیا ہو، کہیں ایسا نہ ہو، کہیں ویسا نہ ہو، میرے ذہن میں بہت سے خدشات پلک جھپکتے کی تیزی میں آئے اور گزر گئے، "نہیں"۔۔ میں کچھ بھی برا نہیں سوچنا چاہتا تھا میں نے بےتابی سے موبائل کے ہرے بٹن کو دبایا، اور کان پر لگا لیا، "السلام علیکم؟" ۔۔۔۔ "حور۔۔۔؟؟"، میں نے کچھ سیکنڈ رُک کر کہا، دوسری جانب طویل خاموشی تھی، میرا دِل بیٹھا جارہا تھا، ہاں مگر اُس خاموشی میں بھی میں اس کی سانسوں کی آواز سُن سکتا تھا پھر اس کی آواز اُبھری، "ساحل، میں مطمئن ہوں، میں نے صرف اس لئے کال کی ہے تاکہ آپ کا سفر برا نہ گزرے، ساحل، میں نہیں چاہتی کہ جب آپ مجھ سے دور ہوں تو ہمارے درمیان کوئی ناراضگی، خوف، یا کوئی اور جذبہ ہو، ہمارے رشتے کی بنیاد محبت پر تھی، اور اس ہی محبت کو آگے بڑھنا چاہئے، مجھے دعاؤں میں یاد رکھیں ساحل، اللہ آپ کو خیریت سے منزل مقصود پر پہنچائے" اس نے اپنی بات مکمل کی، میرے سارے خدشات، خوف، وغیرہ سب کچھ ایک پل میں کافور ہوچکا تھا، میں یک دم سکون میں آچکا تھا، جیسے چاروں جانب ٹھنڈی ٹھنڈی ہوائیں چل رہی ہوں، یاخدا ۔ ۔ ۔ وہ دس دن کی ٹینشن اور تھکن، حور کے ان دو جملوں نے سب کچھ بھُلا دیا تھا، کتنا سکون مل گیا تھا، "اتنی دیر کیوں کی حور؟َ"، دل تو کہہ رہا تھا کہ اس سے شکوہ کردوں لیکن میں اس پَل کو اپنے آنے والے دِنوں کیلئے بچا کر رکھنا چاہتا تھا۔ "حور ۔۔۔۔ میری ساری دعائیں تمہارے لئے، مجھے تم سے کوئی شکوہ نہیں، تم نے جو کیا ایک اچھی بیوی ہونے کے ناطے اپنا فرض ادا کیا، اپنی خواہشات کو میری خواہشات پر ترجیح دی، حور ۔۔ میں دعا کرتا ہوں کہ ہم جلد مل جائیں۔ آمین"، میں نے بات مکمل کی، حور کی خوشی بھری کھلکھلاہٹ موبائل کے اسپیکر پر گونجی ایئر ہوسٹس نے مجھے فون بند کرنے کا اشارہ کیا، میں نے حور سے اجازت لی اور فون بند کردیا، جہاز کراچی کی فضاؤں میں بلند ہونے لگا، مکانات، عمارتیں، پارک، سب نیچے، بہت نیچے جانے لگے اور ذرات کی مانند ہوگئے، جہاز کی آواز مدھم ہونے لگی، جہاز فضا میں بلند ہوچکا تھا، میں نے سیٹ کی پچھلی جانب سر ٹِکا دیا، صبح کا اُٹھا ہوا تھا کچھ ہی دیر میں میں غنودگی آنے لگی۔ ------- وہ آواز تو میں ہزاروں آوازوں میں پہچان سکتا تھا، حور کے ہنسنے کی آواز کہیں قریب ہی سے مجھے سُنائی دی، میں نے چونک کر اپنے اطراف میں دیکھا، وہ مجھے سامنے سے آتی ہوئی نظر آئی، مجھے اپنی آنکھوں پر یقین نہیں آیا، "حور۔۔۔۔۔۔۔ تم؟"، میں نے حیرت سے پوچھا۔ "تم یہاں کیسے آئیں؟"، میں نے سوال کردیا وہی کھلکھلاہٹ جو ساری آوازیں مدھم کردیتی تھی، مسافروں کی باتیں، ایئر ہوسٹس کا مائیک پر اعلان کرنا، جہاز کا شور، سب کچھ پس منظر میں گُم ہوچکا تھا، سامنے تھا تو بس حور کا منظر اور اُس کی کانوں میں رس گھولتی آواز، "ساحل! آپ نے کیا سوچا تھا، میں اور آپ بھلا کبھی الگ ہوسکتے ہیں؟" اس نے ایک ادا سے کہا "مگر تم یہاں آئیں کیسے؟" میں ابھی تک حیرت میں تھا "آپ تو جانتے ہو ساحل، میں جب بھی اللہ سے پورے دِل سے جو بھی مانگتی ہوں اللہ کبھی بھی مجھے مایوس نہیں لوٹاتے، بس میں نے اپنے اللہ سے آپ کا ساتھ مانگ لیا، اور دیکھیں ہم ایک ساتھ ہیں اب" ، وہ چہکی "ہاں حور۔۔ اب ہم ساتھ رہیں گے ۔۔۔ کبھی الگ نہ ہونگے، تم نہیں جانتی تم نے یہ سب میری خاطر کرکے کتنا اچھا کیا ہے، بس اب کہیں مت جانا۔" ۔۔ ۔میں نے اس کا ہاتھ تھام کر کہا، مجھے لگا جیسے میں جیسے سکون کے سمندر میں غوطے لگا رہا ہوں، کئی لمحے یوں ہی گزر گئے، میں نہیں چاہتا تھا کہ یہ وقت گزرے "مجھے جانا ہوگا ساحل۔۔ " اس نے اچانک ہاتھ چھڑا تے ہوئے کہا، "مگر کہاں؟ ابھی تو تم نے خود کہا تھا کہ تم میرے پاس ہمیشہ کیلئے آگئی ہو؟" میں نے اس کے ہاتھ کو مضبوطی سے تھامتے ہوئے کہا "نہیں ساحل۔۔ بس مجھے چلنا ہے، میں اور دیر نہیں رُک سکتی"، اس نے ایک جھٹکے سے اپنا ہاتھ چھڑا لیا، میں حیرت سے اُسے دیکھ رہا تھا۔ "مگر حور جہاز ٹیک آف کرچکا ہے۔۔ حور ۔۔ "، میری آواز تیز ہوتی گئی، "حور ۔۔۔" میں چینخا ------- "آر یو آل رائیٹ سر؟" کسی نے میرا کندھا پکڑ کر جھنجوڑا، "سر کیا آپ ٹھیک ہیں؟"، کسی مرد کی آواز میری سماعت سے ٹکرائی مسافروں کی باتیں، بھنبھناہٹ، مائیک پر ایئر ہوسٹرس کا سیٹ بیلٹ باندھنے کا اعلان، جہاز کے پہیوں کی زمین پر لگنے کی گڑگڑاہٹ اور دھمک، سب کچھ معمول پر آچکا تھا "تو کیا یہ سب ایک خواب تھا۔۔؟"، میں نے سوچا (جاری ہے)

