منگل، 25 اگست، 2015

August 25, 2015 at 09:22PM

"حور"۔۔۔ قسط: 17 ۔۔۔ تحریر: اویس سمیر۔۔۔ (گزشتہ سے پیوستہ) کچھ ہی دن گزرے تھے کہ میرے پاس کال آگئی، "ساحل صاحب بول رہے ہیں؟"، دوسری جانب سے پوچھا گیا، "جی! فرمائیے!"، میں نے کہا "آپ کا آفر لیٹر ہمارے دفتر میں آگیا ہے، آکر لے جائیے، آپ کی جوائننگ ان شاءاللہ پہلی تاریخ سے ہے"، مطلع کیا گیا۔۔ "یہ والی پہلی تاریخ؟؟؟" میں نے حیرانگی سے پوچھا۔۔ "جی ۔۔۔ یہی والی" صرف دس دن بچے ہیں۔۔۔۔ اتنے سے دن میں کیا کیا ہوگا ۔۔۔ اب پریشان ہونے کی باری میری تھی! (اب آگےپڑھئے) مجھے سمجھ نہیں آرہا تھا کہ اتنی جلدی سب کچھ کیسے ممکن ہوگا، سب سے پہلی پریشانی ٹکٹ کے پیسے تھے جس کا بندوبست مجھے اپنی جانِب سے ہی کرنا تھا، یہ غنیمت تھا کہ ویزہ کی فیس اور اس سے متعلقہ تمام خرچ کمپنی نے اپنے ذمہ لیا ہوا تھا۔ وہ دن میرا اس ہی پریشانی میں گزرا کہ کسی طرح پیسوں کا بندوبست ہو، میں نے جس جگہ کمیٹی ڈالی ہوئی تھی اس کے ملنے کے دن بھی قریب آرہے تھے میں نے سوچا کیوں نہ ان سے کہا جائے تاکہ مجھے کمیٹی کے پیسے مل جائیں ، میں نے ان سے رابطہ کیا اور اپنی ضرورت سے آگاہ کیا تو مجھے جواب ملا کہ کیوں کہ اس کمیٹی میں کئی افراد شامل ہیں لہذا کمیٹی ایک میٹنگ بلائے گی تاکہ تمام افراد سے پوچھ لیا جائے کہ کسی کو اس فیصلے پر اعتراض تو نہیں۔ یہ سوچ کر میرا منہ لٹک گیا، نہ جانے کمیٹی کے سارے ارکان اس حوالے سے متفق ہوں کہ نہیں، اگر کسی کمیٹی ممبر کی ضرورت میری ضرورت سے بڑھ کر ہو تو یقیناً تمام ارکان کا فیصلہ اس کے حق میں ہی ہوگا۔ اگلے دن میں جاب کے حوالے سے مزید تفصیلات معلوم کرنے کیلئے آفس جا پہنچا، "کیا ایسا ہوسکتا ہے کہ میری جوائننگ کی تاریخ کچھ دن اور آگے بڑھ جائے؟" میں نے پوچھا "مثلاً ۔۔۔ کتنے دن؟"، مزاج میں سَرد مہری تھی "مثلا مزید پندرہ دن، تاکہ مجھے تیاری کے لئے دن مل جائیں؟"، میں نے کہا "ساحل صاحب، بیرون ملک نوکری کوئی بچوں کا کھیل نہیں۔۔۔"، وہ گویا ہوا "آپ کو جس نوکری کیلئے بھیجا جارہا ہے اس پر پہلے ہی پانچ افراد شارٹ لِسٹ ہوچکے تھے، مگر جن صاحب نے آپ کو یہاں بھیجا تھا وہ خود بھی کافی اعتماد کے فرد ہیں لہذا ہم کو آپ کے حق میں ہی فیصلہ کرنا پڑا، ساحل صاحب ، میں معافی چاہتا ہوں، یہ جس کمپنی کی پوسٹ ہے ان کو پہلی تاریخ کو ہی بندہ چاہئے، ورنہ ہماری کمپنی کو ان کی جانب سے بھاری جرمانہ ہو سکتا ہے، میرا خیال ہے آپ میری بات بخوبی سمجھ رہے ہونگے؟"، اس نے کہا "جی جی بالکل۔۔۔"، میں نے جواب دیا ۔۔۔ "میں ان شاءاللہ پہلی تاریخ کو جوائن کروں گا، بہت بہت شکریہ آپ کی رہنمائی کا!" میں نے وعدہ کر تو لیا تھا، لیکن میرا دل ابھی تک اس ہی ادھیڑ بن میں تھا کہ سب کچھ کیسے ہوگا۔ اس پریشانی کے عالم میں بھی میرا دل کسی سے مانگنے کی جانب نہیں جارہا تھا، میں اس حوالے سے سوچنا ہی نہیں چاہ رہا تھا کہ مجھے کسی شخص سے مانگنا پڑے، بھائی کی جانب سے دئے گئے دس ہزار کا قرضہ مجھ پر پہلے ہی واجب الادا تھا، نہ یہ میری فطرت تھی اور نہ میں چاہتا تھا کہ میں خود پرقرضے کا بوجھ بڑھاؤں۔ جہاں سے میری جاب ختم ہوئی تھی مجھے اس جگہ سے بھی میرے بقایا جات ملنے تھے، میں نے وہاں سے پتا کیا تو جواب ملا کہ چند دِن اس سب میں مزید لگیں گے، "کتنے دن لگ سکتے ہیں؟"، میں نے ایچ آر ڈیپارٹمنٹ سے دریافت کیا، "ساحل صاحب، کم از کم دس دن اور ۔۔۔ دیکھیں، آپ خود اس کمپنی کا حصہ رہ چکے ہیں، آپ جانتے ہیں یہاں کا ماحول، اپروول وغیرہ میں چیزیں رُک جاتی ہیں خاص طور پر جب معاملہ پیسوں کا ہو تو آپ جانتے ہیں جائز اپروول کیلئے بھی کس قدر پاپڑ بیلنے پڑتے ہیں!" اس نے کہا "میں یہ سب سمجھتا ہوں، بہت شکریہ"، میں نے کہا اور فون بند کردیا، میں نے جس سے بات کی تھی وہ نچلے درجے کا ملازم تھا، وہ ٹھیک ہی کہہ رہا تھا اس کے ہاتھ میں کچھ بھی نہیں، اصل اپروول اوپر کے درجے کی اشیرباد سے ہی ہوتا ہے، نیچے والے تو صرف خانہ پُری کیلئے ہوتے ہیں۔ میں یہی کچھ سوچ رہا تھا کہ میرے موبائل پر بیل بجی، اسکرین پر میرے بہت ہی عزیز دوست احمر کا نام دکھائی دے رہا تھا، میں نے نہایت ہی خوشگوار انداز میں "ہیلو۔۔" کیا لیکن دوسری جانب اس کی سسکیاں سُنائی دے رہی تھیں۔۔۔ چند منٹ تک تو اس کی سسکیاں گونجتی رہیں، کچھ دیر بعد اس نے ٹوٹے پھوٹے الفاظ میں کہا، "ساحل، ۔۔۔۔میرے والد صاحب ۔۔۔کی وفات ہوگئی ہے!"، یہ خبر مجھ پر بجلی بن کرگری، ایک تو احمر بہت ہی عزیز دوست تھا، دوسرے ۔۔۔ احمر کمیٹی کا ممبر بھی تھا۔ (جاری ہے)

کوئی تبصرے نہیں:

ایک تبصرہ شائع کریں