جمعرات، 27 اگست، 2015
August 27, 2015 at 08:19PM
"حور"۔۔۔ قسط: 19 ۔۔۔ تحریر: اویس سمیر۔۔۔ (گزشتہ سے پیوستہ) عاشر بھائی کے استفسار پر احمر نے بتایا کہ فوری طور پر ٹینٹ لگانا ہے، قبر کا بندوبست کرنا ہے، گھر مہمانوں سے بھرا ہوا ہے ان کے لئے کھانے کا انتظام وغیرہ۔ اشعر بھائی نے مزید کریدا تو پتا چلا کہ باقی چیزوں کا بندوبست تو ہے مگر ٹینٹ اور کھانے کے پیسے نہیں مل رہے جس کیلئے وہ کمیٹی کی رقم کے حوالے سے آیا ہے۔ عاشر بھائی نے کافی اطمینان سے بات سُنی پھر اپنے گھر کا دروازہ کھولتے ہوئے ہمیں اندر بُلایا اور ڈریئینگ روم میں بٹھا کر خود اندر چلے گئے۔۔ کچھ ہی دیر گزری ہوگی کہ وہ ڈرائینگ روم میں نمودار ہوئے انکے ہاتھ میں پچاس ہزار روپے تھے جو انہوں نے ہمارے سامنے ٹیبل پر رکھ دئے۔۔۔ (اب آگےپڑھئے) کچھ دیر وہ ہم دونوں کو چُپ چاپ دیکھتے رہے پھر گویا ہوئے، "احمر، کیا تم نے پیسوں کا جو مَصرف بتایا اسی میں خرچ کرو گے؟"، انہوں نے پوچھا احمر نے ہاں میں سر ہلایا، عاشر بھائی گویا ہوئے، "احمر اگر ایسا ہے تو دیکھو یہ پچاس ہزار نہیں، بلکہ جلتی ہوئی آگ ہے، کیا تم اسے ہاتھ میں لینا پسند کرو گے؟" عاشر بھائی نے پوچھا، احمر نے کہا، "میں سمجھا نہیں عاشر بھائی"، "احمر، تم جس مقصد کیلئے یہ لے رہے ہو وہ تمہاری اشد ضرورت نہیں، اس وقت تمہارے نزدیک صرف قبر کا انتظام اور باقی ہسپتال کے بقایا جات ضروری ہیں، لیکن بڑا ٹینٹ لگانا اور کھانا کھلانا جس کیلئے تم دراصل یہ رقم مانگ رہے ہو یہ تمہاری جیب پر نہ صرف اضافی بوجھ ہے، بلکہ معاشرے کی ان اِضافی رسومات کی پیروی کرنے کی وجہ سے تم اللہ کی ناراضگی بھی مول لو گے ۔۔۔ بولو ۔۔ ۔یہ پیسے تمہارے سامنے پڑے ہیں!" کافی دیر تک خاموشی رہی، عاشر بھائی ہمیں دیکھتے رہے، احمر اضطراب سے اپنے دونوں ہاتھوں کو آپس میں رگڑ رہا تھا، ایک قریبی دوست ہونے کے ناطے میں بھی اس کی تکلیف محسوس کررہا تھا، میں جانتا تھا کہ معاشرے میں پھیلی رسومات کو ختم کرنا کسی طور بھی ممکن نہیں، آپ ان روایت کے خلاف ایک قدم اُٹھاؤ تو معاشرہ آپ پر دس انگلیاں اُٹھا کر آپ کو دس قدم پیچھے دھکیل دیتا ہے، اس پر لوگوں کا دوہرا رویہ آپ کو مزید دُکھ دیتا ہے، کافی دیر سوچنے کے بعد احمر نے نظریں اُٹھائیں اور سوالیہ نگاہوں سے میری جانب دیکھا، میں نے کچھ دیر اس کو خالی خالی نگاہوں سے دیکھا، اور پھر نفی میں سر ہلا دیا، احمر اُٹھ کھڑا ہوا، اور بغیر پیسے لئے عاشر بھائی سے ہاتھ ملا کا جانے لگا، باہر آ کر میں نے بائیک اسٹارٹ کی اور احمر کو دیکھتے ہوئے کہا، "تمہارا فیصلہ درست ہے دوست!" ہم دوںوں گھر کی جانب روانہ ہوئے، گھر آ کر کچھ ہی دیر کے بعد جنازہ لے کر مسجد کی جانب چل پڑے، قریباً دو ڈھائی گھنٹوں بعد ہم تدفین سے فارغ ہوچکے تھے۔ احمر کے گھر واپس آ کر میں نے موبائل کی طرف نگاہ ڈالی، حور کی پندرہ مِس کال آئی ہوئیں تھی، اس سب میں میں حور سے رابطے میں نہیں رہا، وہ یقیناً پریشان ہورہی تھی، میں نے احمر سے اجازت لی اور گھر کی جانب بائیک دوڑا دی۔ بیل پر ہاتھ رکھا ہی تھا کہ حور نے فوراً دروازہ کھول دیا، نہ جانے کب سے وہ وہاں کھڑی تھی، میں شرمندہ سا ہو کر اس کو دیکھنے لگا، اُس نے ایک لفظ بھی نہیں کہا، میں چاہ رہا تھا کہ وہ کچھ بولے، مگر بےسود۔۔۔ میں نے خود ہی پہل کی اور سارا قصہ اس کو سُنایا، کمیٹی کے حوالے سے بھی اس کو تمام بات بتا دی۔ میں نے حور کو بغور دیکھا، جس وقت سے اس کو میں نے جانے کے بارے میں بتایا تھا اس دن سے لے کر اب تک اس کے اندر واضح تبدیلی نظر آئی تھی، اس کی شوخی، مسکراہٹ، ادائیں، وہ کھلکھلاہٹ نہ جانے کہاں گُم ہوچکیں تھیں، خوش تو میں بھی نہیں تھا لیکن حور تو جیسے اس سب کو ایک صدمے کے طور پر لے رہی تھی، ہم نے اب تک جو دن بھی ساتھ گزارے تھے وہ بھرپور محبت میں گزارے تھے، جیسے ایک دوسرے کے لئے ہی تو بنے تھے۔ میں حور کہ جانب دیکھ رہا تھا اور سوچ رہا تھا کہ اس پھول کو مرجھانے کا قصوروار میرے علاوہ کوئی نہیں۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔، کئی منٹ یوں ہی گزر گئے پھر ۔۔ حور نے میری جانب دیکھ کر پوچھا، "ساحل، مجھ سے روز بات کرو گے نا؟"، میں نے مسکرا کر کہا، "ہاں ہاں پگلی، مت پریشان ہو، تمہیں تو پتا بھی نہیں لگنا کہ میں تم سے دور گیا کہ نہیں!۔۔ ٹھیک؟" حور نے سر ہلایا، اس کی آنکھیں بدستوں جھکی جھکی سی تھیں، جیسے وہ میرا دلاسا بالکل جھوٹ سمجھ رہی ہو۔ چار دن بعد اتوار کا دن تھا، کمیٹی کی میٹنگ اتوار کو ہونی تھی جس کے بعد مجھے پتا لگ جاتا کہ مجھے پیسے مل سکتے ہیں کہ نہیں، میں بےصبری سے اتوار کا انتظار کرنے لگا۔ (جاری ہے)
سبسکرائب کریں در:
تبصرے شائع کریں (Atom)
کوئی تبصرے نہیں:
ایک تبصرہ شائع کریں