اتوار، 30 اگست، 2015

August 30, 2015 at 10:01PM

"حور"۔۔۔ قسط: 22 ۔۔۔ تحریر: اویس سمیر۔۔۔ (گزشتہ سے پیوستہ) اگلا سارا دن اس ہی دفتر کے چکر میں گزرا، دن کے اختتام پر ویزے کے کاغذات میرے پاس آگئے تھے۔ میں گھر میں داخل ہوا، عجیب سی کیفیت تھی، اتنا بڑا کام ہو گیا تھا مگر مجھے خوشی نام کو نہ تھی، عجیب سا بجھا بجھا سا ماحول، کچھ تو کمی تھی، شاید بہت بڑی کمی ہونے جارہی تھی۔ میں اپنے روم میں داخل ہوا، ٹکٹ ایک جانب ٹیبل پر رکھا، حور نے سوالیہ انداز میں میری جانب دیکھا میں نے اثبات میں سر ہلا دیا یعنی کام ہوگیا! ٹھیک تین دن بعد انتیس تاریخ کو میری فلائیٹ تھی۔ (اب آگےپڑھئے) اگلا ہی دن تھا، میں گھر سے باہر نکل رہا تھا کہ میں نے حور کو دیکھا وہ بھی جلدی جلدی تیار ہو کر میرے ساتھ جانے کیلئے تیار ہوگئی تھی، شاید وہ بہت سا وقت میرے ساتھ بیتانا چاہتی تھی۔ میں کچھ نئے کپڑے خریدنا چاہ رہا تھا تاکہ نئی نوکری میں پہلا امپریشن بہترین دے سکوں۔ کچھ ہی دیر میں میری بائیک صدر بازار کی جانب روانہ ہو گئی، ایم اے جناح روڈ سے ہوتے ہوئے ہم زینب مارکیٹ کی جانب مُڑ گئے، کچھ دیر مختلف دوکانوں کا دورہ کیا پھر ایک دوکان سے شرٹیں اور کچھ پہنٹیں خریدیں، آدھے گھنٹے میں میری شاپنگ ختم ہوچکی تھی، کھانے کا بھی وقت ہورہا تھا ، اب ہماری بائیک کا سفر برنس روڈ کی جانب تھا، ایک ہوٹل کے فیملی ہال میں بیٹھے کچھ ہی دیر میں بیرا مینیو لے آیا۔ حور کے چہرے پر ہلکی سی مسکراہٹ کھیل رہی تھی، شاید میرے ساتھ گزارے گئے ان پلوں کو قید کر رہی ہو، میں بھی جی بھر کر اس کو دیکھ رہا تھا، نہ جانے اگلے کچھ دنوں میں زندگی کیا رُخ اختیار کرتی ہے۔ میں نے اُس کو گہری سوچ میں دیکھا تو پوچھا، "کس بارے میں سوچ رہی ہو حور؟" کچھ دیر تو وہ میری جانب دیکھتی رہی پھر اس کے چہرے سے مسکراہٹ غائب ہوگئی، کچھ پل یونہی گزرے، پھر اس کے لب ہلے پھر یوں ہوا کہ ساتھ تیرا چھوڑنا پڑا ثابت ہوا کہ لازم و ملزوم کچھ نہیں حور نے میری آنکھوں میں دیکھتے ہوئے کرب سے کہا، اس کی نگاہوں کی شدت سے گھبرا کر میں نے اس کے چہرے سے نگاہیں ہٹا لیں۔ یوں تو یہ سب کچھ چند لمحوں میں ہی ہوچکا تھا، مگر اس دوران بھی حور نے محسوس کرلیا تھا کہ میں اس کے جذبات کی آگ سے گھبرا گیا ہوں، اور وہ ہرگز ایسا نہیں چاہتی تھی، محبت کے سوا کوئی اور جذبہ قابل قبول صرف کچھ لمحوں کا ہی تھا، اس کے بعد محبت اگر اس کی جگہ نہ لے گی تو کیا ہوگا اس سے آگے شاید ہم سوچ نہیں سکتے تھے، بالکل ویسے ہی جیسے کبھی رات کی تاریکی میں گھر کی جانب لوٹتے ہوئے جلد بازی میں کسی شارٹ کٹ کی جانب جاتے جاتے رُک جانا، کہیں یہ راستہ کہیں اور نہ نکل جائے، یا پھر جیسے اپنی کوئی بہت پیاری سی چیز سب کی نگاہوں سے بچا کر الماری کے ایک ننھے سے خانے میں چھُپا کر رکھنا اور چپکے چپکے دیکھنا، مبادا کوئی اُچک نہ لے، ہماری محبت بھی ایسی ہی تھی، اس کو کھونے کے ڈر سے ہم وہ تمام باتیں، یادیں، سوچیں اور موضوعات سے بچتے تھے جو محبت سے ہٹ کر ہوتے۔ بالآخر وہ دن آ ہی گیا، صبح دس بجے میری فلائٹ تھی، فجر میں میری آنکھ کھلی، مجھے اُٹھانے والا کوئی اور نہیں حور ہی تھی۔ میرا سامان، ایک سوٹ کیس جس میں میرے کپڑے، استعمال کی اشیاء، دستاویزات، میری تعلیمی ریکارڈ کے سرٹیفیکیٹ، سب کچھ جو میرے سفر اور بیرونِ ملک رہائش کے لئے ضروری تھا، حور نے سب کچھ سلیقے اور نفاست سے بنا کر تھا لیکن میں اس کو الگ ہی نگاہ سے دیکھ رہا تھا، میں اس سامان کی ایک ایک شئے میں محبت محسوس کر رہا تھا۔ ہم گھر سے نکلے، کوئی گلہ نہ شکوہ، نہ عداوت، نہ رنجش ۔ ۔ ۔ سپاٹ چہرہ، ہاں مگر حور نے سارا وقت میرا ہاتھ سختی سے بھینچے رکھا، شاید ڈر کا جذبہ محبت پر حاوی ہو رہا تھا، میں نہیں چاہتا تھا کہ ایسا ہو، کیوں کہ جب محبت کے اندر کھو دینے کے خوف کی دراڑ پڑ جائے نا، تو پھر کچھ باقی نہیں رہتا، رہ جاتا ہے تو صرف خوف ۔ ۔ ۔ ایئر پورٹ پہنچے، میں نے گھر والوں سے اجازت لی، حور کو دیکھا، نہ جانے کیوں، نہ میری آنکھ میں آنسو تھا، نہ اس کی آنکھ میں، چاہتا تھا یہ ضبط ٹوٹے، کچھ تو کہیں، ارے کوئی شکوہ، کوئی گلہ، کیا میں اتنا دور ہوچکا تھا کہ مجھ سے کوئی گلہ نہیں کیا جاسکتا۔ "حور کیوں کر رہی ہو ایسا؟"، میں نے اس کی جانب دیکھ کر سوچا۔ اس نے اپنی نظریں جھکا لیں، شاید کہہ رہی تھی، "اب ایسا ہی ہوگا ساحل"، مگر زبان سے کچھ بھی نہ کہا "السلامُ علیکم!"، میں نے اس کی جانب دیکھ کر کہا "وعلیکم السلام ساحل!"، اس کے لب پہلی بار ہِلے میں نے اندر کی جانب قدم بڑھائے، گیٹ کے نزدیک پہنچ کر میں نے پیچھے دیکھا، سب کو ہاتھ ہلایا اور اندر آگیا۔ بورڈنگ پاس اور سارے معاملات کس طرح ہوئے مجھے یاد نہیں، میں جہاز میں بیٹھ چکا تھا، ایئر ہوسٹس نے مائیک پر اعلان کیا، اپنے موبائل فون بند کرلیں، ٹھیک اس ہی وقت میرا موبائل بجنا شروع ہوا، میں نے موبائل نکالا، اسکرین پر موجود نام دیکھ کر میرا دل بیٹھنے لگا۔۔۔ (جاری ہے)

ہفتہ، 29 اگست، 2015

August 29, 2015 at 10:31PM

"حور"۔۔۔ قسط: 21 ۔۔۔ تحریر: اویس سمیر۔۔۔ (گزشتہ سے پیوستہ) "حور۔۔۔"، میں نے کہا، "محبت فاصلوں اور قربت کی محتاج نہیں ہوتی، محبت تو صرف محبت ہوتی ہے، اور جب بات حور اور ساحل کی محبت کی ہو تو بات ہی کچھ اور ہوتی ہے۔۔۔"، میں نے کہا کافی دیر خاموشی چھائی رہی، حور کا سر میرے کاندھے پر جما رہا، شاید اس کو ہمیشہ کی طرح ایک مضبوط سہارے کی ضرورت محسوس ہورہی تھی۔ "اپنی آنکھیں بند کرو ساحل۔۔"، حور نے کہا میں نے اس کی جانب دیکھا، اور دیکھتا رہا۔ میری حور میرے سامنے ہو اور میں آنکھیں بند کروں کیسے ممکن ہے۔۔ میں چُپ رہا۔ (اب آگےپڑھئے) "ساحل آنکھیں بند کرو، تصور کرو، ہم ایسی دنیا میں موجود ہیں، جہاں کوئی مادی ضرورت نہیں، جہاں ہمیں اس دنیا کی مانند پیسوں کی ضرورت نہیں، جہاں پریشانی نہیں، بیماری نہیں، جہاں جدائی نہیں، جو کہ ہمیشگی کی زندگی ہو، تصور کرو ساحل۔۔۔۔"، میں یہ سب کہتی ہوئی حور کو وارفتگی سے دیکھے جارہا تھا۔ میں نے اپنی آنکھیں بند کیں، تصور کیا، کیا ہی بھلی زندگی تھی، نہ کوئی غَم نہ کوئی دکھ، نہ کوئی مادی ضرورت، نہ جدائی، صرف محبت ہی محبت، یہ تو بالکل جنت تھی"، حور مجھے خیال ہی خیال میں جنت کا بتا رہی تھی، لیکن جنت تو ہمارے خیالوں سے بھی زیادہ اچھی ہے، ان نعمتوں کے بارے میں تو ہم کبھی ٹھیک اندازہ بھی نہیں لگا سکتے۔ "ساحل۔۔۔، اس ہمیشگی کی دنیا میں مجھے آپ کا ساتھ چاہئے۔۔۔ جب میں کہتی تھی ناں کہ مجھے ایسی محبت چاہئے کہ جس میں جدائی کا تصور بھی نہ ہو، تو میرے نزدیک یہی ہمیشہ کی دنیا تھی، ساحل، اس دنیا میں تو آزمائشیں ہیں، دکھ ہیں پریشانیاں ہیں جدائیاں ہیں، لیکن بعد کی دنیا میں یہ سب نہیں ہوگا، اور مجھے آپ کا ساتھ آنے والی دنیا میں بھی چاہئے اور یقیناً اس کیلئے میں اِس دنیا کی ہر آزمائش کو خوش دلی سے سہوں گی"، حور نے اپنی بات ایک عزم سے مکمل کی میں نے نوٹ کیا۔۔۔۔ اس نے میرا ہاتھ بہت سختی سے بھینچا ہوا تھا، مبادا میں اس کو چھوڑ کر نہ چلا جاؤں۔ میں اُٹھ کھڑا ہوا، وہ بھی میرے کاندھے سے لگی کھڑی ہوگئی، بہت دیر تک ہم یوں ہی کھڑے رہے، شاید سورج ڈوبنے کا نظارہ ہی اس قدر مسحُور کن ہوتا ہے، لیکن یہی تو ایک نئے دن کے طلوع ہونے کی نوید ہوتا ہے، بےشک ہر رات کے بعد دن ہے اور ہر اندھیرے کے بعد اجالا ہے۔ آنے والے دنوں میں حور نے میرے لئے جو کیا اس کے بعد میرے دل میں حور کی قدر اور بھی زیادہ بڑھ گئی، ایک دن میں گھر لوٹا تو کیا دیکھتا ہوں کہ حور مصلّے پر بیٹھی ہے اور اس کی آنکھوں سے آنسو جاری ہیں، وہ رو رو کر اللہ سے دعائیں کر رہی تھی۔ میں چُپ چاپ بستر پر لیٹ گیا، کافی دیر بعد وہ میرے قریب آئی، اور میرے پہلو میں بیٹھ گئی، پھر کہنے لگی، "ساحل یہ بہت مشکل ہے"، میں نے اس کی جانب سوالیہ نگاہوں سے دیکھا، آنسو کے ننھے قطرے اس کی پلکوں پر اب بھی ستاروں کی مانند چمک رہے تھے، "ساحل، میں اللہ سے آپ کی کامیابی کی دعا مانگتی ہوں، مگر میرا دل نہ جانے کیوں آپ سے جدا نہ ہونے کی دعا کرنے میں لگ جاتا ہے، میں چاہتی ہوں کہ میرا وقت آپ کی جاب کی مشکلات دور کرنے کی دعا میں صرف کروں، مگر جب ہاتھ اُٹھتے ہیں تو دل سے ایک ہی دعا نکلتی ہے، اللہ ساحل کو مجھ سے الگ نہ کیجئے، پھر میں رو پڑتی ہوں کہ نہ جانے میں کیوں اپنی محبت میں اس قدر خود غرض ہوگئی ہوں کہ آپ کی خواہشات کو اپنی دعاؤں کا حصہ بنانے کی بجائے اپنی خواہشات کو ہی ترجیح دے جاتی ہوں"، اس کی آنکھوں سے پریشانی جھلک رہی تھی۔ میں نے اس کو دلاسا دیا اور اس کو یقین دلایا کہ مجھے اس پر بھروسہ ہے ان شاءاللہ اللہ اس کی دعائیں ضرور قبول کرے گا جو ہم دونوں کے حق میں ہونگی، حور یہ سن کر مطمئن سی ہوگئی۔ --------- اتوار کا دن آچکا تھا، سارا عالم ہمیشہ کی طرح سو رہا تھا، میں عادت سے مجبور اُٹھا ہوا تھا اور حور میرا ساتھ دے رہی تھی۔ عاشر بھائی نے کمیٹی کی میٹنگ چار بجے کے قریب بلائی ہوئی تھی، مجھے کافی امید تھی کہ کمیٹی میرے حوالے کردی جائے، مقررہ وقت پر میں ان کے پاس پہنچا، کمیٹی کے باقی افراد بھی ایک ایک کرے آتے گئے، احمر بھی موجود تھا، عاشر بھائی نے اپنی بات شروع ہی کی تھی کہ میں نے اپنا ہاتھ کھڑا کیا، عاشر بھائی نے وجہ پوچھی تو میں نے شروع سے لے کر اب تک کی نوکری کے حوالے سے جدوجہر گوش گزار کردی، باقی کمیٹی کے ارکان بھی یہ سب سُن رہے تھے، ٹکٹ کے حوالے سے بات ہوئی میرے پاس صرف چند ہی دن باقی تھے، اس کے بعد نوکری کا یہ چانس میرے ہاتھ سے نکل جاتا اگر میں مقررہ وقت پر جاب والے دن کمپنی نہ پہنچتا۔ عاشر بھائی اور باقی افراد نے یہ سب بغور سنا، باقی لوگوں کے مسائل میں کسی کو اس ماہ نئی بائیک لینی تھی، تو ایک صاحب کو اس ماہ اپنے بیوی بچوں کے ساتھ شمالی علاقہ جات گھومنے کے لئے جانا تھا، عاشر بھائی نے سب کی رائے اور ضروریات سُن کر کہا کہ اس دفعہ کمیٹی ساحل کو دی جارہی ہے کیوں کہ مجھے لگتا ہے کہ اس کی ضروریات ہماری مشترکہ ضروریات سے زیادہ اہم ہیں۔ انہوں نے ایک دفعہ سب سے پوچھا کہ کسی کو اس پر اعتراض تو نہیں، خوش قسمتی سے کسی نے بھی کچھ نہ کہا۔ میرا ایک بہت اہم مسئلہ حل ہو چکا تھا ، یوں سمجھیں کہ میرا آدھے سے زیادہ کام بن چکا تھا۔ اتوار کو سیاحت و سفر سے متعلق تمام ادارے بند ہی ہوتے تھے۔ اگلی صبح میں اماں کی بہت ساری دعاؤں میں اور حور کی بہت ساری محبتوں کے حصار میں گھر سے نکلا ایئر لائن کے آفس پہنچ کر میں نے تمام معاملات نمٹائے اور کچھ ہی دیر میں میرے پاس دبئی کا ٹکٹ موجود تھا، میری فلائٹ انتیس کو تھی تاکہ مجھے جس دن جوائن کرنا ہے اس سے ایک دن قبل وہاں پہنچ کر اپنی تیاری مکمل کر سکوں۔ اگلا سارا دن اس ہی دفتر کے چکر میں گزرا، دن کے اختتام پر ویزے کے کاغذات میرے پاس آگئے تھے۔ میں گھر میں داخل ہوا، عجیب سی کیفیت تھی، اتنا بڑا کام ہو گیا تھا مگر مجھے خوشی نام کو نہ تھی، عجیب سا بجھا بجھا سا ماحول، کچھ تو کمی تھی، شاید بہت بڑی کمی ہونے جارہی تھی۔ میں اپنے روم میں داخل ہوا، ٹکٹ ایک جانب ٹیبل پر رکھا، حور نے سوالیہ انداز میں میری جانب دیکھا میں نے اثبات میں سر ہلا دیا یعنی کام ہوگیا ٹھیک تین دن بعد انتیس تاریخ کو میری فلائیٹ تھی۔ (جاری ہے)

