جمعرات، 20 اگست، 2015
August 20, 2015 at 10:54PM
"حور"۔۔۔ قسط: 13 ۔۔۔ تحریر: اویس سمیر۔۔۔ (گزشتہ سے پیوستہ) ایک دن میں گھر پہنچا تو حور نے میرا چہرہ دیکھ کر پہچان لیا۔۔۔۔مجھ سے نہایت پیار سے پوچھنے لگی کہ کیا ہوا۔۔۔ اپنی کھنکھتی ہوئی آواز میں کچھ نہ کچھ کہہ کر میرا موڈ ٹھیک کرنے کی ناکام کوشش کرنے لگی، میں نے سوچا حور سے چھُپانا بیکار ہے بتاؤں گا تو کوئی اچھا مشورہ ہی مل جائیگا، لہذا بالآخر میں نے اس کو بتا دیا کہ، "میری نوکری ختم ہوگئی ہے!" آگے کیا کرنا ہے، کیا ہونا ہے، سارے معاملات کیسے چلیں گے، ہم دونوں ہی اس بارے میں لاعلم تھے۔ (اب آگےپڑھئے) آفس کی جانب سے بقایا جات ملنے میں کم از کم دس سے پندرہ دن کا وقت تو لگنا ہی تھا ، ممکن تھا کہ اس سب میں پورا ماہ لگ جاتا، میرے پاس بڑی مشکل سے کچھ رقم جمع ہوئی تھی اب وہ ہر روز جاب کی تلاش اور اس سے متعلقہ دوڑ دھوپ میں پانی کی مانند خرچ ہو رہی تھی، یوں سمجھیں ایک پانی کا گھڑا ہے اس میں ایک جانب سے پانی بھرا جائے اور دوسری جانب سے نکالا جائے تو اس کے اندر موجود پانی کی سطح ایک سی رہے گی، لیکن اگر بھرنے والا نل بند کردیا جائے مگر نکالنے والا نَل بدستور اپنا کام جاری رکھے تو کچھ ہی دیر میں گھڑا خالی ہوجائے گا، یہ مثال میری موجودہ صورتحال پر صآدق آتی تھی اور مجھے اس کا اندازہ بھی تھا۔ لہذا میں اپنے طور پر پانی کے بھرنے والے نلکے کو چالو کرنے کی سَر توڑ کوشش کر رہا تھا۔ ان ہی دنوں ایک دن ایک دوست نے کسی جاب کا ریفرنس دیا، میں اُن سے ملنے اُن کے آفس پہنچا، بات چیت کافی اچھی رہی، اس دوران انہوں نے پوچھا کہ آپ کے پاسپورٹ کی میعاد تو باقی ہے نا، میں نے ان کو بتلایا کہ میرا پاسپورٹ ابھی تک بنا نہیں ہے، لیکن ساتھ ہی استفسار کیا کہ "وجہ کیا ہے؟"۔ جس پر مجھے بتایا گیا کہ جاب دبئی میں ہے۔ میں نے ان کو کہا، "میں سوچ کر بتاؤں گا"، کہنے لگے، "ساحل صاحب ، سوچنا کیسا، میرے پاس تو امیدواروں کی ایک لمبی لائن لگی ہے۔۔۔" ، انہوں نے ہاتھوں کو مشرق تا مغرب پھیلانے کی کوشش کرتے ہوئے کہا، "آپ بس کل ہی اپنے پاسپورٹ کیلئے جائیں اور مجھے ایک ہفتے میں اپنے پاسپورٹ کیساتھ ملیں تاکہ ہم یہ کاروائی آگے بڑھائیں۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔، تو۔۔۔ میں آپ کو کنفرم سمجھوں؟"، انہوں نے خود ہی بات کرکے خود ہی مجھ سے جواب نما سوال کردیا، "جی!" میں نے مختصر جواب دیا۔ میں نے بظاہر اُن کی اس آفر کو قبول کر ہی لیا تھا، لیکن اندر ہی اندر ایک عجیب سی کشمکش میں مبتلا تھا، کچھ بھی ہو یہ میرے باہر جانے کا معاملہ اور خواہش ہی میرے اور حور کے درمیان اختلاف کا باعث بنا تھا۔ حور کے ہر حال میں ساتھ دینے کے وعدے اور میرے فیصلے کو تسلیم کرنے کی بات کرنے کے عہد و پیمان کے باوجود میں جانتا تھا کہ یہ کرنا اس کیلئے اتنا آسان نہیں۔ بعض دفعہ کسی سے الگ ہونا چاہے وہ کچھ لمحوں کیلئے ہو کہ کچھ دن کیلئے یا کچھ سالوں کیلئے، ایک ہی سا لگتا ہے، حور اور میرا ساتھ بھی کچھ ایسا ہی تھا، چاہے وہ آفس کے چند گھنٹے ہوں یا حور کا اپنی امی کے پاس ایک دن کیلے ٹھہرنا، میرے لئے صدیوں جیسے لگتے اور یہی کچھ حال حور کا بھی تھا۔ میں گھر آیا تو اس ہی شش و پنج میں تھا، کیا فیصلہ کروں، حور سے ذکر کیا تو کہیں پھر سے وہی تلخیاں نہ پیدا ہوجائیں جو بہت مشکل سے ختم ہوئیں تھیں۔ حور تو پھر حور تھی ناں ، میری اندرونی کیفیت اُس سے کب چھُپی رہتی، میں لاکھ اس سے نظریں چُراتا رہا، اس سے بچتا رہا۔۔۔مگر آخر کب تک، عصر کی نماز کے بعد اپنے ہاتھ کی مخصوص اچھی سی چائے بنانے کے بعد وہ میرے سامنے کسی آئینے کی مانند آ بیٹھی اور سوالیہ انداز میں پوچھا، "جی؟؟؟" ۔۔۔ میں نے اِدھر اُدھر دیکھا اور انجان بننے کی ایکٹنگ کرتے ہوئے کہا، "میں نے تو کچھ نہیں کہا!" "تو کیا ہر بات کہنا ضروری ہے ساحل صاحب؟" حور نے مکمل یقین کےساتھ کہا۔ "کون سی بات۔۔۔کیا کہہ رہی ہو۔۔؟" میں نے پوچھا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔"میں نہیں جیت سکتا اس سے"۔۔ میں نے دل میں سوچا۔ "اُس ہی بات کی بابت پوچھ رہی ہوں جو آپ صبح سے دِل میں لئے گھوم رہے ہیں جناب؟ کیا بات ہے؟؟؟ کیوں چھُپائے بیٹھے ہیں؟" حور کو اپنی بات پر مکمل یقین تھا۔ "تم سمجھ ہی گئی ہو تو۔۔۔۔ ہاں ۔۔۔ ہے کچھ بات ۔۔۔ مگر۔۔ کیسے کہوں ۔۔ سمجھ نہیں آرہا!"، میرا دل انہی خدشات میں گھرا ہوا تھا کہ کیوں کہ حور کیلئے سب سے تکلیف دہ بات جدا ہونا ہی تھی۔ "ساحل! اگر آپ مجھ سے بات کریں گے تو ہمیشہ کی طرح آپ کو میری جانب سے ایک اچھا مشورہ ہی میسر ہوگا، ساحل میں بھلے باہر کی دنیا کی اتنی سمجھ بوجھ نہ رکھتی ہوں، مگر پھر بھی آپ مجھ پر اعتبار کرسکتے ہیں!" "میں تو تم پر خود سے زیادہ اعتبار کرتا ہوں حور" میں نے اظہار کرنے میں تمام تکلفات کو بالائے طاق رکھ کر کہا، "بات یہ ہے حور۔۔۔" میں نے بات شروع کی، "میں آج نوکری کیلئے جس جگہ گیا تھا وہاں سے مجھے نوکری آفر ہوگئی ہے!" ، میں نے اتنا ہی کہا تھا کہ حور کی آنکھیں دَمکنے لگیں۔ "لیکن حور ۔۔۔"، میں نے اپنی بات جاری رکھی۔۔۔ "وہ نوکری پاکستان میں نہیں دبئی میں ہے!" میں نے حور کے چہرے کا رنگ اُڑتے ہوئے دیکھا۔ (جاری ہے)
سبسکرائب کریں در:
تبصرے شائع کریں (Atom)
کوئی تبصرے نہیں:
ایک تبصرہ شائع کریں