اتوار، 23 اگست، 2015
August 23, 2015 at 09:23PM
"حور"۔۔۔ قسط: 16 ۔۔۔ تحریر: اویس سمیر۔۔۔ (گزشتہ سے پیوستہ) "میں وہاں جاتے ہی تمہیں اپنے پاس بُلا لوں گا!"، میں نے حور کو کافی دن سے مسکراتے ہوئے نہیں دیکھا تھا۔ "واقعی؟" ، حور کی آنکھیں دمکنے لگیں! "ہاں!" ، میں نے کہا، "تم میرے بن نہیں رہ سکتی تو تم نے کہا سوچا تھا کہ میں رہ پاؤں گا؟" اور حور کھلکھلا اُٹھی، وہی کھلکھلاہٹ، جو ساری آوازیں مدھم کردیتی تھیں۔ میں اس کی جانب دیکھتا جارہا تھا۔ (اب آگےپڑھئے) سارے عالم کی آوازیں محو ہوچکیں تھیں، صرف حور کی کھلکھلاہٹ کی آواز مجھے آہی تھی، مگر یہ ہنسی یہ خوشی سب عارضی رہا، کیوں کہ جلد ہی حور کا دِل مختلف قسم کی خدشات کی آماج گاہ بن چکا تھا، کیا ہوگا، کتنا عرصہ لگے گا، کیسے ہوگا سب، اگر زیادہ وقت لگ گیا تو میں کیسے رہوں گی، اگر کوئی اور مسئلہ آگیا اور یہ سب ہو ہی نہ سکا تو کیا ہوگا، حور نے یوں تو ایک لفظ بھی نہ کہا تھا لیکن اس کے چہرے پر چھائی فکر مندی کی لکیریں سب کچھ کہے دے رہی تھیں۔ اس نے اپنی پریشانی مجھ سے چھُپانے کیلئے نظریں جھکا لیں۔ "کیا ہوا حور؟" ، میں نے پوچھا، "یہ ہنسی اور پھر ایک دم سے افسردہ ہوجانا، کیا معنی رکھتا ہے؟" "ساحل، دل میں بہت سے خدشات ہیں، لیکن اللہ کرے یہ سب خدشات اور خوف غلط ثابت ہوں، اور میں جلد ہی آپ سے آ مِلوں، ساحل۔۔۔ چَلیں امی کو یہ خوش خبری سُناتے ہیں" وہ ایک بار پھر سے مسکرانے لگی تھی اور یوں مجھے کچھ اطمینان سا ہونے لگا۔ میرا ہاتھ تھامے تھامے وہ اُٹھی اور ہم دونوں یوں ہی امی کے پاس پہنچ گئے، امی نے یوں ہمارا ایک ساتھ اُن کی جانب آنے کو حیرت سے دیکھا، پھر نہ جانے کیا سوچ کر مسکرانے لگیں۔ "امی ۔۔۔ آپکے لئے ایک خوش خبری ہے۔" ، حور نے پہنچ کر گویا اعلان سا کر دیا۔ امی نے اُٹھ کر حور کو گلے سے لگا لیا، ساس بہو کا یہ والہانہ پیار دیکھ کر میں حیران ہورہا تھا۔ "بہت بہت مبارک ہو میری بچی!"، اب حیران ہونے کی باری حور کی تھی، "امی! ابھی تو ہم نے آپ کو خبر سُنائی ہی نہیں!"، حور نے حیرت سے کہا "ماں سب جانتی ہے میرے بچوں!"، امی نے اپنی دانست میں اندازہ لگاتے ہوئے کہا۔ "مگر آپ کیا جان گئیں؟" ، میں نے پوچھا "تو کیا تم لوگ مجھے "وہ" خبر بتانے نہیں آئے؟" امی نے لفظ "وہ" پر زور دیتے ہوئے پوچھا "کونسی؟ اوہ ۔۔ اُف ۔۔ ہی ہی ہی"، معاملے کی نزاکت سمجھتے ہی حور اور میں کھِلکھلا کر ہنس پڑے، اب امّی حیرت سے ہمیں کھی کھی کرتا دیکھ رہی تھیں۔ "ارے نہیں امی ایسا کچھ نہیں جو آپ سمجھ رہیں ہیں! ۔۔۔ " ، مسکراہٹ بدستور ہمارے ہونٹوں پر تھی، میں ہنسی روکنے کی ناکام کوشش کررہا تھا، جبکہ حور تو شرم سے باقائدہ لال ہوچکی تھی۔ "امی میری دبئی میں نوکری لگ گئی ہے"، میں نے اب اصل خوش خبری سُنائی۔ "اللہ مبارک کرے، میرے بچے۔" ، اماں نے چٹخ پٹخ میری بلائیں لینا شروع کردیں۔ "بس کچھ ہی دن میں کنفرم ہوتے ہی میں باہر جانے کی تیاری شروع کردوں گا۔" میں نے تفصیل بتائی۔ "اور حور۔۔۔۔؟" ، اماں نے استفسار کیا "حور آپ کے پاس ہی رہے گی۔۔۔ شروع میں مجھے نہیں پتا کہ ساتھ لے جانا ممکن ہو سکے گا یا نہیں ۔۔ لیکن جلد ہی میں حور کو بلانے کی کوشش کروں گا۔۔۔ آخر میں اِس کے بنا زیادہ دِن تو نہیں رہ سکتا نا۔۔" ، میں نے شرارت سے آنکھ دبائی۔۔ اور حور نے مجھے کہنی دے ماری۔۔ ہم تینوں ہنسنے لگے۔ کچھ ہی دن گزرے تھے کہ میرے پاس کال آگئی، "ساحل صاحب بول رہے ہیں؟"، دوسری جانب سے پوچھا گیا، "جی! فرمائیے!"، میں نے کہا "آپ کا آفر لیٹر ہمارے دفتر میں آگیا ہے، آکر لے جائیے، آپ کی جوائننگ ان شاءاللہ پہلی تاریخ سے ہے"، مطلع کیا گیا۔۔ "یہ والی پہلی تاریخ؟؟؟" میں نے حیرانگی سے پوچھا۔۔ "جی ۔۔۔ یہی والی" صرف دس دن بچے ہیں۔۔۔۔ اتنے سے دن میں کیا کیا ہوگا ۔۔۔ اب پریشان ہونے کی باری میری تھی! (جاری ہے)
سبسکرائب کریں در:
تبصرے شائع کریں (Atom)
zabardst hay....
جواب دیںحذف کریںبہت شکریہ جناب
حذف کریںzabardst hay....
جواب دیںحذف کریں