August 29, 2015 at 08:01PM

"حور"۔۔۔ قسط: 20 ۔۔۔ تحریر: اویس سمیر۔۔۔ (گزشتہ سے پیوستہ) میں نے حور کو بغور دیکھا، جس وقت سے اس کو میں نے جانے کے بارے میں بتایا تھا اس دن سے لے کر اب تک اس کے اندر واضح تبدیلی نظر آئی تھی، اس کی شوخی، مسکراہٹ، ادائیں، وہ کھلکھلاہٹ نہ جانے کہاں گُم ہوچکیں تھیں، خوش تو میں بھی نہیں تھا لیکن حور تو جیسے اس سب کو ایک صدمے کے طور پر لے رہی تھی، ہم نے اب تک جو دن بھی ساتھ گزارے تھے وہ بھرپور محبت میں گزارے تھے، جیسے ایک دوسرے کے لئے ہی تو بنے تھے۔ میں حور کہ جانب دیکھ رہا تھا اور سوچ رہا تھا کہ اس پھول کو مرجھانے کا قصوروار میرے علاوہ کوئی نہیں۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔، کئی منٹ یوں ہی گزر گئے پھر ۔۔ حور نے میری جانب دیکھ کر پوچھا، "ساحل، مجھ سے روز بات کرو گے نا؟"، میں نے مسکرا کر کہا، "ہاں ہاں پگلی، مت پریشان ہو، تمہیں تو پتا بھی نہیں لگنا کہ میں تم سے دور گیا کہ نہیں!۔۔ ٹھیک؟" حور نے سر ہلایا، اس کی آنکھیں بدستوں جھکی جھکی سی تھیں، جیسے وہ میرا دلاسا بالکل جھوٹ سمجھ رہی ہو۔ چار دن بعد اتوار کا دن تھا، کمیٹی کی میٹنگ اتوار کو ہونی تھی جس کے بعد مجھے پتا لگ جاتا کہ مجھے پیسے مل سکتے ہیں کہ نہیں، میں بےصبری سے اتوار کا انتظار کرنے لگا۔ (اب آگےپڑھئے) جب آپ کسی سے بہت ٹوٹ کر محبت کرتے ہیں نا، تو ایک وقت آتا ہے کہ اس کو پا لینے کی خواہش دنیا کی ہر خواہش پر غالب آجاتی ہے، لیکن جب آپ اس کو پا نہیں سکتے تو پھر یہ کسک آپ کے اندر ایک نفرت کی آگ بھڑکا دیتی ہے، یہ نفرت اس ہر شئے سے ہوجاتی ہے جس نے آپ کو آپکی محبت پانے سے روکا تھا، جب بیچ میں سماج ہو تو یہ نفرت سماج کی خلاف بڑھ جاتی ہے، اور اگر کوئی قریبی رشتہ اس دوری کا سبب بنے تو ساری نفرت اس ہی کے حصے میں آتی ہے۔ لیکن کیا یہ نفرت کی آگ کیا واقعی محبت کا ردعمل ہوتی ہے، کیوں کہ محبت تو محبت ہوتی ہے، محبت صرف محبت ہی پیدا کرسکتی ہے، اگر محبت کسی آگ یا نفرت کو جنم دے تو پھر شاید وہ محبت ہی نہیں جِسے ہم محبت سممجھتے رہے، وہ تو بس شاید اپنی انا کی تسکین کی خواہش تھی کہ جو میں نے مانگا مجھے مل جائے اور نہ ملے تو پھر کسی اور کو نہ ملے۔۔ حور اور میری محبت نے اب تک صرف محبتوں کو ہی جنم دیا تھا، ہمارے ہر اختلاف کے بعد ہماری محبت میں مزید اضافہ ہوتا، بہت ساری محبت۔۔۔ یہی محبت تھی کہ میں حور کے دل کی کسک اپنے دل میں محسوس کر رہا تھا، حور کا ایک ایک جذبہ ایک لاسلکی تعلق کے ذریعہ مجھ میں منتقل ہوتا جارہا تھا۔ میں نے حور کو ساتھ لیا اور چل پڑا، ہماری بائیک دور ایک انجانی منزل کی جانب دوڑتی رہی، کافی دیر بعد ہم رُکے، یہ حور کی پسندیدہ جگہ تھی، ساحل کا وہ حصہ جہاں تک بہت کم افراد کی رسائی تھی، ریسرچ ورک کی وجہ سے عام افراد کا داخلہ یہاں منع تھا، اپنے پروفیشن کے ابتدائی دور میں مَیں یہاں نوکری کر چکا تھا لہذا اب تک اس کا فائدہ سمیٹ رہا تھا، میں نے بائیک ہلکی کی، گارڈ نے ہم دونوں کو دیکھا اور مجھے پہچان کر ہاتھ کے اشارے سے سلام کیا، سلام کا جواب دیتے ہوئے میں نے بائیک آگے بڑھا دی، ساحل سمندر کے بالکل نزدیک پہنچ کر میں نے بائیک کھڑی کی اور ہم دونوں بائیک سے اُتر کر ساحل کے ساتھ ساتھ چلنے لگے، کچھ دیر چل کر حور رُک گئی، وہ جُھکی اور ساحل کی ریت پر بیٹھ گئی، ہم دونوں ابھی تک چُپ ہی تھے۔ میں بھی ریت پر اس سے لگ کر بیٹھ گیا۔۔ کچھ دیر بعد میں نے اپنے کاندھے پر اس کا سر محسوس کیا۔۔ کافی دیر بعد اس نے خاموشی توڑی اور میرے کاندھے پر اپنا سر رکھے رکھے کہا، "فاصلے دور کردیتے ہیں ساحل۔۔۔"، اس کی آواز میں جیسے برسوں کا دُکھ سمایا ہوا تھا۔ "فاصلے تو قرب کا سبب بنتے ہیں حور۔۔"، میں نے اپنے تئیں اس کو بہلانا چاہا "حور۔۔۔"، میں نے کہا، "محبت فاصلوں اور قربت کی محتاج نہیں ہوتی، محبت تو صرف محبت ہوتی ہے، اور جب بات حور اور ساحل کی محبت کی ہو تو بات ہی کچھ اور ہوتی ہے۔۔۔"، میں نے کہا کافی دیر خاموشی چھائی رہی، حور کا سر میرے کاندھے پر جما رہا، شاید اس کو ہمیشہ کی طرح ایک مضبوط سہارے کی ضرورت محسوس ہورہی تھی۔ "اپنی آنکھیں بند کرو ساحل۔۔"، حور نے کہا میں نے اس کی جانب دیکھا، اور دیکھتا رہا۔ میری حور میرے سامنے ہو اور میں آنکھیں بند کروں کیسے ممکن ہے۔۔ میں چُپ رہا۔ (جاری ہے) نوٹ: 21ویں قسط بھی آج رات ہی شائع کی جائے گی۔ اویس سمیر

