اتوار، 30 اگست، 2015

August 30, 2015 at 10:01PM

"حور"۔۔۔ قسط: 22 ۔۔۔ تحریر: اویس سمیر۔۔۔ (گزشتہ سے پیوستہ) اگلا سارا دن اس ہی دفتر کے چکر میں گزرا، دن کے اختتام پر ویزے کے کاغذات میرے پاس آگئے تھے۔ میں گھر میں داخل ہوا، عجیب سی کیفیت تھی، اتنا بڑا کام ہو گیا تھا مگر مجھے خوشی نام کو نہ تھی، عجیب سا بجھا بجھا سا ماحول، کچھ تو کمی تھی، شاید بہت بڑی کمی ہونے جارہی تھی۔ میں اپنے روم میں داخل ہوا، ٹکٹ ایک جانب ٹیبل پر رکھا، حور نے سوالیہ انداز میں میری جانب دیکھا میں نے اثبات میں سر ہلا دیا یعنی کام ہوگیا! ٹھیک تین دن بعد انتیس تاریخ کو میری فلائیٹ تھی۔ (اب آگےپڑھئے) اگلا ہی دن تھا، میں گھر سے باہر نکل رہا تھا کہ میں نے حور کو دیکھا وہ بھی جلدی جلدی تیار ہو کر میرے ساتھ جانے کیلئے تیار ہوگئی تھی، شاید وہ بہت سا وقت میرے ساتھ بیتانا چاہتی تھی۔ میں کچھ نئے کپڑے خریدنا چاہ رہا تھا تاکہ نئی نوکری میں پہلا امپریشن بہترین دے سکوں۔ کچھ ہی دیر میں میری بائیک صدر بازار کی جانب روانہ ہو گئی، ایم اے جناح روڈ سے ہوتے ہوئے ہم زینب مارکیٹ کی جانب مُڑ گئے، کچھ دیر مختلف دوکانوں کا دورہ کیا پھر ایک دوکان سے شرٹیں اور کچھ پہنٹیں خریدیں، آدھے گھنٹے میں میری شاپنگ ختم ہوچکی تھی، کھانے کا بھی وقت ہورہا تھا ، اب ہماری بائیک کا سفر برنس روڈ کی جانب تھا، ایک ہوٹل کے فیملی ہال میں بیٹھے کچھ ہی دیر میں بیرا مینیو لے آیا۔ حور کے چہرے پر ہلکی سی مسکراہٹ کھیل رہی تھی، شاید میرے ساتھ گزارے گئے ان پلوں کو قید کر رہی ہو، میں بھی جی بھر کر اس کو دیکھ رہا تھا، نہ جانے اگلے کچھ دنوں میں زندگی کیا رُخ اختیار کرتی ہے۔ میں نے اُس کو گہری سوچ میں دیکھا تو پوچھا، "کس بارے میں سوچ رہی ہو حور؟" کچھ دیر تو وہ میری جانب دیکھتی رہی پھر اس کے چہرے سے مسکراہٹ غائب ہوگئی، کچھ پل یونہی گزرے، پھر اس کے لب ہلے پھر یوں ہوا کہ ساتھ تیرا چھوڑنا پڑا ثابت ہوا کہ لازم و ملزوم کچھ نہیں حور نے میری آنکھوں میں دیکھتے ہوئے کرب سے کہا، اس کی نگاہوں کی شدت سے گھبرا کر میں نے اس کے چہرے سے نگاہیں ہٹا لیں۔ یوں تو یہ سب کچھ چند لمحوں میں ہی ہوچکا تھا، مگر اس دوران بھی حور نے محسوس کرلیا تھا کہ میں اس کے جذبات کی آگ سے گھبرا گیا ہوں، اور وہ ہرگز ایسا نہیں چاہتی تھی، محبت کے سوا کوئی اور جذبہ قابل قبول صرف کچھ لمحوں کا ہی تھا، اس کے بعد محبت اگر اس کی جگہ نہ لے گی تو کیا ہوگا اس سے آگے شاید ہم سوچ نہیں سکتے تھے، بالکل ویسے ہی جیسے کبھی رات کی تاریکی میں گھر کی جانب لوٹتے ہوئے جلد بازی میں کسی شارٹ کٹ کی جانب جاتے جاتے رُک جانا، کہیں یہ راستہ کہیں اور نہ نکل جائے، یا پھر جیسے اپنی کوئی بہت پیاری سی چیز سب کی نگاہوں سے بچا کر الماری کے ایک ننھے سے خانے میں چھُپا کر رکھنا اور چپکے چپکے دیکھنا، مبادا کوئی اُچک نہ لے، ہماری محبت بھی ایسی ہی تھی، اس کو کھونے کے ڈر سے ہم وہ تمام باتیں، یادیں، سوچیں اور موضوعات سے بچتے تھے جو محبت سے ہٹ کر ہوتے۔ بالآخر وہ دن آ ہی گیا، صبح دس بجے میری فلائٹ تھی، فجر میں میری آنکھ کھلی، مجھے اُٹھانے والا کوئی اور نہیں حور ہی تھی۔ میرا سامان، ایک سوٹ کیس جس میں میرے کپڑے، استعمال کی اشیاء، دستاویزات، میری تعلیمی ریکارڈ کے سرٹیفیکیٹ، سب کچھ جو میرے سفر اور بیرونِ ملک رہائش کے لئے ضروری تھا، حور نے سب کچھ سلیقے اور نفاست سے بنا کر تھا لیکن میں اس کو الگ ہی نگاہ سے دیکھ رہا تھا، میں اس سامان کی ایک ایک شئے میں محبت محسوس کر رہا تھا۔ ہم گھر سے نکلے، کوئی گلہ نہ شکوہ، نہ عداوت، نہ رنجش ۔ ۔ ۔ سپاٹ چہرہ، ہاں مگر حور نے سارا وقت میرا ہاتھ سختی سے بھینچے رکھا، شاید ڈر کا جذبہ محبت پر حاوی ہو رہا تھا، میں نہیں چاہتا تھا کہ ایسا ہو، کیوں کہ جب محبت کے اندر کھو دینے کے خوف کی دراڑ پڑ جائے نا، تو پھر کچھ باقی نہیں رہتا، رہ جاتا ہے تو صرف خوف ۔ ۔ ۔ ایئر پورٹ پہنچے، میں نے گھر والوں سے اجازت لی، حور کو دیکھا، نہ جانے کیوں، نہ میری آنکھ میں آنسو تھا، نہ اس کی آنکھ میں، چاہتا تھا یہ ضبط ٹوٹے، کچھ تو کہیں، ارے کوئی شکوہ، کوئی گلہ، کیا میں اتنا دور ہوچکا تھا کہ مجھ سے کوئی گلہ نہیں کیا جاسکتا۔ "حور کیوں کر رہی ہو ایسا؟"، میں نے اس کی جانب دیکھ کر سوچا۔ اس نے اپنی نظریں جھکا لیں، شاید کہہ رہی تھی، "اب ایسا ہی ہوگا ساحل"، مگر زبان سے کچھ بھی نہ کہا "السلامُ علیکم!"، میں نے اس کی جانب دیکھ کر کہا "وعلیکم السلام ساحل!"، اس کے لب پہلی بار ہِلے میں نے اندر کی جانب قدم بڑھائے، گیٹ کے نزدیک پہنچ کر میں نے پیچھے دیکھا، سب کو ہاتھ ہلایا اور اندر آگیا۔ بورڈنگ پاس اور سارے معاملات کس طرح ہوئے مجھے یاد نہیں، میں جہاز میں بیٹھ چکا تھا، ایئر ہوسٹس نے مائیک پر اعلان کیا، اپنے موبائل فون بند کرلیں، ٹھیک اس ہی وقت میرا موبائل بجنا شروع ہوا، میں نے موبائل نکالا، اسکرین پر موجود نام دیکھ کر میرا دل بیٹھنے لگا۔۔۔ (جاری ہے)

کوئی تبصرے نہیں:

ایک تبصرہ شائع کریں