ہفتہ، 29 اگست، 2015
August 29, 2015 at 10:31PM
"حور"۔۔۔ قسط: 21 ۔۔۔ تحریر: اویس سمیر۔۔۔ (گزشتہ سے پیوستہ) "حور۔۔۔"، میں نے کہا، "محبت فاصلوں اور قربت کی محتاج نہیں ہوتی، محبت تو صرف محبت ہوتی ہے، اور جب بات حور اور ساحل کی محبت کی ہو تو بات ہی کچھ اور ہوتی ہے۔۔۔"، میں نے کہا کافی دیر خاموشی چھائی رہی، حور کا سر میرے کاندھے پر جما رہا، شاید اس کو ہمیشہ کی طرح ایک مضبوط سہارے کی ضرورت محسوس ہورہی تھی۔ "اپنی آنکھیں بند کرو ساحل۔۔"، حور نے کہا میں نے اس کی جانب دیکھا، اور دیکھتا رہا۔ میری حور میرے سامنے ہو اور میں آنکھیں بند کروں کیسے ممکن ہے۔۔ میں چُپ رہا۔ (اب آگےپڑھئے) "ساحل آنکھیں بند کرو، تصور کرو، ہم ایسی دنیا میں موجود ہیں، جہاں کوئی مادی ضرورت نہیں، جہاں ہمیں اس دنیا کی مانند پیسوں کی ضرورت نہیں، جہاں پریشانی نہیں، بیماری نہیں، جہاں جدائی نہیں، جو کہ ہمیشگی کی زندگی ہو، تصور کرو ساحل۔۔۔۔"، میں یہ سب کہتی ہوئی حور کو وارفتگی سے دیکھے جارہا تھا۔ میں نے اپنی آنکھیں بند کیں، تصور کیا، کیا ہی بھلی زندگی تھی، نہ کوئی غَم نہ کوئی دکھ، نہ کوئی مادی ضرورت، نہ جدائی، صرف محبت ہی محبت، یہ تو بالکل جنت تھی"، حور مجھے خیال ہی خیال میں جنت کا بتا رہی تھی، لیکن جنت تو ہمارے خیالوں سے بھی زیادہ اچھی ہے، ان نعمتوں کے بارے میں تو ہم کبھی ٹھیک اندازہ بھی نہیں لگا سکتے۔ "ساحل۔۔۔، اس ہمیشگی کی دنیا میں مجھے آپ کا ساتھ چاہئے۔۔۔ جب میں کہتی تھی ناں کہ مجھے ایسی محبت چاہئے کہ جس میں جدائی کا تصور بھی نہ ہو، تو میرے نزدیک یہی ہمیشہ کی دنیا تھی، ساحل، اس دنیا میں تو آزمائشیں ہیں، دکھ ہیں پریشانیاں ہیں جدائیاں ہیں، لیکن بعد کی دنیا میں یہ سب نہیں ہوگا، اور مجھے آپ کا ساتھ آنے والی دنیا میں بھی چاہئے اور یقیناً اس کیلئے میں اِس دنیا کی ہر آزمائش کو خوش دلی سے سہوں گی"، حور نے اپنی بات ایک عزم سے مکمل کی میں نے نوٹ کیا۔۔۔۔ اس نے میرا ہاتھ بہت سختی سے بھینچا ہوا تھا، مبادا میں اس کو چھوڑ کر نہ چلا جاؤں۔ میں اُٹھ کھڑا ہوا، وہ بھی میرے کاندھے سے لگی کھڑی ہوگئی، بہت دیر تک ہم یوں ہی کھڑے رہے، شاید سورج ڈوبنے کا نظارہ ہی اس قدر مسحُور کن ہوتا ہے، لیکن یہی تو ایک نئے دن کے طلوع ہونے کی نوید ہوتا ہے، بےشک ہر رات کے بعد دن ہے اور ہر اندھیرے کے بعد اجالا ہے۔ آنے والے دنوں میں حور نے میرے لئے جو کیا اس کے بعد میرے دل میں حور کی قدر اور بھی زیادہ بڑھ گئی، ایک دن میں گھر لوٹا تو کیا دیکھتا ہوں کہ حور مصلّے پر بیٹھی ہے اور اس کی آنکھوں سے آنسو جاری ہیں، وہ رو رو کر اللہ سے دعائیں کر رہی تھی۔ میں چُپ چاپ بستر پر لیٹ گیا، کافی دیر بعد وہ میرے قریب آئی، اور میرے پہلو میں بیٹھ گئی، پھر کہنے لگی، "ساحل یہ بہت مشکل ہے"، میں نے اس کی جانب سوالیہ نگاہوں سے دیکھا، آنسو کے ننھے قطرے اس کی پلکوں پر اب بھی ستاروں کی مانند چمک رہے تھے، "ساحل، میں اللہ سے آپ کی کامیابی کی دعا مانگتی ہوں، مگر میرا دل نہ جانے کیوں آپ سے جدا نہ ہونے کی دعا کرنے میں لگ جاتا ہے، میں چاہتی ہوں کہ میرا وقت آپ کی جاب کی مشکلات دور کرنے کی دعا میں صرف کروں، مگر جب ہاتھ اُٹھتے ہیں تو دل سے ایک ہی دعا نکلتی ہے، اللہ ساحل کو مجھ سے الگ نہ کیجئے، پھر میں رو پڑتی ہوں کہ نہ جانے میں کیوں اپنی محبت میں اس قدر خود غرض ہوگئی ہوں کہ آپ کی خواہشات کو اپنی دعاؤں کا حصہ بنانے کی بجائے اپنی خواہشات کو ہی ترجیح دے جاتی ہوں"، اس کی آنکھوں سے پریشانی جھلک رہی تھی۔ میں نے اس کو دلاسا دیا اور اس کو یقین دلایا کہ مجھے اس پر بھروسہ ہے ان شاءاللہ اللہ اس کی دعائیں ضرور قبول کرے گا جو ہم دونوں کے حق میں ہونگی، حور یہ سن کر مطمئن سی ہوگئی۔ --------- اتوار کا دن آچکا تھا، سارا عالم ہمیشہ کی طرح سو رہا تھا، میں عادت سے مجبور اُٹھا ہوا تھا اور حور میرا ساتھ دے رہی تھی۔ عاشر بھائی نے کمیٹی کی میٹنگ چار بجے کے قریب بلائی ہوئی تھی، مجھے کافی امید تھی کہ کمیٹی میرے حوالے کردی جائے، مقررہ وقت پر میں ان کے پاس پہنچا، کمیٹی کے باقی افراد بھی ایک ایک کرے آتے گئے، احمر بھی موجود تھا، عاشر بھائی نے اپنی بات شروع ہی کی تھی کہ میں نے اپنا ہاتھ کھڑا کیا، عاشر بھائی نے وجہ پوچھی تو میں نے شروع سے لے کر اب تک کی نوکری کے حوالے سے جدوجہر گوش گزار کردی، باقی کمیٹی کے ارکان بھی یہ سب سُن رہے تھے، ٹکٹ کے حوالے سے بات ہوئی میرے پاس صرف چند ہی دن باقی تھے، اس کے بعد نوکری کا یہ چانس میرے ہاتھ سے نکل جاتا اگر میں مقررہ وقت پر جاب والے دن کمپنی نہ پہنچتا۔ عاشر بھائی اور باقی افراد نے یہ سب بغور سنا، باقی لوگوں کے مسائل میں کسی کو اس ماہ نئی بائیک لینی تھی، تو ایک صاحب کو اس ماہ اپنے بیوی بچوں کے ساتھ شمالی علاقہ جات گھومنے کے لئے جانا تھا، عاشر بھائی نے سب کی رائے اور ضروریات سُن کر کہا کہ اس دفعہ کمیٹی ساحل کو دی جارہی ہے کیوں کہ مجھے لگتا ہے کہ اس کی ضروریات ہماری مشترکہ ضروریات سے زیادہ اہم ہیں۔ انہوں نے ایک دفعہ سب سے پوچھا کہ کسی کو اس پر اعتراض تو نہیں، خوش قسمتی سے کسی نے بھی کچھ نہ کہا۔ میرا ایک بہت اہم مسئلہ حل ہو چکا تھا ، یوں سمجھیں کہ میرا آدھے سے زیادہ کام بن چکا تھا۔ اتوار کو سیاحت و سفر سے متعلق تمام ادارے بند ہی ہوتے تھے۔ اگلی صبح میں اماں کی بہت ساری دعاؤں میں اور حور کی بہت ساری محبتوں کے حصار میں گھر سے نکلا ایئر لائن کے آفس پہنچ کر میں نے تمام معاملات نمٹائے اور کچھ ہی دیر میں میرے پاس دبئی کا ٹکٹ موجود تھا، میری فلائٹ انتیس کو تھی تاکہ مجھے جس دن جوائن کرنا ہے اس سے ایک دن قبل وہاں پہنچ کر اپنی تیاری مکمل کر سکوں۔ اگلا سارا دن اس ہی دفتر کے چکر میں گزرا، دن کے اختتام پر ویزے کے کاغذات میرے پاس آگئے تھے۔ میں گھر میں داخل ہوا، عجیب سی کیفیت تھی، اتنا بڑا کام ہو گیا تھا مگر مجھے خوشی نام کو نہ تھی، عجیب سا بجھا بجھا سا ماحول، کچھ تو کمی تھی، شاید بہت بڑی کمی ہونے جارہی تھی۔ میں اپنے روم میں داخل ہوا، ٹکٹ ایک جانب ٹیبل پر رکھا، حور نے سوالیہ انداز میں میری جانب دیکھا میں نے اثبات میں سر ہلا دیا یعنی کام ہوگیا ٹھیک تین دن بعد انتیس تاریخ کو میری فلائیٹ تھی۔ (جاری ہے)
سبسکرائب کریں در:
تبصرے شائع کریں (Atom)
کوئی تبصرے نہیں:
ایک تبصرہ شائع کریں