جمعرات، 27 اگست، 2015

August 27, 2015 at 08:19PM

"حور"۔۔۔ قسط: 19 ۔۔۔ تحریر: اویس سمیر۔۔۔ (گزشتہ سے پیوستہ) عاشر بھائی کے استفسار پر احمر نے بتایا کہ فوری طور پر ٹینٹ لگانا ہے، قبر کا بندوبست کرنا ہے، گھر مہمانوں سے بھرا ہوا ہے ان کے لئے کھانے کا انتظام وغیرہ۔ اشعر بھائی نے مزید کریدا تو پتا چلا کہ باقی چیزوں کا بندوبست تو ہے مگر ٹینٹ اور کھانے کے پیسے نہیں مل رہے جس کیلئے وہ کمیٹی کی رقم کے حوالے سے آیا ہے۔ عاشر بھائی نے کافی اطمینان سے بات سُنی پھر اپنے گھر کا دروازہ کھولتے ہوئے ہمیں اندر بُلایا اور ڈریئینگ روم میں بٹھا کر خود اندر چلے گئے۔۔ کچھ ہی دیر گزری ہوگی کہ وہ ڈرائینگ روم میں نمودار ہوئے انکے ہاتھ میں پچاس ہزار روپے تھے جو انہوں نے ہمارے سامنے ٹیبل پر رکھ دئے۔۔۔ (اب آگےپڑھئے) کچھ دیر وہ ہم دونوں کو چُپ چاپ دیکھتے رہے پھر گویا ہوئے، "احمر، کیا تم نے پیسوں کا جو مَصرف بتایا اسی میں خرچ کرو گے؟"، انہوں نے پوچھا احمر نے ہاں میں سر ہلایا، عاشر بھائی گویا ہوئے، "احمر اگر ایسا ہے تو دیکھو یہ پچاس ہزار نہیں، بلکہ جلتی ہوئی آگ ہے، کیا تم اسے ہاتھ میں لینا پسند کرو گے؟" عاشر بھائی نے پوچھا، احمر نے کہا، "میں سمجھا نہیں عاشر بھائی"، "احمر، تم جس مقصد کیلئے یہ لے رہے ہو وہ تمہاری اشد ضرورت نہیں، اس وقت تمہارے نزدیک صرف قبر کا انتظام اور باقی ہسپتال کے بقایا جات ضروری ہیں، لیکن بڑا ٹینٹ لگانا اور کھانا کھلانا جس کیلئے تم دراصل یہ رقم مانگ رہے ہو یہ تمہاری جیب پر نہ صرف اضافی بوجھ ہے، بلکہ معاشرے کی ان اِضافی رسومات کی پیروی کرنے کی وجہ سے تم اللہ کی ناراضگی بھی مول لو گے ۔۔۔ بولو ۔۔ ۔یہ پیسے تمہارے سامنے پڑے ہیں!" کافی دیر تک خاموشی رہی، عاشر بھائی ہمیں دیکھتے رہے، احمر اضطراب سے اپنے دونوں ہاتھوں کو آپس میں رگڑ رہا تھا، ایک قریبی دوست ہونے کے ناطے میں بھی اس کی تکلیف محسوس کررہا تھا، میں جانتا تھا کہ معاشرے میں پھیلی رسومات کو ختم کرنا کسی طور بھی ممکن نہیں، آپ ان روایت کے خلاف ایک قدم اُٹھاؤ تو معاشرہ آپ پر دس انگلیاں اُٹھا کر آپ کو دس قدم پیچھے دھکیل دیتا ہے، اس پر لوگوں کا دوہرا رویہ آپ کو مزید دُکھ دیتا ہے، کافی دیر سوچنے کے بعد احمر نے نظریں اُٹھائیں اور سوالیہ نگاہوں سے میری جانب دیکھا، میں نے کچھ دیر اس کو خالی خالی نگاہوں سے دیکھا، اور پھر نفی میں سر ہلا دیا، احمر اُٹھ کھڑا ہوا، اور بغیر پیسے لئے عاشر بھائی سے ہاتھ ملا کا جانے لگا، باہر آ کر میں نے بائیک اسٹارٹ کی اور احمر کو دیکھتے ہوئے کہا، "تمہارا فیصلہ درست ہے دوست!" ہم دوںوں گھر کی جانب روانہ ہوئے، گھر آ کر کچھ ہی دیر کے بعد جنازہ لے کر مسجد کی جانب چل پڑے، قریباً دو ڈھائی گھنٹوں بعد ہم تدفین سے فارغ ہوچکے تھے۔ احمر کے گھر واپس آ کر میں نے موبائل کی طرف نگاہ ڈالی، حور کی پندرہ مِس کال آئی ہوئیں تھی، اس سب میں میں حور سے رابطے میں نہیں رہا، وہ یقیناً پریشان ہورہی تھی، میں نے احمر سے اجازت لی اور گھر کی جانب بائیک دوڑا دی۔ بیل پر ہاتھ رکھا ہی تھا کہ حور نے فوراً دروازہ کھول دیا، نہ جانے کب سے وہ وہاں کھڑی تھی، میں شرمندہ سا ہو کر اس کو دیکھنے لگا، اُس نے ایک لفظ بھی نہیں کہا، میں چاہ رہا تھا کہ وہ کچھ بولے، مگر بےسود۔۔۔ میں نے خود ہی پہل کی اور سارا قصہ اس کو سُنایا، کمیٹی کے حوالے سے بھی اس کو تمام بات بتا دی۔ میں نے حور کو بغور دیکھا، جس وقت سے اس کو میں نے جانے کے بارے میں بتایا تھا اس دن سے لے کر اب تک اس کے اندر واضح تبدیلی نظر آئی تھی، اس کی شوخی، مسکراہٹ، ادائیں، وہ کھلکھلاہٹ نہ جانے کہاں گُم ہوچکیں تھیں، خوش تو میں بھی نہیں تھا لیکن حور تو جیسے اس سب کو ایک صدمے کے طور پر لے رہی تھی، ہم نے اب تک جو دن بھی ساتھ گزارے تھے وہ بھرپور محبت میں گزارے تھے، جیسے ایک دوسرے کے لئے ہی تو بنے تھے۔ میں حور کہ جانب دیکھ رہا تھا اور سوچ رہا تھا کہ اس پھول کو مرجھانے کا قصوروار میرے علاوہ کوئی نہیں۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔، کئی منٹ یوں ہی گزر گئے پھر ۔۔ حور نے میری جانب دیکھ کر پوچھا، "ساحل، مجھ سے روز بات کرو گے نا؟"، میں نے مسکرا کر کہا، "ہاں ہاں پگلی، مت پریشان ہو، تمہیں تو پتا بھی نہیں لگنا کہ میں تم سے دور گیا کہ نہیں!۔۔ ٹھیک؟" حور نے سر ہلایا، اس کی آنکھیں بدستوں جھکی جھکی سی تھیں، جیسے وہ میرا دلاسا بالکل جھوٹ سمجھ رہی ہو۔ چار دن بعد اتوار کا دن تھا، کمیٹی کی میٹنگ اتوار کو ہونی تھی جس کے بعد مجھے پتا لگ جاتا کہ مجھے پیسے مل سکتے ہیں کہ نہیں، میں بےصبری سے اتوار کا انتظار کرنے لگا۔ (جاری ہے)

