اتوار، 23 اگست، 2015
August 23, 2015 at 02:32PM
"حور"۔۔۔ قسط: 15 ۔۔۔ تحریر: اویس سمیر۔۔۔ (گزشتہ سے پیوستہ) اس دوران میں نے اُس آفس ایک بار اور چکر لگایا تاکہ انہیں پاسپورٹ ملنے کی تاریخ سے مطلع کرسکوں۔ ٹھیک ایک ہفتے بعد پاسپورٹ میرے پاس موجود تھا مگر میرے چہرے پر مردنی ایسی چھائی ہوئی تو جیسے کوئی فوتیدگی ہوگئی ہو۔ خواہشوں کا قافلہ بھی عجیب ہے، یہ وہاں سے گزرتا ہے جہاں راستے نہیں ہوتے ۔۔۔ (اب آگےپڑھئے) میں نے اُن صاحب سے فون پر بات کی اور انہیں پاسپورٹ ملنے کے حوالے سے بتایا جس پر انہوں نے اگلے ہی دن مجھے بُلا لیا باہر جانے کے حوالے سے جو بھی انتظامات کرنے ہیں وہ جلد سے جلد نمٹائے جاسکیں۔ میں نے اس حوالے سے ابھی تک اپنے دوست احباب کو نہیں بتایا تھا، یہ خبر صرف میرے گھر والوں تک ہی محدو تھی۔ مجھے میٹنگ کیلئے آفس دس بجے بلایا گیا تھا، ہر رات کی طرح وہ رات بھی عجیب آنکھوں ہی آنکھوں میں کٹی، صبح فجر کے بعد کچھ دیر اِدھر اُدھر بیٹھا پرانے اخبار کھنگالتا رہا، کچھ آہٹ محسوس ہوئی، کمرے میں آیا تو حور نہ جانے کب کی اُٹھ چکی تھی، استری اسٹینڈ کے پاس کھڑی میری سب سے اچھی شَرٹ استری کر رہی تھی، میں اس کے پاس جا کھڑا ہوا، یہ کیسے ممکن تھا کہ وہ میری آہٹ کو میری خوشبو کو محسوس نہ کرتی۔۔۔ لیکن پھر بھی وہ اپنے کام میں لگی رہی اور میں اس کو چُپ چاپ دیکھتا رہا، استری مکمل کرنے اور شرٹ کو نہایت نفاست سے ہینگر پر لگانے کے بعد میری جانب بڑھی اور کہنے لگی: "آپ تو سوئے ہی نہیں؟"، اس کی آواز میں ناراضگی، پیار، شکوے کا ملا جلا سا عنصر تھا "اب اگر وہاں فریش نہیں رہے تو آپ کا تاثر کتنا غلط جائے گا۔۔۔"، اس نے اپنی بات جاری رکھی "آپ تھوڑا سا سو جائیں۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔ٹھیک ہے؟ میں آپ کو وقت پر جگا دونگی!"، اس نے میرے ہاتھوں کو اپنے ہاتھ میں لے بےحد محبت سے کر کہا. اتنی محبت کے جواب میں میں کہتا بھی کیا، بَس مسکرا کر ہاں کہہ کر بستر کی جانب بڑھ گیا۔ ساری رات کی نیند بھی کیا سُکون دیتی جو ان دو گھنٹوں کی نیند نے مجھے دیا، اُٹھا تو میں فریش ہوچکا تھا، حور فوراً ہی ناشتا لے آئی، کپڑے بدل کر بائیک اسٹارٹ کی اور وقتِ مقررہ پر آفس پہنچ گیا۔ آفس میں میرا ہی انتظار ہورہا تھا، انہوں نے پاسپورٹ اور تمام دستاویزات کو اسکین کیا اور اس کی ایک فائل بنا کر متعلقہ ادارے کو ای میل کردی۔ "ساحل صاحب، میں نے اپنی جانب سے کاروائی مکمل کردی ہے، اب جیسے ہی چند دن میں انکی جانب سے جواب آتا ہے میں آپ کو مطلع کرتا ہوں" ان سب کاموں کو نمٹانے میں کئی گھنٹے لگ گئے، وہاں سے نکل کر گھر واپس آیا، سب گھر والے دوپہر کا کھانا کھا چکے تھے، حور کھانے پر میرا انتظار کررہی تھی، حور کی جانب سے اس موضوع پر کوئی بات نہ ہوئی، پھر میں نے ہی اس کو کہا، "حور آج میں نے تمام دستاویزات جمع کرا دئے ہیں ان شاءاللہ کچھ ہی دن میں کنفرم ہوجائے گا کہ کیا سلسلہ ہے" ۔۔ میں نے اس سے کہا۔ "ہممم"، اس نے مدھم سے آواز میں کہا اور ہاں میں سر ہلایا۔ "کتنے آرام سے سب ہورہا ہے نا حور۔۔۔" میں نے اس کو کریدنا چاہا مگر اس نے صرف سر ہلانے پر اکتفا کیا۔ "میں وہاں جاتے ہی تمہیں اپنے پاس بُلا لوں گا!"، میں نے حور کو کافی دن سے مسکراتے ہوئے نہیں دیکھا تھا۔ "واقعی؟" ، حور کی آنکھیں دمکنے لگیں! "ہاں!" ، میں نے کہا، "تم میرے بن نہیں رہ سکتی تو تم نے کہا سوچا تھا کہ میں رہ پاؤں گا؟" اور حور کھلکھلا اُٹھی، وہی کھلکھلاہٹ، جو ساری آوازیں مدھم کردیتی تھیں۔ میں اس کی جانب دیکھتا جارہا تھا۔ (جاری ہے) نوٹ: قسط نمبر 16 بھی ان شاءاللہ اج ہی نشر کی جائے گی، شکریہ، اویس سمیر
سبسکرائب کریں در:
تبصرے شائع کریں (Atom)
کوئی تبصرے نہیں:
ایک تبصرہ شائع کریں