جمعرات، 3 ستمبر، 2015
September 03, 2015 at 09:50PM
"حور"۔۔۔ قسط: 26 ۔۔۔ تحریر: اویس سمیر۔۔۔ (گزشتہ سے پیوستہ) اُدھر حور کی طبیعت دن بدن خراب ہوتی چلی جارہی تھی، میں اس جانب سے بہت فکر مند تھا۔ میں وطن واپس لوٹنے کی تیاری کرنے لگا، حالات کچھ اس نہج پر تھے کہ میں کچھ اور سوچنے سمجھنے کے قابل نہیں رہا تھا۔ جتنا جلدی جو کچھ ہو سکتا تھا میں نے کیا، میرے واپس لوٹنے تک حور کومہ میں جاچکی تھی۔ (اب آگےپڑھئے) مجھے نہیں پتا تھا کیا ہوا کیسے ہوا، کسی پل میں آفس میں تھا تو کسی پل میں اپنے پاسپورٹ کے لئے تگ و دو کر رہا تھا، کسی پل میں ٹکٹ کے لئے بھاگ رہا تھا تو کسی وقت مسجد میں بیٹھا آنسو بہا رہا تھا، نہیں معلوم کب مجھے ٹکٹ ملا کب میں نے وہاں سے دوڑ لگائی، فلائٹ کب کی تھی، کتنے گھنٹے میں سفر میں رہا ۔ ۔ مجھے بس اتنا معلوم تھا کہ مجھے حور کے پاس پہنچنا ہے، ایئر پورٹ سے سیدھا نکل کر میں اس ہی جانب گیا ۔ ۔ میں ہسپتال میں داخل ہوا، بکھرا حلیہ، نقاہٹ چہرے پر، سفر کی تھکن، ہاتھ میں سفری بیگ، جیب خالی، ایسا لگتا تھا جیسے تھکن سے گِر جاؤں گا، پاؤں درد سے اینٹھ رہے تھے، ایک ایک قدم مَن مَن بھر بھاری ہورہا تھا، شاید حور کو دیکھنے کی ہمت مجتمع نہیں کر پارہا تھا میں کاؤنٹر پر گیا، میرے منہ سے صرف اتنے ہی الفاظ نکلے، "حور ساحل"، اس سے آگے میں کچھ نہیں بولا کاؤنٹر پر بیٹھی لڑکی نے ایک نظر مجھ پر ڈالی پر کمپوٹر میں کچھ انڈر کیا، "سر کمرہ نمبر 044" ، وہ بولی چوتھے فلور تک کا سفر، اور اب میں کمرہ نمبر چوالیس کے دروازے کے سامنے کھڑا تھا، فلور پر کمروں کی قطاریں موجود تھیں، جانے ہر کمرے میں ایک الگ کہانی ہوگی، کسی کی ماں، کسی کا باپ، کسی کی حور تو کسی کا ساحل، یہی زندگی کی داستان ہے یہی سانسوں کی ڈور، کب ای سی جی مشین پر ابھرتی دل کی دھرکن کی بیپ ایک لمبی ٹون میں تبدیل ہوجائے، اور بس ۔۔۔ روز و شب کے میلے میں، غفلتوں کے مارے ہم، بس یہی سمجھتے ہیں، ہم نے جس کو دفنایا، بس اس ہی کو مرنا تھا۔ شاید ہم زندگی کی حقیقت نہیں سمجھتے، یا سمجھتے ہیں تو ماننے سے انکار کرتے ہیں، اپنی زبان سے نہیں تو اپنے عمل سے ضرور، نہ جانے کیوں اس زندگی کو ایک انتظار گار ایک امتحان گاہ سمجھ کر نہیں گزارتے! میں نے دروازے کے لاک کو گھما کر زور دیا اور اندر داخل ہوگیا، بستر پر میری حور تھی، ہاں ۔۔ یہ میری حور تھی ، ، نہیں ۔۔۔ یہ میری حور نہیں ہوسکتی، میں زمین پر بیٹھ گیا، میں آنسوؤں کو روک نہیں پایا، اچھا تھا کہ کوئی کمرے میں نہیں تھا، ورنہ مجھے بالکل بھی بھلا نہیں لگتا اگر کوئی اس وقت مجھے روکتا یا دلاسا دیتا، مجھے رونا تھا، جی بھر کر، مجھے اس غم کو اپنے آنسوؤں کی صورت بہانا تھا، شاید کہ اس سے میرے دل کی بےچینی کم ہوجاتی، کیوں ساحل؟ کیوں کیا تم نے ایسا؟ بولو؟ کیا بگاڑا تھا حور نے تمہارا، صرف ایک ہی تو خواہش تھی، صرف تمہارا ساتھ ہی تو مانگا تھا، کیوں ساحل کیوں؟ میں خود سے سوال کرتا جاتا اور بلکتا جاتا تھا۔ میں اُٹھا، اور حور کے پاس جا پہنچا، بند آنکھیں سپاٹ پیلا پڑتا چہرہ، ہاتھوں میں گھپی سوئی کی نوکیں، جن کے دوسری جانب کئی ساری ڈرپیں لگی تھیں، وہ رعنائی، وہ گرمجوشی، وہ چمکتی آنکھیں، وہ کھلکھلاہٹ، کدھر گئی میری حور، کئی لمحے گزر گئے میں اس کو دیکھتا رہا، میں اس کے سرہانے بیٹھ گیا، اس کا ہاتھ تھام لیا، اس لمس کی چاہت مجھے کتنے دنوں سے تھی، برف جیسا ٹھنڈا ہاتھ، ایک ایک لمحہ مجھے یاد آرہا تھا، وہ لمحہ جب حور رخصت ہو کر میرے دل کی دھڑکن بنی، وہ لمحہ جب میں نے اس کا گھونگٹ اُٹھا کر واقعتاً ایک حور کا روپ دیکھا،وہ لمحہ جب میں نے اس کے دونوں ہاتھ چوڑیوں سے بھر دئے، وہ لمحہ جب بارش میں ہم دونوں بھیگ گئے، وہ سارے لمحے جب ہم ایک دوسرے کی چاہتوں میں کھوئے رہے، وہ لمحہ جب اس نے میری بیماری میں اپنی طبیعت کی پرواہ نہ کی، وہ لمحہ جب میرے کاندھے کو وہ مضبوطی سے تھامے رہی، وہ لمحہ جب میری مالی پریشانی کو دیکھتے ہوئے اس نے اپنی چوڑیاں مجھے دینا چاہیں، وہ لمحہ جب جدائی کے تصور نے ہمیں ایک دوسرے کے اور قریب لا کھڑا کیا تھا، وہ لمحہ جب ساحل سمندر پر اس نے چلتے چلتے اچانک رک کر مجھ سے وہ محبت مانگنی جس میں ڈر کی آمیزش نہ ہو، اور ہر وہ لمحہ جب اس کی معصوم کھلکھلاہٹ ساری آوازیں گم کردیتی اور صرف حور کی کھلکھلاہٹ ہی چار سو رہ جاتی ۔ ۔ میں اس کے چہرے پر جھکا ہوا تھا، ایک ایک کرکے سارے لمحے میری آنکھوں کے سامنے آتے جاتے، میری آنکھ سے نادانستہ طور پر ایک آنسو ٹپکا اور حور کے چہرے پر لڑھک گیا، شاید میری گرفت اس کے ہاتھ پر مضبوط تھی، اس کے بدن میں ارتعاش ہوا، اس کی آنکھیں کھلیں، بہت کم، بہت مدھم، نیم وا آنکھوں سے اس نے میری جانب دیکھا، لب ہلے، شاید کچھ کہنا چاہتی تھی مگر کہہ نہ سکی، شاید کہ "اتنی دیر ساحل؟"، اس نے کچھ لمحے مجھے دیکھا اور پھر آنکھیں بند کرلیں، بہت تھک بھی تو گئی تھی دُکھ سہتے سہتے۔ --------- میں اس کے بستر کے کنارے سر ٹکا کر بیٹھا ہوا تھا، میرے سر پر اس ہی شفیق ہاتھ کا لمس محسوس ہوا، میں نے ماں کی گود میں سر رکھ دیا، نہ جانے کتنے آنسو ان کی گود میں گرا دئے، وہ میرے بالوں میں اپنی انگلیوں سے کنگھی کرتی رہیں۔ ان کے لب ہلتے رہے، دعائیں کرتی رہیں مجھ پر دم کرتی رہیں، بہت سکون مل رہا تھا، میری اس وقت بس ایک ہی دعا تھی، اللہ میری حور کو اچھا کردے۔ ڈاکٹر کے مطابق حور ہوش میں تو آ گئی تھی، مگر مستقل نقاہت میں تھی، کبھی اس پر بیہوشی طاری ہوجاتی تو کبھی بہتری کی طرف جاتے جاتے پھر بگڑ جاتی، میں بہت پریشان تھا، اور پھر یہ ایک نہیں دو جانوں کا سوال تھا ۔ ۔ ۔! (جاری ہے)
سبسکرائب کریں در:
تبصرے شائع کریں (Atom)
کوئی تبصرے نہیں:
ایک تبصرہ شائع کریں