بدھ، 26 اگست، 2015

August 26, 2015 at 09:38PM

"حور"۔۔۔ قسط: 18 ۔۔۔ تحریر: اویس سمیر۔۔۔ (گزشتہ سے پیوستہ) میں یہی کچھ سوچ رہا تھا کہ میرے موبائل پر بیل بجی، اسکرین پر میرے بہت ہی عزیز دوست احمر کا نام دکھائی دے رہا تھا، میں نے نہایت ہی خوشگوار انداز میں "ہیلو۔۔" کیا لیکن دوسری جانب اس کی سسکیاں سُنائی دے رہی تھیں۔۔۔ چند منٹ تک تو اس کی سسکیاں گونجتی رہیں، کچھ دیر بعد اس نے ٹوٹے پھوٹے الفاظ میں کہا، "ساحل، ۔۔۔۔میرے والد صاحب ۔۔۔کی وفات ہوگئی ہے!"، یہ خبر مجھ پر بجلی بن کرگری، ایک تو احمر بہت ہی عزیز دوست تھا، دوسرے ۔۔۔ احمر کمیٹی کا ممبر بھی تھا۔ (اب آگےپڑھئے) احمر سے میری دوستی بچپن سے تھی، ساتھ کھیل کود کر بڑے ہوئے، تعلیم ختم ہوتے ہی ہم دونوں اپنے اپنے کاموں میں لگ گئے، شادیاں ہوگئیں تو اور بھی زیادہ مصروفیت ہوگئی، یوں تو اپنے بیوی بچوں اور خاندان کے ساتھ ہم دونو کی مصروفیات بہت تھیں لیکن پھر بھی ہفتے میں دو سے تین بار ضرور ملتے اور اپنے معاملات آپس میں ایک دوسرے کو بتاتے اور صلاح مشورہ کرتے۔ احمر کافی دن سے اپنے والد صاحب کی طبیعت کے حوالے سے پریشان تھا، ڈاکٹر کو دکھایا پھر یہ نوبت آگئی کہ ہسپتال میں ایڈمٹ کروانا پڑ گیا، دوسری جانب میں اپنی مصروفیات، پریشانیوں اور بیماری میں اتنا محو تھا کہ مجھ سے ایک بار بھی اُس کے پاس جانا نہیں ہوسکا مگر آج اس کی اچانک کال اور یہ اندوہناک خبر سُنانا مجھے سَکتے میں ڈال گیا تھا۔ میں نے فوراً بائیک کو کِک ماری اور اس کے گھر کی طرف چل پڑا، جسدِ خاکی ہسپتال سے گھر لے آئے تھے، میں اندر داخل ہوا تو سارے گھر میں رونا دھونا مچا ہوا تھا، آنٹی تو باقائدہ بین کررہی تھیں، میں نے احمر کو دیکھا تو وہ بھی ایک طرف کھڑا آنسو بہا رہا تھا، سب سے پہلے تو میں نے اِس کو ٹھیک کیا، اس کو کافی دیر سینے سے لگا کر رکھا، پھر اس کو ایک جانب لے گیا اور سمجھانا شروع کیا، "احمر ۔۔ دیکھو دوست۔۔ جب تک تم خود کو قابو میں نہیں کرو گے حالات قابو میں نہیں آئیں گے، موت کسی کو بھی کسی بھی وقت آسکتی ہے، تمہیں یا مجھے کسی کو بھی آسکتی تھی، اللہ کا کرنا یہ ہوا کہ اس نے تمہارے والد کو اپنے پاس بُلا لیا، احمر ۔۔ دیکھو سب سے پہلے تو اپنے آپ کو سنبھالو ۔۔پھر جاؤ اور امی اور بہنوں کو سنبھالو، انہیں بتاؤ کہ اس طرح بین نہ کریں۔" احمر میری بات سمجھ رہا تھا، کچھ ہی دیر میں احمر نے اپنی والدہ اور بہنوں کو سمجھانا شروع کیا، جیسے جیسے وہ ان سے گفتگو کرتا رہا ویسے ویسے گھر میں مچا کہرام معمول پر آتا گیا، باآوازِ بلند بین اب سسکیوں میں بدل چکا تھا، سمجھدار خواتین تھیں مگر بےحد غم کبھی کبھار ایسے نامناسب حالات پیدا کردیتا ہے۔ رشتہ داروں کی آمد جاری تھی، گھر بھرتا جا رہا تھا۔ احمر نے میرا ہاتھ پکڑا اور کہنے لگا، "ساحل چلو۔۔۔"، میں نے پوچھا، "کہاں؟" ۔۔ کہنے لگا، "عاشر بھائی کے پاس" ۔۔ عاشر بھائی ہمارے محلے کے بڑے اور سُلجھے ہوئے لوگوں میں سے تھے ہم نے کمیٹی انہی کے پاس ڈالی ہوئی تھی۔ اُس کو بائیک پر بٹھایا اور عاشر بھائی کے پاس چل پڑا۔۔ عاشر بھائی بھی احمر کے پاس آنے کے لئے ہی نکل رہے تھے، ہم وہاں پہنچے اور اپنی آمد کا مقصد بتایا۔ عاشر بھائی کے استفسار پر احمر نے بتایا کہ فوری طور پر ٹینٹ لگانا ہے، قبر کا بندوبست کرنا ہے، گھر مہمانوں سے بھرا ہوا ہے ان کے لئے کھانے کا انتظام وغیرہ۔ اشعر بھائی نے مزید کریدا تو پتا چلا کہ باقی چیزوں کا بندوبست تو ہے مگر ٹینٹ اور کھانے کے پیسے نہیں مل رہے جس کیلئے وہ کمیٹی کی رقم کے حوالے سے آیا ہے۔ عاشر بھائی نے کافی اطمینان سے بات سُنی پھر اپنے گھر کا دروازہ کھولتے ہوئے ہمیں اندر بُلایا اور ڈریئینگ روم میں بٹھا کر خود اندر چلے گئے۔۔ کچھ ہی دیر گزری ہوگی کہ وہ ڈرائینگ روم میں نمودار ہوئے انکے ہاتھ میں پچاس ہزار روپے تھے جو انہوں نے ہمارے سامنے ٹیبل پر رکھ دئے۔۔۔ (جاری ہے)

منگل، 25 اگست، 2015

August 25, 2015 at 09:22PM

"حور"۔۔۔ قسط: 17 ۔۔۔ تحریر: اویس سمیر۔۔۔ (گزشتہ سے پیوستہ) کچھ ہی دن گزرے تھے کہ میرے پاس کال آگئی، "ساحل صاحب بول رہے ہیں؟"، دوسری جانب سے پوچھا گیا، "جی! فرمائیے!"، میں نے کہا "آپ کا آفر لیٹر ہمارے دفتر میں آگیا ہے، آکر لے جائیے، آپ کی جوائننگ ان شاءاللہ پہلی تاریخ سے ہے"، مطلع کیا گیا۔۔ "یہ والی پہلی تاریخ؟؟؟" میں نے حیرانگی سے پوچھا۔۔ "جی ۔۔۔ یہی والی" صرف دس دن بچے ہیں۔۔۔۔ اتنے سے دن میں کیا کیا ہوگا ۔۔۔ اب پریشان ہونے کی باری میری تھی! (اب آگےپڑھئے) مجھے سمجھ نہیں آرہا تھا کہ اتنی جلدی سب کچھ کیسے ممکن ہوگا، سب سے پہلی پریشانی ٹکٹ کے پیسے تھے جس کا بندوبست مجھے اپنی جانِب سے ہی کرنا تھا، یہ غنیمت تھا کہ ویزہ کی فیس اور اس سے متعلقہ تمام خرچ کمپنی نے اپنے ذمہ لیا ہوا تھا۔ وہ دن میرا اس ہی پریشانی میں گزرا کہ کسی طرح پیسوں کا بندوبست ہو، میں نے جس جگہ کمیٹی ڈالی ہوئی تھی اس کے ملنے کے دن بھی قریب آرہے تھے میں نے سوچا کیوں نہ ان سے کہا جائے تاکہ مجھے کمیٹی کے پیسے مل جائیں ، میں نے ان سے رابطہ کیا اور اپنی ضرورت سے آگاہ کیا تو مجھے جواب ملا کہ کیوں کہ اس کمیٹی میں کئی افراد شامل ہیں لہذا کمیٹی ایک میٹنگ بلائے گی تاکہ تمام افراد سے پوچھ لیا جائے کہ کسی کو اس فیصلے پر اعتراض تو نہیں۔ یہ سوچ کر میرا منہ لٹک گیا، نہ جانے کمیٹی کے سارے ارکان اس حوالے سے متفق ہوں کہ نہیں، اگر کسی کمیٹی ممبر کی ضرورت میری ضرورت سے بڑھ کر ہو تو یقیناً تمام ارکان کا فیصلہ اس کے حق میں ہی ہوگا۔ اگلے دن میں جاب کے حوالے سے مزید تفصیلات معلوم کرنے کیلئے آفس جا پہنچا، "کیا ایسا ہوسکتا ہے کہ میری جوائننگ کی تاریخ کچھ دن اور آگے بڑھ جائے؟" میں نے پوچھا "مثلاً ۔۔۔ کتنے دن؟"، مزاج میں سَرد مہری تھی "مثلا مزید پندرہ دن، تاکہ مجھے تیاری کے لئے دن مل جائیں؟"، میں نے کہا "ساحل صاحب، بیرون ملک نوکری کوئی بچوں کا کھیل نہیں۔۔۔"، وہ گویا ہوا "آپ کو جس نوکری کیلئے بھیجا جارہا ہے اس پر پہلے ہی پانچ افراد شارٹ لِسٹ ہوچکے تھے، مگر جن صاحب نے آپ کو یہاں بھیجا تھا وہ خود بھی کافی اعتماد کے فرد ہیں لہذا ہم کو آپ کے حق میں ہی فیصلہ کرنا پڑا، ساحل صاحب ، میں معافی چاہتا ہوں، یہ جس کمپنی کی پوسٹ ہے ان کو پہلی تاریخ کو ہی بندہ چاہئے، ورنہ ہماری کمپنی کو ان کی جانب سے بھاری جرمانہ ہو سکتا ہے، میرا خیال ہے آپ میری بات بخوبی سمجھ رہے ہونگے؟"، اس نے کہا "جی جی بالکل۔۔۔"، میں نے جواب دیا ۔۔۔ "میں ان شاءاللہ پہلی تاریخ کو جوائن کروں گا، بہت بہت شکریہ آپ کی رہنمائی کا!" میں نے وعدہ کر تو لیا تھا، لیکن میرا دل ابھی تک اس ہی ادھیڑ بن میں تھا کہ سب کچھ کیسے ہوگا۔ اس پریشانی کے عالم میں بھی میرا دل کسی سے مانگنے کی جانب نہیں جارہا تھا، میں اس حوالے سے سوچنا ہی نہیں چاہ رہا تھا کہ مجھے کسی شخص سے مانگنا پڑے، بھائی کی جانب سے دئے گئے دس ہزار کا قرضہ مجھ پر پہلے ہی واجب الادا تھا، نہ یہ میری فطرت تھی اور نہ میں چاہتا تھا کہ میں خود پرقرضے کا بوجھ بڑھاؤں۔ جہاں سے میری جاب ختم ہوئی تھی مجھے اس جگہ سے بھی میرے بقایا جات ملنے تھے، میں نے وہاں سے پتا کیا تو جواب ملا کہ چند دِن اس سب میں مزید لگیں گے، "کتنے دن لگ سکتے ہیں؟"، میں نے ایچ آر ڈیپارٹمنٹ سے دریافت کیا، "ساحل صاحب، کم از کم دس دن اور ۔۔۔ دیکھیں، آپ خود اس کمپنی کا حصہ رہ چکے ہیں، آپ جانتے ہیں یہاں کا ماحول، اپروول وغیرہ میں چیزیں رُک جاتی ہیں خاص طور پر جب معاملہ پیسوں کا ہو تو آپ جانتے ہیں جائز اپروول کیلئے بھی کس قدر پاپڑ بیلنے پڑتے ہیں!" اس نے کہا "میں یہ سب سمجھتا ہوں، بہت شکریہ"، میں نے کہا اور فون بند کردیا، میں نے جس سے بات کی تھی وہ نچلے درجے کا ملازم تھا، وہ ٹھیک ہی کہہ رہا تھا اس کے ہاتھ میں کچھ بھی نہیں، اصل اپروول اوپر کے درجے کی اشیرباد سے ہی ہوتا ہے، نیچے والے تو صرف خانہ پُری کیلئے ہوتے ہیں۔ میں یہی کچھ سوچ رہا تھا کہ میرے موبائل پر بیل بجی، اسکرین پر میرے بہت ہی عزیز دوست احمر کا نام دکھائی دے رہا تھا، میں نے نہایت ہی خوشگوار انداز میں "ہیلو۔۔" کیا لیکن دوسری جانب اس کی سسکیاں سُنائی دے رہی تھیں۔۔۔ چند منٹ تک تو اس کی سسکیاں گونجتی رہیں، کچھ دیر بعد اس نے ٹوٹے پھوٹے الفاظ میں کہا، "ساحل، ۔۔۔۔میرے والد صاحب ۔۔۔کی وفات ہوگئی ہے!"، یہ خبر مجھ پر بجلی بن کرگری، ایک تو احمر بہت ہی عزیز دوست تھا، دوسرے ۔۔۔ احمر کمیٹی کا ممبر بھی تھا۔ (جاری ہے)

