ہفتہ، 29 اگست، 2015

August 29, 2015 at 08:01PM

"حور"۔۔۔ قسط: 20 ۔۔۔ تحریر: اویس سمیر۔۔۔ (گزشتہ سے پیوستہ) میں نے حور کو بغور دیکھا، جس وقت سے اس کو میں نے جانے کے بارے میں بتایا تھا اس دن سے لے کر اب تک اس کے اندر واضح تبدیلی نظر آئی تھی، اس کی شوخی، مسکراہٹ، ادائیں، وہ کھلکھلاہٹ نہ جانے کہاں گُم ہوچکیں تھیں، خوش تو میں بھی نہیں تھا لیکن حور تو جیسے اس سب کو ایک صدمے کے طور پر لے رہی تھی، ہم نے اب تک جو دن بھی ساتھ گزارے تھے وہ بھرپور محبت میں گزارے تھے، جیسے ایک دوسرے کے لئے ہی تو بنے تھے۔ میں حور کہ جانب دیکھ رہا تھا اور سوچ رہا تھا کہ اس پھول کو مرجھانے کا قصوروار میرے علاوہ کوئی نہیں۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔، کئی منٹ یوں ہی گزر گئے پھر ۔۔ حور نے میری جانب دیکھ کر پوچھا، "ساحل، مجھ سے روز بات کرو گے نا؟"، میں نے مسکرا کر کہا، "ہاں ہاں پگلی، مت پریشان ہو، تمہیں تو پتا بھی نہیں لگنا کہ میں تم سے دور گیا کہ نہیں!۔۔ ٹھیک؟" حور نے سر ہلایا، اس کی آنکھیں بدستوں جھکی جھکی سی تھیں، جیسے وہ میرا دلاسا بالکل جھوٹ سمجھ رہی ہو۔ چار دن بعد اتوار کا دن تھا، کمیٹی کی میٹنگ اتوار کو ہونی تھی جس کے بعد مجھے پتا لگ جاتا کہ مجھے پیسے مل سکتے ہیں کہ نہیں، میں بےصبری سے اتوار کا انتظار کرنے لگا۔ (اب آگےپڑھئے) جب آپ کسی سے بہت ٹوٹ کر محبت کرتے ہیں نا، تو ایک وقت آتا ہے کہ اس کو پا لینے کی خواہش دنیا کی ہر خواہش پر غالب آجاتی ہے، لیکن جب آپ اس کو پا نہیں سکتے تو پھر یہ کسک آپ کے اندر ایک نفرت کی آگ بھڑکا دیتی ہے، یہ نفرت اس ہر شئے سے ہوجاتی ہے جس نے آپ کو آپکی محبت پانے سے روکا تھا، جب بیچ میں سماج ہو تو یہ نفرت سماج کی خلاف بڑھ جاتی ہے، اور اگر کوئی قریبی رشتہ اس دوری کا سبب بنے تو ساری نفرت اس ہی کے حصے میں آتی ہے۔ لیکن کیا یہ نفرت کی آگ کیا واقعی محبت کا ردعمل ہوتی ہے، کیوں کہ محبت تو محبت ہوتی ہے، محبت صرف محبت ہی پیدا کرسکتی ہے، اگر محبت کسی آگ یا نفرت کو جنم دے تو پھر شاید وہ محبت ہی نہیں جِسے ہم محبت سممجھتے رہے، وہ تو بس شاید اپنی انا کی تسکین کی خواہش تھی کہ جو میں نے مانگا مجھے مل جائے اور نہ ملے تو پھر کسی اور کو نہ ملے۔۔ حور اور میری محبت نے اب تک صرف محبتوں کو ہی جنم دیا تھا، ہمارے ہر اختلاف کے بعد ہماری محبت میں مزید اضافہ ہوتا، بہت ساری محبت۔۔۔ یہی محبت تھی کہ میں حور کے دل کی کسک اپنے دل میں محسوس کر رہا تھا، حور کا ایک ایک جذبہ ایک لاسلکی تعلق کے ذریعہ مجھ میں منتقل ہوتا جارہا تھا۔ میں نے حور کو ساتھ لیا اور چل پڑا، ہماری بائیک دور ایک انجانی منزل کی جانب دوڑتی رہی، کافی دیر بعد ہم رُکے، یہ حور کی پسندیدہ جگہ تھی، ساحل کا وہ حصہ جہاں تک بہت کم افراد کی رسائی تھی، ریسرچ ورک کی وجہ سے عام افراد کا داخلہ یہاں منع تھا، اپنے پروفیشن کے ابتدائی دور میں مَیں یہاں نوکری کر چکا تھا لہذا اب تک اس کا فائدہ سمیٹ رہا تھا، میں نے بائیک ہلکی کی، گارڈ نے ہم دونوں کو دیکھا اور مجھے پہچان کر ہاتھ کے اشارے سے سلام کیا، سلام کا جواب دیتے ہوئے میں نے بائیک آگے بڑھا دی، ساحل سمندر کے بالکل نزدیک پہنچ کر میں نے بائیک کھڑی کی اور ہم دونوں بائیک سے اُتر کر ساحل کے ساتھ ساتھ چلنے لگے، کچھ دیر چل کر حور رُک گئی، وہ جُھکی اور ساحل کی ریت پر بیٹھ گئی، ہم دونوں ابھی تک چُپ ہی تھے۔ میں بھی ریت پر اس سے لگ کر بیٹھ گیا۔۔ کچھ دیر بعد میں نے اپنے کاندھے پر اس کا سر محسوس کیا۔۔ کافی دیر بعد اس نے خاموشی توڑی اور میرے کاندھے پر اپنا سر رکھے رکھے کہا، "فاصلے دور کردیتے ہیں ساحل۔۔۔"، اس کی آواز میں جیسے برسوں کا دُکھ سمایا ہوا تھا۔ "فاصلے تو قرب کا سبب بنتے ہیں حور۔۔"، میں نے اپنے تئیں اس کو بہلانا چاہا "حور۔۔۔"، میں نے کہا، "محبت فاصلوں اور قربت کی محتاج نہیں ہوتی، محبت تو صرف محبت ہوتی ہے، اور جب بات حور اور ساحل کی محبت کی ہو تو بات ہی کچھ اور ہوتی ہے۔۔۔"، میں نے کہا کافی دیر خاموشی چھائی رہی، حور کا سر میرے کاندھے پر جما رہا، شاید اس کو ہمیشہ کی طرح ایک مضبوط سہارے کی ضرورت محسوس ہورہی تھی۔ "اپنی آنکھیں بند کرو ساحل۔۔"، حور نے کہا میں نے اس کی جانب دیکھا، اور دیکھتا رہا۔ میری حور میرے سامنے ہو اور میں آنکھیں بند کروں کیسے ممکن ہے۔۔ میں چُپ رہا۔ (جاری ہے) نوٹ: 21ویں قسط بھی آج رات ہی شائع کی جائے گی۔ اویس سمیر

کوئی تبصرے نہیں:

ایک تبصرہ شائع کریں