منگل، 1 ستمبر، 2015

September 01, 2015 at 10:20PM

"حور"۔۔۔ قسط: 24 ۔۔۔ تحریر: اویس سمیر۔۔۔ (گزشتہ سے پیوستہ) "آر یو آل رائیٹ سر؟" کسی نے میرا کندھا پکڑ کر جھنجوڑا، "سر کیا آپ ٹھیک ہیں؟"، کسی مرد کی آواز میری سماعت سے ٹکرائی مسافروں کی باتیں، بھنبھناہٹ، مائیک پر ایئر ہوسٹرس کا سیٹ بیلٹ باندھنے کا اعلان، جہاز کے پہیوں کی زمین پر لگنے کی گڑگڑاہٹ اور دھمک، سب کچھ معمول پر آچکا تھا "تو کیا یہ سب ایک خواب تھا۔۔؟"، میں نے سوچا (اب آگےپڑھئے) "سر کیا میں آپ کی مدد کرسکتی ہوں؟" ، اب شاید جہاز کی ایئر ہوسٹس بھی اس جانب متوجہ ہوچکی تھی "نہیں، میں ٹھیک ہوں!"، میں نے جواب دیا جہاز لینڈ کرچکا تھا، مسافر اپنی اپنی سیٹوں سے اُٹھ چکے تھے اور باہر کی جانب جارہے تھے، میں نے کچھ دیر رَش چَھٹنے کا انتظار کیا اور پھر اپنا سامان سمیٹ کر باہر کی جانب نکلنے لگا ایک عجیب سی سنسناہٹ میرے سارے بدن میں دوڑ گئی۔ ایک عجیب سا ڈر کہ نہ جانے کیا ہو، نہ جانے کب تک یہاں رہنا پڑے، گھر سے اور اپنوں سے دور کیا ماحول ملتا ہے، بہت سی سوچیں تھیں مگر اللہ کا نام لے کر قدم رکھا، گھر والوں کی دعائیں تھیں اور سب سے بڑھ کر حور کے آخری الفاظ میرے لئے کسی آبِ حیات سے کم نہ تھے۔ یوں میں نے اپنے نئے دور کا آغاز کیا، حور سے رابطے میں تھا، اپنے ملک میں آفس جاتا تو میرا وہاں رکنا محال ہوتا، یہاں تو نہ جانے کب تک میں گھر سے دور رہتا، مجھے بالکل سمجھ نہیں آرہا تھا کہ کیا کروں ۔۔۔ پہلے دن آفس گیا، اچھا ماحول تھا، اچھے لوگ اور کام بھی نہایت آسان اور کم تھا، میں آدھے دن میں ہی اپنا سارا کام نمٹا کر فارغ ہوجاتا، پھر وقت پورا ہوتے ہی گھر واپسی، اب گھر پہنچ کر وقت گزارنا ایک الگ مسئلہ تھا، پہلے دوسرے دن تو تھوڑا بہت گھوم پھر لیا تو دل بہل گیا مگر اس کے بعد کیا کرتا، پھر جیسے جیسے رات ہوتی گئی تو ویسے ویسے میرے ذہن و دماغ میں پرانی یادیں میں تازہ ہوتی گئیں، پھر اس میں شدت پیدا ہوتی گئی۔ میں نے طے کیا ہوا تھا کہ حور سے بات ہوگی تو کسی قسم کی دکھ دینے والی بات نہ کروں گا مگر کال آئی تو جیسے سارے ضبط ٹوٹ گئے، "حور ۔۔۔ ۔ ۔ ۔ "، میں نے مدھم آواز میں کہا میری آواز ہلکی سی بھرائی مگر میں نے خود پر قابو رکھا، حور سن اور سمجھ چکی تھی وہ ضبط نہ کرسکی اور رونے لگی، میں اس کو چُپ کرانے لگا مگر پھر میری آواز بھی لرز گئی، ضبط کرتا مگر کتنا، اتنے دن گزارنے تھے، ایسا تو کبھی سوچا بھی نہ تھا جیسا ہوگیا تھا وہ روتی رہی، میں سسکتا رہا، پھر بہت دیر میں نے اس کو نہیں روکا، رونے دیا، اگر بند کمزور ہو تو طوفان کے آگے نہیں باندھا کرتے! ہماری روز بات ہوتی مگر روز ہی ہماری کیفیت وہی ہوتی، بس آنسو تھے، آہیں تھیں، اور بس۔۔۔! کئی ہفتے گزر گئ ےتھے مگر یہ ماحول مجھے راس نہیں آیا، شاید میں مشین بن کر کام کرنے کے لئے نہیں بنا تھا، میں حساس تھا، مجھے کسی مادی اشیاء سے زیادہ محبت، جذبات و احساسات کی فکر تھی۔ وہ کہتے ہیں نا کہ بعض لوگ اس قدر غریب ہوتے ہیں کہ سوائے پیسے کہ ان کے پاس کچھ نہیں ہوتا، اور بعض اس قدر امیر کہ محبت سے سہارے ساری زندگی گزار دیتے ہیں، شاید میں دوسری قسم والوں میں سے تھا۔ گن گن کر دن گزار رہا تھا، دن تو جیسے تیسے گزر جاتا مگر راتیں حور کا تصور کرتے ہی گزرتیں، نوبت یہاں تک پہنچ گئی کہ آفس والوں نے بھی اس بات کو نوٹ کر لیا کہ میں جسمانی طور پر تو یہاں موجود ہوتا ہوں مگر میرا ذہن کہیں اور ہی ہوتا ہے، یوں پورا ایک مہینہ گزر گیا، ایک ماہ ۔ ۔ ۔ ہاں ۔ ۔ پورا ایک ماہ گزر گیا تھا،کہاں آٹھ گھٹے کہ میں اس کے بغیر نہیں رہ سکتا تھا اور کہاں یہ نوبت تھی کہ ایک ماہ گزار چکا تھا، آٹھ گھنٹوں اور ایک ماہ کا موازنہ کرو، میرا کھانا میرا پینا میرا اوڑھنا بچھونا میرا ہر انداز و طور بدل چکا تھا۔۔ -------- ادھر حور کا بھی الگ ہی حال تھا، وہ اپنے منہ سے تو صرف یہی بیان کرتی کہ وہ "ٹھیک" ہے، مگر اس کی اصل حالت کا علم مجھے اماں اور گھر کے دوسرے افراد سے ہوتا، اب نہ کسی سے زیادہ بات کرتی تھی نہ ہی کوئی مشغلہ، اس کی صحت دن بدن گر رہی تھی، وہ بیمار رہنے لگی تھی، اس کی کھلکھلاہٹ تو جیسے کسی اور ہی دنیا جا بسی تھی، اماں نے کچھ دن اس کو میکے بھیجا کہ شاید دل بہل جائے مگر جلد ہی وہ واپس چلی آئی، اماں کے کہنے پر بس اتنا کہا، "اس گھر سے ساحل کی نسبت ہے"، اس کے دل میں گویا ایک طوفان تھا جو پھٹ پڑنے کو تیار تھا۔ ایک دن میں آفس میں تھا کہ میرے پاس فون آیا، کال ریسیو کی تو دوسری جانب بھائی جان تھے، میرے بار بار پوچھنے پر صرف اتنا بتایا، "آج صبح کام کرتی کرتی گِر گئی تھی، حور کی طبیعت بہت خراب ہے ساحل، ہم ہسپتال میں ہیں" (جاری ہے)

کوئی تبصرے نہیں:

ایک تبصرہ شائع کریں