اتوار، 23 اگست، 2015

August 23, 2015 at 09:23PM

"حور"۔۔۔ قسط: 16 ۔۔۔ تحریر: اویس سمیر۔۔۔ (گزشتہ سے پیوستہ) "میں وہاں جاتے ہی تمہیں اپنے پاس بُلا لوں گا!"، میں نے حور کو کافی دن سے مسکراتے ہوئے نہیں دیکھا تھا۔ "واقعی؟" ، حور کی آنکھیں دمکنے لگیں! "ہاں!" ، میں نے کہا، "تم میرے بن نہیں رہ سکتی تو تم نے کہا سوچا تھا کہ میں رہ پاؤں گا؟" اور حور کھلکھلا اُٹھی، وہی کھلکھلاہٹ، جو ساری آوازیں مدھم کردیتی تھیں۔ میں اس کی جانب دیکھتا جارہا تھا۔ (اب آگےپڑھئے) سارے عالم کی آوازیں محو ہوچکیں تھیں، صرف حور کی کھلکھلاہٹ کی آواز مجھے آہی تھی، مگر یہ ہنسی یہ خوشی سب عارضی رہا، کیوں کہ جلد ہی حور کا دِل مختلف قسم کی خدشات کی آماج گاہ بن چکا تھا، کیا ہوگا، کتنا عرصہ لگے گا، کیسے ہوگا سب، اگر زیادہ وقت لگ گیا تو میں کیسے رہوں گی، اگر کوئی اور مسئلہ آگیا اور یہ سب ہو ہی نہ سکا تو کیا ہوگا، حور نے یوں تو ایک لفظ بھی نہ کہا تھا لیکن اس کے چہرے پر چھائی فکر مندی کی لکیریں سب کچھ کہے دے رہی تھیں۔ اس نے اپنی پریشانی مجھ سے چھُپانے کیلئے نظریں جھکا لیں۔ "کیا ہوا حور؟" ، میں نے پوچھا، "یہ ہنسی اور پھر ایک دم سے افسردہ ہوجانا، کیا معنی رکھتا ہے؟" "ساحل، دل میں بہت سے خدشات ہیں، لیکن اللہ کرے یہ سب خدشات اور خوف غلط ثابت ہوں، اور میں جلد ہی آپ سے آ مِلوں، ساحل۔۔۔ چَلیں امی کو یہ خوش خبری سُناتے ہیں" وہ ایک بار پھر سے مسکرانے لگی تھی اور یوں مجھے کچھ اطمینان سا ہونے لگا۔ میرا ہاتھ تھامے تھامے وہ اُٹھی اور ہم دونوں یوں ہی امی کے پاس پہنچ گئے، امی نے یوں ہمارا ایک ساتھ اُن کی جانب آنے کو حیرت سے دیکھا، پھر نہ جانے کیا سوچ کر مسکرانے لگیں۔ "امی ۔۔۔ آپکے لئے ایک خوش خبری ہے۔" ، حور نے پہنچ کر گویا اعلان سا کر دیا۔ امی نے اُٹھ کر حور کو گلے سے لگا لیا، ساس بہو کا یہ والہانہ پیار دیکھ کر میں حیران ہورہا تھا۔ "بہت بہت مبارک ہو میری بچی!"، اب حیران ہونے کی باری حور کی تھی، "امی! ابھی تو ہم نے آپ کو خبر سُنائی ہی نہیں!"، حور نے حیرت سے کہا "ماں سب جانتی ہے میرے بچوں!"، امی نے اپنی دانست میں اندازہ لگاتے ہوئے کہا۔ "مگر آپ کیا جان گئیں؟" ، میں نے پوچھا "تو کیا تم لوگ مجھے "وہ" خبر بتانے نہیں آئے؟" امی نے لفظ "وہ" پر زور دیتے ہوئے پوچھا "کونسی؟ اوہ ۔۔ اُف ۔۔ ہی ہی ہی"، معاملے کی نزاکت سمجھتے ہی حور اور میں کھِلکھلا کر ہنس پڑے، اب امّی حیرت سے ہمیں کھی کھی کرتا دیکھ رہی تھیں۔ "ارے نہیں امی ایسا کچھ نہیں جو آپ سمجھ رہیں ہیں! ۔۔۔ " ، مسکراہٹ بدستور ہمارے ہونٹوں پر تھی، میں ہنسی روکنے کی ناکام کوشش کررہا تھا، جبکہ حور تو شرم سے باقائدہ لال ہوچکی تھی۔ "امی میری دبئی میں نوکری لگ گئی ہے"، میں نے اب اصل خوش خبری سُنائی۔ "اللہ مبارک کرے، میرے بچے۔" ، اماں نے چٹخ پٹخ میری بلائیں لینا شروع کردیں۔ "بس کچھ ہی دن میں کنفرم ہوتے ہی میں باہر جانے کی تیاری شروع کردوں گا۔" میں نے تفصیل بتائی۔ "اور حور۔۔۔۔؟" ، اماں نے استفسار کیا "حور آپ کے پاس ہی رہے گی۔۔۔ شروع میں مجھے نہیں پتا کہ ساتھ لے جانا ممکن ہو سکے گا یا نہیں ۔۔ لیکن جلد ہی میں حور کو بلانے کی کوشش کروں گا۔۔۔ آخر میں اِس کے بنا زیادہ دِن تو نہیں رہ سکتا نا۔۔" ، میں نے شرارت سے آنکھ دبائی۔۔ اور حور نے مجھے کہنی دے ماری۔۔ ہم تینوں ہنسنے لگے۔ کچھ ہی دن گزرے تھے کہ میرے پاس کال آگئی، "ساحل صاحب بول رہے ہیں؟"، دوسری جانب سے پوچھا گیا، "جی! فرمائیے!"، میں نے کہا "آپ کا آفر لیٹر ہمارے دفتر میں آگیا ہے، آکر لے جائیے، آپ کی جوائننگ ان شاءاللہ پہلی تاریخ سے ہے"، مطلع کیا گیا۔۔ "یہ والی پہلی تاریخ؟؟؟" میں نے حیرانگی سے پوچھا۔۔ "جی ۔۔۔ یہی والی" صرف دس دن بچے ہیں۔۔۔۔ اتنے سے دن میں کیا کیا ہوگا ۔۔۔ اب پریشان ہونے کی باری میری تھی! (جاری ہے)

