بدھ، 26 اگست، 2015
August 26, 2015 at 09:38PM
"حور"۔۔۔ قسط: 18 ۔۔۔ تحریر: اویس سمیر۔۔۔ (گزشتہ سے پیوستہ) میں یہی کچھ سوچ رہا تھا کہ میرے موبائل پر بیل بجی، اسکرین پر میرے بہت ہی عزیز دوست احمر کا نام دکھائی دے رہا تھا، میں نے نہایت ہی خوشگوار انداز میں "ہیلو۔۔" کیا لیکن دوسری جانب اس کی سسکیاں سُنائی دے رہی تھیں۔۔۔ چند منٹ تک تو اس کی سسکیاں گونجتی رہیں، کچھ دیر بعد اس نے ٹوٹے پھوٹے الفاظ میں کہا، "ساحل، ۔۔۔۔میرے والد صاحب ۔۔۔کی وفات ہوگئی ہے!"، یہ خبر مجھ پر بجلی بن کرگری، ایک تو احمر بہت ہی عزیز دوست تھا، دوسرے ۔۔۔ احمر کمیٹی کا ممبر بھی تھا۔ (اب آگےپڑھئے) احمر سے میری دوستی بچپن سے تھی، ساتھ کھیل کود کر بڑے ہوئے، تعلیم ختم ہوتے ہی ہم دونوں اپنے اپنے کاموں میں لگ گئے، شادیاں ہوگئیں تو اور بھی زیادہ مصروفیت ہوگئی، یوں تو اپنے بیوی بچوں اور خاندان کے ساتھ ہم دونو کی مصروفیات بہت تھیں لیکن پھر بھی ہفتے میں دو سے تین بار ضرور ملتے اور اپنے معاملات آپس میں ایک دوسرے کو بتاتے اور صلاح مشورہ کرتے۔ احمر کافی دن سے اپنے والد صاحب کی طبیعت کے حوالے سے پریشان تھا، ڈاکٹر کو دکھایا پھر یہ نوبت آگئی کہ ہسپتال میں ایڈمٹ کروانا پڑ گیا، دوسری جانب میں اپنی مصروفیات، پریشانیوں اور بیماری میں اتنا محو تھا کہ مجھ سے ایک بار بھی اُس کے پاس جانا نہیں ہوسکا مگر آج اس کی اچانک کال اور یہ اندوہناک خبر سُنانا مجھے سَکتے میں ڈال گیا تھا۔ میں نے فوراً بائیک کو کِک ماری اور اس کے گھر کی طرف چل پڑا، جسدِ خاکی ہسپتال سے گھر لے آئے تھے، میں اندر داخل ہوا تو سارے گھر میں رونا دھونا مچا ہوا تھا، آنٹی تو باقائدہ بین کررہی تھیں، میں نے احمر کو دیکھا تو وہ بھی ایک طرف کھڑا آنسو بہا رہا تھا، سب سے پہلے تو میں نے اِس کو ٹھیک کیا، اس کو کافی دیر سینے سے لگا کر رکھا، پھر اس کو ایک جانب لے گیا اور سمجھانا شروع کیا، "احمر ۔۔ دیکھو دوست۔۔ جب تک تم خود کو قابو میں نہیں کرو گے حالات قابو میں نہیں آئیں گے، موت کسی کو بھی کسی بھی وقت آسکتی ہے، تمہیں یا مجھے کسی کو بھی آسکتی تھی، اللہ کا کرنا یہ ہوا کہ اس نے تمہارے والد کو اپنے پاس بُلا لیا، احمر ۔۔ دیکھو سب سے پہلے تو اپنے آپ کو سنبھالو ۔۔پھر جاؤ اور امی اور بہنوں کو سنبھالو، انہیں بتاؤ کہ اس طرح بین نہ کریں۔" احمر میری بات سمجھ رہا تھا، کچھ ہی دیر میں احمر نے اپنی والدہ اور بہنوں کو سمجھانا شروع کیا، جیسے جیسے وہ ان سے گفتگو کرتا رہا ویسے ویسے گھر میں مچا کہرام معمول پر آتا گیا، باآوازِ بلند بین اب سسکیوں میں بدل چکا تھا، سمجھدار خواتین تھیں مگر بےحد غم کبھی کبھار ایسے نامناسب حالات پیدا کردیتا ہے۔ رشتہ داروں کی آمد جاری تھی، گھر بھرتا جا رہا تھا۔ احمر نے میرا ہاتھ پکڑا اور کہنے لگا، "ساحل چلو۔۔۔"، میں نے پوچھا، "کہاں؟" ۔۔ کہنے لگا، "عاشر بھائی کے پاس" ۔۔ عاشر بھائی ہمارے محلے کے بڑے اور سُلجھے ہوئے لوگوں میں سے تھے ہم نے کمیٹی انہی کے پاس ڈالی ہوئی تھی۔ اُس کو بائیک پر بٹھایا اور عاشر بھائی کے پاس چل پڑا۔۔ عاشر بھائی بھی احمر کے پاس آنے کے لئے ہی نکل رہے تھے، ہم وہاں پہنچے اور اپنی آمد کا مقصد بتایا۔ عاشر بھائی کے استفسار پر احمر نے بتایا کہ فوری طور پر ٹینٹ لگانا ہے، قبر کا بندوبست کرنا ہے، گھر مہمانوں سے بھرا ہوا ہے ان کے لئے کھانے کا انتظام وغیرہ۔ اشعر بھائی نے مزید کریدا تو پتا چلا کہ باقی چیزوں کا بندوبست تو ہے مگر ٹینٹ اور کھانے کے پیسے نہیں مل رہے جس کیلئے وہ کمیٹی کی رقم کے حوالے سے آیا ہے۔ عاشر بھائی نے کافی اطمینان سے بات سُنی پھر اپنے گھر کا دروازہ کھولتے ہوئے ہمیں اندر بُلایا اور ڈریئینگ روم میں بٹھا کر خود اندر چلے گئے۔۔ کچھ ہی دیر گزری ہوگی کہ وہ ڈرائینگ روم میں نمودار ہوئے انکے ہاتھ میں پچاس ہزار روپے تھے جو انہوں نے ہمارے سامنے ٹیبل پر رکھ دئے۔۔۔ (جاری ہے)
سبسکرائب کریں در:
تبصرے شائع کریں (Atom)
کوئی تبصرے نہیں:
ایک تبصرہ شائع کریں