پیر، 31 اگست، 2015
August 31, 2015 at 08:24PM
"حور"۔۔۔ قسط: 23 ۔۔۔ تحریر: اویس سمیر۔۔۔ (گزشتہ سے پیوستہ) میں نے اندر کی جانب قدم بڑھائے، گیٹ کے نزدیک پہنچ کر میں نے پیچھے دیکھا، سب کو ہاتھ ہلایا اور اندر آگیا۔ بورڈنگ پاس اور سارے معاملات کس طرح ہوئے مجھے یاد نہیں، میں جہاز میں بیٹھ چکا تھا، ایئر ہوسٹس نے مائیک پر اعلان کیا، اپنے موبائل فون بند کرلیں، ٹھیک اس ہی وقت میرا موبائل بجنا شروع ہوا، میں نے موبائل نکالا، اسکرین پر موجود نام دیکھ کر میرا دل بیٹھنے لگا۔۔۔ (اب آگےپڑھئے) "حور"۔۔۔ موبائل کی اسکرین پر ابھرنے والا نام کوئی اور نہیں حور کا تھا، وہ کیا کہنا چاہتی تھی، کیا ہوگیا، کہیں گھر جاتے کچھ نہ ہوگیا ہو، کہیں ایسا نہ ہو، کہیں ویسا نہ ہو، میرے ذہن میں بہت سے خدشات پلک جھپکتے کی تیزی میں آئے اور گزر گئے، "نہیں"۔۔ میں کچھ بھی برا نہیں سوچنا چاہتا تھا میں نے بےتابی سے موبائل کے ہرے بٹن کو دبایا، اور کان پر لگا لیا، "السلام علیکم؟" ۔۔۔۔ "حور۔۔۔؟؟"، میں نے کچھ سیکنڈ رُک کر کہا، دوسری جانب طویل خاموشی تھی، میرا دِل بیٹھا جارہا تھا، ہاں مگر اُس خاموشی میں بھی میں اس کی سانسوں کی آواز سُن سکتا تھا پھر اس کی آواز اُبھری، "ساحل، میں مطمئن ہوں، میں نے صرف اس لئے کال کی ہے تاکہ آپ کا سفر برا نہ گزرے، ساحل، میں نہیں چاہتی کہ جب آپ مجھ سے دور ہوں تو ہمارے درمیان کوئی ناراضگی، خوف، یا کوئی اور جذبہ ہو، ہمارے رشتے کی بنیاد محبت پر تھی، اور اس ہی محبت کو آگے بڑھنا چاہئے، مجھے دعاؤں میں یاد رکھیں ساحل، اللہ آپ کو خیریت سے منزل مقصود پر پہنچائے" اس نے اپنی بات مکمل کی، میرے سارے خدشات، خوف، وغیرہ سب کچھ ایک پل میں کافور ہوچکا تھا، میں یک دم سکون میں آچکا تھا، جیسے چاروں جانب ٹھنڈی ٹھنڈی ہوائیں چل رہی ہوں، یاخدا ۔ ۔ ۔ وہ دس دن کی ٹینشن اور تھکن، حور کے ان دو جملوں نے سب کچھ بھُلا دیا تھا، کتنا سکون مل گیا تھا، "اتنی دیر کیوں کی حور؟َ"، دل تو کہہ رہا تھا کہ اس سے شکوہ کردوں لیکن میں اس پَل کو اپنے آنے والے دِنوں کیلئے بچا کر رکھنا چاہتا تھا۔ "حور ۔۔۔۔ میری ساری دعائیں تمہارے لئے، مجھے تم سے کوئی شکوہ نہیں، تم نے جو کیا ایک اچھی بیوی ہونے کے ناطے اپنا فرض ادا کیا، اپنی خواہشات کو میری خواہشات پر ترجیح دی، حور ۔۔ میں دعا کرتا ہوں کہ ہم جلد مل جائیں۔ آمین"، میں نے بات مکمل کی، حور کی خوشی بھری کھلکھلاہٹ موبائل کے اسپیکر پر گونجی ایئر ہوسٹس نے مجھے فون بند کرنے کا اشارہ کیا، میں نے حور سے اجازت لی اور فون بند کردیا، جہاز کراچی کی فضاؤں میں بلند ہونے لگا، مکانات، عمارتیں، پارک، سب نیچے، بہت نیچے جانے لگے اور ذرات کی مانند ہوگئے، جہاز کی آواز مدھم ہونے لگی، جہاز فضا میں بلند ہوچکا تھا، میں نے سیٹ کی پچھلی جانب سر ٹِکا دیا، صبح کا اُٹھا ہوا تھا کچھ ہی دیر میں میں غنودگی آنے لگی۔ ------- وہ آواز تو میں ہزاروں آوازوں میں پہچان سکتا تھا، حور کے ہنسنے کی آواز کہیں قریب ہی سے مجھے سُنائی دی، میں نے چونک کر اپنے اطراف میں دیکھا، وہ مجھے سامنے سے آتی ہوئی نظر آئی، مجھے اپنی آنکھوں پر یقین نہیں آیا، "حور۔۔۔۔۔۔۔ تم؟"، میں نے حیرت سے پوچھا۔ "تم یہاں کیسے آئیں؟"، میں نے سوال کردیا وہی کھلکھلاہٹ جو ساری آوازیں مدھم کردیتی تھی، مسافروں کی باتیں، ایئر ہوسٹس کا مائیک پر اعلان کرنا، جہاز کا شور، سب کچھ پس منظر میں گُم ہوچکا تھا، سامنے تھا تو بس حور کا منظر اور اُس کی کانوں میں رس گھولتی آواز، "ساحل! آپ نے کیا سوچا تھا، میں اور آپ بھلا کبھی الگ ہوسکتے ہیں؟" اس نے ایک ادا سے کہا "مگر تم یہاں آئیں کیسے؟" میں ابھی تک حیرت میں تھا "آپ تو جانتے ہو ساحل، میں جب بھی اللہ سے پورے دِل سے جو بھی مانگتی ہوں اللہ کبھی بھی مجھے مایوس نہیں لوٹاتے، بس میں نے اپنے اللہ سے آپ کا ساتھ مانگ لیا، اور دیکھیں ہم ایک ساتھ ہیں اب" ، وہ چہکی "ہاں حور۔۔ اب ہم ساتھ رہیں گے ۔۔۔ کبھی الگ نہ ہونگے، تم نہیں جانتی تم نے یہ سب میری خاطر کرکے کتنا اچھا کیا ہے، بس اب کہیں مت جانا۔" ۔۔ ۔میں نے اس کا ہاتھ تھام کر کہا، مجھے لگا جیسے میں جیسے سکون کے سمندر میں غوطے لگا رہا ہوں، کئی لمحے یوں ہی گزر گئے، میں نہیں چاہتا تھا کہ یہ وقت گزرے "مجھے جانا ہوگا ساحل۔۔ " اس نے اچانک ہاتھ چھڑا تے ہوئے کہا، "مگر کہاں؟ ابھی تو تم نے خود کہا تھا کہ تم میرے پاس ہمیشہ کیلئے آگئی ہو؟" میں نے اس کے ہاتھ کو مضبوطی سے تھامتے ہوئے کہا "نہیں ساحل۔۔ بس مجھے چلنا ہے، میں اور دیر نہیں رُک سکتی"، اس نے ایک جھٹکے سے اپنا ہاتھ چھڑا لیا، میں حیرت سے اُسے دیکھ رہا تھا۔ "مگر حور جہاز ٹیک آف کرچکا ہے۔۔ حور ۔۔ "، میری آواز تیز ہوتی گئی، "حور ۔۔۔" میں چینخا ------- "آر یو آل رائیٹ سر؟" کسی نے میرا کندھا پکڑ کر جھنجوڑا، "سر کیا آپ ٹھیک ہیں؟"، کسی مرد کی آواز میری سماعت سے ٹکرائی مسافروں کی باتیں، بھنبھناہٹ، مائیک پر ایئر ہوسٹرس کا سیٹ بیلٹ باندھنے کا اعلان، جہاز کے پہیوں کی زمین پر لگنے کی گڑگڑاہٹ اور دھمک، سب کچھ معمول پر آچکا تھا "تو کیا یہ سب ایک خواب تھا۔۔؟"، میں نے سوچا (جاری ہے)
سبسکرائب کریں در:
تبصرے شائع کریں (Atom)
کوئی تبصرے نہیں:
ایک تبصرہ شائع کریں