August 23, 2015 at 02:32PM

"حور"۔۔۔ قسط: 15 ۔۔۔ تحریر: اویس سمیر۔۔۔ (گزشتہ سے پیوستہ) اس دوران میں نے اُس آفس ایک بار اور چکر لگایا تاکہ انہیں پاسپورٹ ملنے کی تاریخ سے مطلع کرسکوں۔ ٹھیک ایک ہفتے بعد پاسپورٹ میرے پاس موجود تھا مگر میرے چہرے پر مردنی ایسی چھائی ہوئی تو جیسے کوئی فوتیدگی ہوگئی ہو۔ خواہشوں کا قافلہ بھی عجیب ہے، یہ وہاں سے گزرتا ہے جہاں راستے نہیں ہوتے ۔۔۔ (اب آگےپڑھئے) میں نے اُن صاحب سے فون پر بات کی اور انہیں پاسپورٹ ملنے کے حوالے سے بتایا جس پر انہوں نے اگلے ہی دن مجھے بُلا لیا باہر جانے کے حوالے سے جو بھی انتظامات کرنے ہیں وہ جلد سے جلد نمٹائے جاسکیں۔ میں نے اس حوالے سے ابھی تک اپنے دوست احباب کو نہیں بتایا تھا، یہ خبر صرف میرے گھر والوں تک ہی محدو تھی۔ مجھے میٹنگ کیلئے آفس دس بجے بلایا گیا تھا، ہر رات کی طرح وہ رات بھی عجیب آنکھوں ہی آنکھوں میں کٹی، صبح فجر کے بعد کچھ دیر اِدھر اُدھر بیٹھا پرانے اخبار کھنگالتا رہا، کچھ آہٹ محسوس ہوئی، کمرے میں آیا تو حور نہ جانے کب کی اُٹھ چکی تھی، استری اسٹینڈ کے پاس کھڑی میری سب سے اچھی شَرٹ استری کر رہی تھی، میں اس کے پاس جا کھڑا ہوا، یہ کیسے ممکن تھا کہ وہ میری آہٹ کو میری خوشبو کو محسوس نہ کرتی۔۔۔ لیکن پھر بھی وہ اپنے کام میں لگی رہی اور میں اس کو چُپ چاپ دیکھتا رہا، استری مکمل کرنے اور شرٹ کو نہایت نفاست سے ہینگر پر لگانے کے بعد میری جانب بڑھی اور کہنے لگی: "آپ تو سوئے ہی نہیں؟"، اس کی آواز میں ناراضگی، پیار، شکوے کا ملا جلا سا عنصر تھا "اب اگر وہاں فریش نہیں رہے تو آپ کا تاثر کتنا غلط جائے گا۔۔۔"، اس نے اپنی بات جاری رکھی "آپ تھوڑا سا سو جائیں۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔ٹھیک ہے؟ میں آپ کو وقت پر جگا دونگی!"، اس نے میرے ہاتھوں کو اپنے ہاتھ میں لے بےحد محبت سے کر کہا. اتنی محبت کے جواب میں میں کہتا بھی کیا، بَس مسکرا کر ہاں کہہ کر بستر کی جانب بڑھ گیا۔ ساری رات کی نیند بھی کیا سُکون دیتی جو ان دو گھنٹوں کی نیند نے مجھے دیا، اُٹھا تو میں فریش ہوچکا تھا، حور فوراً ہی ناشتا لے آئی، کپڑے بدل کر بائیک اسٹارٹ کی اور وقتِ مقررہ پر آفس پہنچ گیا۔ آفس میں میرا ہی انتظار ہورہا تھا، انہوں نے پاسپورٹ اور تمام دستاویزات کو اسکین کیا اور اس کی ایک فائل بنا کر متعلقہ ادارے کو ای میل کردی۔ "ساحل صاحب، میں نے اپنی جانب سے کاروائی مکمل کردی ہے، اب جیسے ہی چند دن میں انکی جانب سے جواب آتا ہے میں آپ کو مطلع کرتا ہوں" ان سب کاموں کو نمٹانے میں کئی گھنٹے لگ گئے، وہاں سے نکل کر گھر واپس آیا، سب گھر والے دوپہر کا کھانا کھا چکے تھے، حور کھانے پر میرا انتظار کررہی تھی، حور کی جانب سے اس موضوع پر کوئی بات نہ ہوئی، پھر میں نے ہی اس کو کہا، "حور آج میں نے تمام دستاویزات جمع کرا دئے ہیں ان شاءاللہ کچھ ہی دن میں کنفرم ہوجائے گا کہ کیا سلسلہ ہے" ۔۔ میں نے اس سے کہا۔ "ہممم"، اس نے مدھم سے آواز میں کہا اور ہاں میں سر ہلایا۔ "کتنے آرام سے سب ہورہا ہے نا حور۔۔۔" میں نے اس کو کریدنا چاہا مگر اس نے صرف سر ہلانے پر اکتفا کیا۔ "میں وہاں جاتے ہی تمہیں اپنے پاس بُلا لوں گا!"، میں نے حور کو کافی دن سے مسکراتے ہوئے نہیں دیکھا تھا۔ "واقعی؟" ، حور کی آنکھیں دمکنے لگیں! "ہاں!" ، میں نے کہا، "تم میرے بن نہیں رہ سکتی تو تم نے کہا سوچا تھا کہ میں رہ پاؤں گا؟" اور حور کھلکھلا اُٹھی، وہی کھلکھلاہٹ، جو ساری آوازیں مدھم کردیتی تھیں۔ میں اس کی جانب دیکھتا جارہا تھا۔ (جاری ہے) نوٹ: قسط نمبر 16 بھی ان شاءاللہ اج ہی نشر کی جائے گی، شکریہ، اویس سمیر

جمعہ، 21 اگست، 2015

August 21, 2015 at 10:59PM

"حور"۔۔۔ قسط: 14 ۔۔۔ تحریر: اویس سمیر۔۔۔ (گزشتہ سے پیوستہ) "ساحل! اگر آپ مجھ سے بات کریں گے تو ہمیشہ کی طرح آپ کو میری جانب سے ایک اچھا مشورہ ہی میسر ہوگا، ساحل میں بھلے باہر کی دنیا کی اتنی سمجھ بوجھ نہ رکھتی ہوں، مگر پھر بھی آپ مجھ پر اعتبار کرسکتے ہیں!" "میں تو تم پر خود سے زیادہ اعتبار کرتا ہوں حور" میں نے اظہار کرنے میں تمام تکلفات کو بالائے طاق رکھ کر کہا، "بات یہ ہے حور۔۔۔" میں نے بات شروع کی، "میں آج نوکری کیلئے جس جگہ گیا تھا وہاں سے مجھے نوکری آفر ہوگئی ہے!" ، میں نے اتنا ہی کہا تھا کہ حور کی آنکھیں دَمکنے لگیں۔ "لیکن حور ۔۔۔"، میں نے اپنی بات جاری رکھی۔۔۔ "وہ نوکری پاکستان میں نہیں دبئی میں ہے!" میں نے حور کے چہرے کا رنگ اُڑتے ہوئے دیکھا۔ (اب آگےپڑھئے) "یہ تو بہت اچھی بات ہے ساحل!"، حور نے جھوٹ بولنے کی ناکام کوشش کی۔ حور جس دوراہے پر تھی اس کا میں کبھی اندازہ نہیں کرسکتا، ایک طرف تابعدار بیوی کی طرح میرے ہر فیصلے کو قبول کرنے کا وعدہ نبھانے کی کوشش تو دوسری جانب مجھ سے جدا ہونے کا ایک غم، ایک جانب شوہر کی تمام پریشانیوں اور تکالیف کو مِٹا دینے کی شدید خواہش تو دوسری جانب اپنے آنسوؤں کو روکنے کی ناکام کوشش، حور عجیب کشمکش میں تھی اور اس کرب کو زندگی کا ساتھی ہونے کے ناطے میں بھی محسوس کئے بنا نہیں رہ سکا۔ ایک جانب وہ مجھ سے شکوہ کرنا چاہتی ہے، مگر مجھ سے کیا گیا وعدہ اس کو روکے ہوئے تھا۔ ایک جانب وہ مجھے نیک تمناؤں کے ساتھ رخصت کرنے کی خواہش مند تھی تو دوسری جانب دل کے ہاتھوں مجبور بھی تھی۔ عجیب کشمکش تھی۔ یہ مادہ پرستانہ معاشرہ بھی کتنا عجیب ہے، انسان کتنا بھی اس سے بَچنا چاہے مگر کسی نہ کسی طرح یہ زندگی کے کسی موڑ پر اپنا ڈراؤنا چہرہ لئے نمودار ہوجاتا ہے، اپنی لپیٹ میں لے لیتا ہے، دنیاوی ضروریات جو کہ دن بدن بڑھتی چلی جاتی ہیں اور انسان اِن میں اُلجھ کر اپنا اصل مقصد گنوا بیٹھتا ہے، پھر اُس کا مقصدِ حیات صرف یہی رہ جاتا ہے کہ کماتا رہے اور کسی طرح اپنا اور اپنے بیوی بچوں کا پیٹ پالنے کا سبب بنتا رہے، گو کہ یہ بھی ایک عبادت ہے، مگر یہ تو صرف ایک جُز ہے، کُل نہیں۔ میں حور سے بہت کچھ کہنا چاہتا تھا، بہت سا دلاسا دینا چاہتا تھا، مگر ہمت ہی نہ بن سکی کہ اس سے کچھ کہ سکوں۔ وہ رات میں نے جاگ کر گزاری اور مجھے یقین تھا کہ حور بھی جاگ ہی رہی ہوگی، گو کہ ہم دونوں کے درمیان نہ کوئی تلخ کلامی ہوئی نہ ہی کوئی مَنفی بات مگر کچھ تھا جو ہم دونوں کو بےچین کئے دے رہا تھا۔ صبح صبح مجھے پاسپورٹ آفس جانا تھا، اس ہی لئے علی الصباح تیار ہوگیا، ساری رات جاگنے کے باوجود حور میرے لئے وقت پر ناشتا لے آئی، ناشتا کرتے ہی میں نے پاسپورٹ آفس کی راہ لی، سویرے پہنچنے کی وجہ سے چند ہی لوگ لائن میں لگے ہوئے تھے لہذا جلدی باری آگئی اور تمام ضروری تقاضے پورے کرنے کے بعد بالآخر مجھے پاسپورٹ لینے کیلئے اگلے ہفتے کا وقت دیا گیا، غنیمت! ہفتہ گویا سال بن چکا تھا، گزر ہی نہیں رہا تھا، حور اور میری گفتگو لمبی چوڑی باتوں سے سِمٹ کر اب بس "ہوں، ہاں" تک رہ گئی تھی۔ ان ہی دنوں میں سے ایک دن حور ڈریسنگ ٹیبل کے سامنے بیٹھی اپنے بال سنوار رہی تھی کہ میں اس کے سامنے جا پہنچا، کچھ دیر تو مجھے نظرانداز کرکے وہ بدستور بال سنوارتی رہی، میں نے نہایت نرمی سے اُس کے دونوں کندھوں کو پکڑ کر رُخ اپنی جانب کیا اور پوچھا، "حور، کیوں ناراض ہو مجھ سے؟" مگر حور تو جیس ے چُپ کا روزہ رکھی ہوئی تھی، کچھ نہ بولی۔ اس کی جھُکی جھُکی نظریں بہت سی کہانیاں سُنا رہی تھیں مگر میں وہ سب کہانیاں اس کے منہ سے سننا چاہ رہا تھا۔ میں نے اس کو مخاطب کرکے کہا، "حور! جب تک بات نہیں کرو گی تو مسائل کا حل کیسے نکلے گا، بہت بار چُپ رہنے سے معاملات سلجھتے نہیں بلکہ اور زیادہ الجھ جاتے ہیں۔ میں جانتا ہوں یہ سب میرے باہر جانے کے فیصلے کی وجہ سے ہے، لیکن میرے ہر عمل کی وجہ تم بھی جانتی ہو، میں نے تمہیں اپنے ہر فیصلے کا لازمی جُز مانا ہے۔" طویل عرصہ خاموشی طاری رہی، ہم دونوں ایک دوسرے کو دیکھتے ہی رہے۔ پھر حور نے دھیرے دھیرے بولنا شرو ع کیا، "ساحل میں ناراض نہیں ہوں، نہ ہی آپ کے کسی فیصلے سے خفا ہوں، لیکن آپ کی دوری کا ڈَر ہی میرے اندر کی تمام خوشگوار سوچوں کو غموں کی ایک چادر اوڑھا گیا، ساحل، میری ہنسی آپ کے ہی دم سے ہے۔ ہمارے مستقبل اور ہمارے بہتر کَل کیلئے یہ بات ٹھیک ہے کہ آپ کو مجھ سے دور جانا پڑیگا، میں آپ کے ساتھ کھڑی ہوں، مگر میں اس بات کی کوئی ضمانت نہیں دے سکتی کہ پھر میری ہنسی برقرار رہیگی کہ نہیں، ہاں مگر جب آپ پاس ہونگے تو۔۔۔!" وہ جو کچھ کہہ رہی تھی اس کا بخوبی اندازہ مجھے بھی تھا، لیکن ہم دونوں ہی مجبور تھے۔ اس دوران میں نے اُس آفس ایک بار اور چکر لگایا تاکہ انہیں پاسپورٹ ملنے کی تاریخ سے مطلع کرسکوں۔ ٹھیک ایک ہفتے بعد پاسپورٹ میرے پاس موجود تھا مگر میرے چہرے پر مردنی ایسی چھائی ہوئی تو جیسے کوئی فوتیدگی ہوگئی ہو۔ خواہشوں کا قافلہ بھی عجیب ہے، یہ وہاں سے گزرتا ہے جہاں راستے نہیں ہوتے ۔۔۔ (جاری ہے)

