بدھ، 2 ستمبر، 2015
September 02, 2015 at 11:39PM
"حور"۔۔۔ قسط: 25 ۔۔۔ تحریر: اویس سمیر۔۔۔ (گزشتہ سے پیوستہ) ادھر حور کا بھی الگ ہی حال تھا، وہ اپنی زبان سے تو صرف یہی بیان کرتی کہ وہ "ٹھیک" ہے، مگر اس کی اصل حالت کا علم مجھے امّاں اور گھر کے دوسرے افراد سے ہوتا تھا، وہ نہ تو اب کسی سے زیادہ بات کرتی تھی نہ ہی خود کو مصروف رکھنے کیلئے کوئی مشغلہ اختیار کرتی، اس کی صحت دِن بدِن گر تی جارہی تھی، وہ بیمار رہنے لگی تھی، اُسکی کھلکھلاہٹ تو جیسے کسی اور ہی دنیا جا بسی تھی، امّاں نے کچھ دن اُس کو میکے بھیجا شاید دل بہل جائے مگر جلد ہی وہ واپس چلی آئی، اماں کے پوچھنے پر بس اتنا جواب دیا کہ، "اس گھر سے ساحِل کی نسبت ہے"، کبھی تو اس قدر پُر سکون ہوتی اور کبھی اس قدر بےچین گویا اس کے دل میں ایک طوفان ہو جا پھٹ پڑنے کو تیار ہو۔ ایک دن میں آفس میں تھا کہ میرے پاس فون آیا، کال ریسیو کی تو دوسری جانب بھائی جان تھے، میرے بار بار پوچھنے پر صرف اتنا بتایا، "آج صبح کام کرتی کرتی گِر گئی تھی، حور کی طبیعت بہت خراب ہے ساحل، ہم ہسپتال میں ہیں" (اب آگےپڑھئے) میں پہلے ہی گھر سے دوری کی وجہ سے پریشان تھا میرے لئے تو یہ خبرجیسے ایک قیامت بن کر نازل ہوئی تھی ، اس صورتحال میں میں خود کو کیسے سنبھالتا، کچھ دیر تو میں نے اپنے آپ پر قابو پانے کی ہر ممکن کوشش کی مگر سب بےسود میں ، فون میرے ہاتھ سے گر چکا تھا، میں مدہوش ہوچکا تھا، فون پر کچھ دیر بھائی میرا نام پاکرتے رہے مگر پھر جیسے ہر جانب خاموشی سی طاری ہوگئی۔ ہر جانب اندھیرا تھا، اِس اندھیرے میں میں بھٹکنے لگا، کبھی اپنے دائیں جاتا تو کبھی بائیں مگر ہاتھ کو ہاتھ سجھائی نہ دیتا، مجھے میرا راستہ نہ ملا، مگر میں نے کوشش کرنی بند نہ کی، آخر کار تھک ہار کر اللہ کے سامنے سر جھکا دیا، میں سجدے میں گِر چکا تھا، میری ہر امید میرے اللہ سے وابستہ تھی، نہ جانے کتنی دیر میں سجدے میں سر جھکائے پڑا رہا، میرے ہر جانب اندھیرا ہی اندھیرا تھا، مجھے روتے روتے نہ جانے کتنی دیر ہوچکی تھی، پھر ایک شفیق سا ہاتھ میرے سر پر آیا، کوئی ہولے ہولے میرے سر پر ہاتھ پھیر رہا تھا۔۔۔ میں اس ہاتھ کے لمس کو اچھی طرح پہچانتا تھا، جب میں ننھا سا تھا تو یہی ہاتھ مجھے انگلی پکڑ کر کھڑا کرتا تھا، یہی ہاتھ مجھے سہارا دیتا تھا، اس ہی ہاتھ کا لمس تھا کہ میں روتے روتے چُپ ہوجاتا تھا، یہی ہاتھ تھا کہ گھر آنے کے بعد جب تک میرے سر پر اس کا لمس نہ ثبت ہوتا مجھے چین نہ آتا، یہی ہاتھ تو میری پہلی محبت تھا، میری ماں کا ہاتھ، ہر لمحے میری لئے رونے والا دعا دنے والا۔۔۔ میں نے سر اٹھایا، ہاں شاید ماں ہی تھیں، میں ان کی گود میں سر رکھ دیا، اور بلک بلک کر رونے لگا، "ماں ۔۔ کیا یہ سزا ہے؟ یا یہ امتحان ہے؟"، ماں کچھ نہ بولی، بس اس کے لب ہلتے رہے نہ جانے وہ میرے لئے کیا کیا دعائیں کر رہی تھیں۔ پھر نہ جانے کیا ہوا کہ میرے گرد موجود اندھیرا چھَٹنے لگا، میں اُٹھ کھڑا ہوا، ایک نور کا ہالہ میرے اطراف میں تھا۔۔۔ شاید میں ہسپتال میں تھا، شاید وہ دل کا دورہ تھا، یا کچھ اور ۔۔ مگر وہ خبر سُن کر میں اپنے ہوش میں نہ رہا تھا، فون میرے ہاتھ سے گر گیا تھا، آفس میں ساتھ والے مجھے اُٹھا کر ہسپتال لے آئے ، باقی میری ماں کی دعا اور توجہ تھی کہ میں ٹھیک رہا، اگلے چوبیس گھنٹوں میں میں بہتر ہوچکا تھا، فون منع تھا، بستر سے اٹھنے کی اجازت ملتے ہی فوراً اپنے گھر کال ملائی، بھائی سے بات ہوئی، انہیں میں نے اپنی طبیعت کے حوالے سے کچھ بھی نہیں بتایا، وہ پوچھتے رہے کہ کیا ہوا تھا اور میں نے فون کیوں بند کردیا تھا مگر میں ٹالتا رہا۔۔۔ ان ہی کی زبانی مجھے معلوم ہوا کہ اماں اُس وقت سے اب تک جائے نماز پر بیٹھی میرے اور حور کے لئے دعائیں کر رہی ہیں۔ حور بدستور ہسپتال میں ہی تھی، میرا بےچینی سے برا حال تھا، نہ جانے کیا ہوگیا تھا، اگلا دن آفس گیا، واپسی کے بعد سارا وقت مسجد میں بیٹھا دعائیں مانگتا رہا۔ نہ کھانے کا ہوش تھا نہ ہی پینے کا، حور کا موبائل بند تھا، شام میں بھائی کو کال کی، "بھیا! حور کیسی ہے؟"، میں نے پوچھا۔ "بہتر ہے، گھر واپس آگئی ہے ڈاکٹر نے کہا ہے کہ بہت کمزوری ہے، اس حالت میں کمزوری بہت برا اثر ڈلتی ہے، اس لئے فوری طور پر کئی ڈرپ چڑھائی گئیں اور بعد ازاں صحت کو معمول پر لانے کے لئے وٹامنز ۔ ۔ ۔ " بھائی نہ جانے کیا کیا بولے جارہے تھے مگر میرا ذہن و دل ان کے اس لفظ پر رُک گیا، "اس حالت" میں؟کیا کہہ رہے ہیں بھائی، کس حالت کی بات کر رہے ہیں؟ میں سمجھا نہیں!"، میں نے پوچھا "ساحل ۔۔ ان شاءاللہ بہت جلد اللہ تم کو خوشیاں دے گا۔۔" میرا دل خوشی سے جھوم سا گیا "کیا میری حور سے بات ہوسکتی ہے؟"، میں نے بےتابی سے پوچھا، اب اور انتظار کی سکت مجھ میں نہ تھی! "ساحل ۔۔ وہ تو ابھی آرام کر رہی ہے، ہاں جیسے ہی وہ نارمل ہوتی ہے میں اس کی تم سے بات کراتا ہوں"، بھائی نے کہا۔ "مگر بھائی ۔۔ " ، میں نے کچھ کہنا چاہا ۔۔ مگر بھائی نے ہسنتے ہوئے کہا کہ ، "ارے اتنی بھی کیا بےصبری ساحل ۔۔ میں سمجھ سکتا ہوں، مجھ پر بھروسہ کرو"۔ تقریباً پانچ گھٹے بعد میرے موبائل کی گھنٹی بجی اور میں نے ایک سیکنڈ ضائع کئے بغیر وہ فون اُٹھا لیا۔ دوسری جانب حور کی نقاہت بھری آواز آئی ۔۔ "ساحل" اس نے کہا۔ "ہاں حور بولو میں سن رہا ہوں۔۔ ۔ " میری آواز بھرا سی گئی تھی۔ "ساحل ۔۔ مجھے آپ کی ضرورت ہے۔" "میں تمہارے پاس آجاؤں گا حور بہت جلد تم فکر نہ کرو"، میری بات میں ایک یقین سا تھا "مجھے یقین ہے ساحل آپ جلد میرے پاس آجاؤ گے" "ان شاءاللہ" میں نے جوا ب دیا اس وقت زیادہ بات نہ ہوئی، حور کی طبیعت اس قابل نہیں تھی کہ وہ زیادہ بات چیت کرسکے -------- اللہ نے حور سے میرے وعدے کا بھرم رکھ لیا، لیکن وہ کہتے ہیں نا کچھ پانے کے لئے کچھ کھونا پڑتا ہے، کچھ ایسا ہی میرے ساتھ بھی ہوا میری نوکری کو دو ماہ مکمل ہونے والے تھے، ایک دن صبح میں آفس پہنچا تو مجھے اطلاع دی گئی کہ ویزہ پالیسی میں کچھ تبدیلی کی وجہ سے تین ماہ کے ویزوں کو دو ماہ میں تبدیل کردیا گیا ہے، لہذا میرا اور مجھ جیسے دوسرے ملازمین کا ویزہ ختم ہوچکا تھا جس کے بعد ہمیں واپس بھیج دیا جانا تھا جب تک کہ کمپنی دوبارہ ویزہ جاری نہ کردیتی، یہ میرے لئے ایک بہت بڑا مسئلہ تھا، کیوں کہ اب تک تو صرف میرے پاس اتنے ہی پیسے جمع ہوئے تھے کہ میں اپنے اوپر موجود قرض، کمیٹی کے پیسے اور چند ماہ کا خرچ اٹھا سکوں، اس سے زیادہ اگر کچھ بھی ہوتا تو میر ے لئے بہت مسائل کا باعث ہوسکتا تھا۔ اُدھر حور کی طبیعت دن بدن خراب ہوتی چلی جارہی تھی، میں اس جانب سے بہت فکر مند تھا۔ میں وطن واپس لوٹنے کی تیاری کرنے لگا، حالات کچھ اس نہج پر تھے کہ میں کچھ اور سوچنے سمجھنے کے قابل نہیں رہا تھا۔ جتنا جلدی جو کچھ ہو سکتا تھا میں نے کیا، میرے واپس لوٹنے تک حور کومہ میں جاچکی تھی۔ (جاری ہے)
سبسکرائب کریں در:
تبصرے شائع کریں (Atom)
کوئی تبصرے نہیں:
ایک تبصرہ شائع کریں