جمعرات، 20 اگست، 2015

August 20, 2015 at 10:54PM

"حور"۔۔۔ قسط: 13 ۔۔۔ تحریر: اویس سمیر۔۔۔ (گزشتہ سے پیوستہ) ایک دن میں گھر پہنچا تو حور نے میرا چہرہ دیکھ کر پہچان لیا۔۔۔۔مجھ سے نہایت پیار سے پوچھنے لگی کہ کیا ہوا۔۔۔ اپنی کھنکھتی ہوئی آواز میں کچھ نہ کچھ کہہ کر میرا موڈ ٹھیک کرنے کی ناکام کوشش کرنے لگی، میں نے سوچا حور سے چھُپانا بیکار ہے بتاؤں گا تو کوئی اچھا مشورہ ہی مل جائیگا، لہذا بالآخر میں نے اس کو بتا دیا کہ، "میری نوکری ختم ہوگئی ہے!" آگے کیا کرنا ہے، کیا ہونا ہے، سارے معاملات کیسے چلیں گے، ہم دونوں ہی اس بارے میں لاعلم تھے۔ (اب آگےپڑھئے) آفس کی جانب سے بقایا جات ملنے میں کم از کم دس سے پندرہ دن کا وقت تو لگنا ہی تھا ، ممکن تھا کہ اس سب میں پورا ماہ لگ جاتا، میرے پاس بڑی مشکل سے کچھ رقم جمع ہوئی تھی اب وہ ہر روز جاب کی تلاش اور اس سے متعلقہ دوڑ دھوپ میں پانی کی مانند خرچ ہو رہی تھی، یوں سمجھیں ایک پانی کا گھڑا ہے اس میں ایک جانب سے پانی بھرا جائے اور دوسری جانب سے نکالا جائے تو اس کے اندر موجود پانی کی سطح ایک سی رہے گی، لیکن اگر بھرنے والا نل بند کردیا جائے مگر نکالنے والا نَل بدستور اپنا کام جاری رکھے تو کچھ ہی دیر میں گھڑا خالی ہوجائے گا، یہ مثال میری موجودہ صورتحال پر صآدق آتی تھی اور مجھے اس کا اندازہ بھی تھا۔ لہذا میں اپنے طور پر پانی کے بھرنے والے نلکے کو چالو کرنے کی سَر توڑ کوشش کر رہا تھا۔ ان ہی دنوں ایک دن ایک دوست نے کسی جاب کا ریفرنس دیا، میں اُن سے ملنے اُن کے آفس پہنچا، بات چیت کافی اچھی رہی، اس دوران انہوں نے پوچھا کہ آپ کے پاسپورٹ کی میعاد تو باقی ہے نا، میں نے ان کو بتلایا کہ میرا پاسپورٹ ابھی تک بنا نہیں ہے، لیکن ساتھ ہی استفسار کیا کہ "وجہ کیا ہے؟"۔ جس پر مجھے بتایا گیا کہ جاب دبئی میں ہے۔ میں نے ان کو کہا، "میں سوچ کر بتاؤں گا"، کہنے لگے، "ساحل صاحب ، سوچنا کیسا، میرے پاس تو امیدواروں کی ایک لمبی لائن لگی ہے۔۔۔" ، انہوں نے ہاتھوں کو مشرق تا مغرب پھیلانے کی کوشش کرتے ہوئے کہا، "آپ بس کل ہی اپنے پاسپورٹ کیلئے جائیں اور مجھے ایک ہفتے میں اپنے پاسپورٹ کیساتھ ملیں تاکہ ہم یہ کاروائی آگے بڑھائیں۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔، تو۔۔۔ میں آپ کو کنفرم سمجھوں؟"، انہوں نے خود ہی بات کرکے خود ہی مجھ سے جواب نما سوال کردیا، "جی!" میں نے مختصر جواب دیا۔ میں نے بظاہر اُن کی اس آفر کو قبول کر ہی لیا تھا، لیکن اندر ہی اندر ایک عجیب سی کشمکش میں مبتلا تھا، کچھ بھی ہو یہ میرے باہر جانے کا معاملہ اور خواہش ہی میرے اور حور کے درمیان اختلاف کا باعث بنا تھا۔ حور کے ہر حال میں ساتھ دینے کے وعدے اور میرے فیصلے کو تسلیم کرنے کی بات کرنے کے عہد و پیمان کے باوجود میں جانتا تھا کہ یہ کرنا اس کیلئے اتنا آسان نہیں۔ بعض دفعہ کسی سے الگ ہونا چاہے وہ کچھ لمحوں کیلئے ہو کہ کچھ دن کیلئے یا کچھ سالوں کیلئے، ایک ہی سا لگتا ہے، حور اور میرا ساتھ بھی کچھ ایسا ہی تھا، چاہے وہ آفس کے چند گھنٹے ہوں یا حور کا اپنی امی کے پاس ایک دن کیلے ٹھہرنا، میرے لئے صدیوں جیسے لگتے اور یہی کچھ حال حور کا بھی تھا۔ میں گھر آیا تو اس ہی شش و پنج میں تھا، کیا فیصلہ کروں، حور سے ذکر کیا تو کہیں پھر سے وہی تلخیاں نہ پیدا ہوجائیں جو بہت مشکل سے ختم ہوئیں تھیں۔ حور تو پھر حور تھی ناں ، میری اندرونی کیفیت اُس سے کب چھُپی رہتی، میں لاکھ اس سے نظریں چُراتا رہا، اس سے بچتا رہا۔۔۔مگر آخر کب تک، عصر کی نماز کے بعد اپنے ہاتھ کی مخصوص اچھی سی چائے بنانے کے بعد وہ میرے سامنے کسی آئینے کی مانند آ بیٹھی اور سوالیہ انداز میں پوچھا، "جی؟؟؟" ۔۔۔ میں نے اِدھر اُدھر دیکھا اور انجان بننے کی ایکٹنگ کرتے ہوئے کہا، "میں نے تو کچھ نہیں کہا!" "تو کیا ہر بات کہنا ضروری ہے ساحل صاحب؟" حور نے مکمل یقین کےساتھ کہا۔ "کون سی بات۔۔۔کیا کہہ رہی ہو۔۔؟" میں نے پوچھا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔"میں نہیں جیت سکتا اس سے"۔۔ میں نے دل میں سوچا۔ "اُس ہی بات کی بابت پوچھ رہی ہوں جو آپ صبح سے دِل میں لئے گھوم رہے ہیں جناب؟ کیا بات ہے؟؟؟ کیوں چھُپائے بیٹھے ہیں؟" حور کو اپنی بات پر مکمل یقین تھا۔ "تم سمجھ ہی گئی ہو تو۔۔۔۔ ہاں ۔۔۔ ہے کچھ بات ۔۔۔ مگر۔۔ کیسے کہوں ۔۔ سمجھ نہیں آرہا!"، میرا دل انہی خدشات میں گھرا ہوا تھا کہ کیوں کہ حور کیلئے سب سے تکلیف دہ بات جدا ہونا ہی تھی۔ "ساحل! اگر آپ مجھ سے بات کریں گے تو ہمیشہ کی طرح آپ کو میری جانب سے ایک اچھا مشورہ ہی میسر ہوگا، ساحل میں بھلے باہر کی دنیا کی اتنی سمجھ بوجھ نہ رکھتی ہوں، مگر پھر بھی آپ مجھ پر اعتبار کرسکتے ہیں!" "میں تو تم پر خود سے زیادہ اعتبار کرتا ہوں حور" میں نے اظہار کرنے میں تمام تکلفات کو بالائے طاق رکھ کر کہا، "بات یہ ہے حور۔۔۔" میں نے بات شروع کی، "میں آج نوکری کیلئے جس جگہ گیا تھا وہاں سے مجھے نوکری آفر ہوگئی ہے!" ، میں نے اتنا ہی کہا تھا کہ حور کی آنکھیں دَمکنے لگیں۔ "لیکن حور ۔۔۔"، میں نے اپنی بات جاری رکھی۔۔۔ "وہ نوکری پاکستان میں نہیں دبئی میں ہے!" میں نے حور کے چہرے کا رنگ اُڑتے ہوئے دیکھا۔ (جاری ہے)