جمعہ، 21 اگست، 2015
August 21, 2015 at 10:59PM
"حور"۔۔۔ قسط: 14 ۔۔۔ تحریر: اویس سمیر۔۔۔ (گزشتہ سے پیوستہ) "ساحل! اگر آپ مجھ سے بات کریں گے تو ہمیشہ کی طرح آپ کو میری جانب سے ایک اچھا مشورہ ہی میسر ہوگا، ساحل میں بھلے باہر کی دنیا کی اتنی سمجھ بوجھ نہ رکھتی ہوں، مگر پھر بھی آپ مجھ پر اعتبار کرسکتے ہیں!" "میں تو تم پر خود سے زیادہ اعتبار کرتا ہوں حور" میں نے اظہار کرنے میں تمام تکلفات کو بالائے طاق رکھ کر کہا، "بات یہ ہے حور۔۔۔" میں نے بات شروع کی، "میں آج نوکری کیلئے جس جگہ گیا تھا وہاں سے مجھے نوکری آفر ہوگئی ہے!" ، میں نے اتنا ہی کہا تھا کہ حور کی آنکھیں دَمکنے لگیں۔ "لیکن حور ۔۔۔"، میں نے اپنی بات جاری رکھی۔۔۔ "وہ نوکری پاکستان میں نہیں دبئی میں ہے!" میں نے حور کے چہرے کا رنگ اُڑتے ہوئے دیکھا۔ (اب آگےپڑھئے) "یہ تو بہت اچھی بات ہے ساحل!"، حور نے جھوٹ بولنے کی ناکام کوشش کی۔ حور جس دوراہے پر تھی اس کا میں کبھی اندازہ نہیں کرسکتا، ایک طرف تابعدار بیوی کی طرح میرے ہر فیصلے کو قبول کرنے کا وعدہ نبھانے کی کوشش تو دوسری جانب مجھ سے جدا ہونے کا ایک غم، ایک جانب شوہر کی تمام پریشانیوں اور تکالیف کو مِٹا دینے کی شدید خواہش تو دوسری جانب اپنے آنسوؤں کو روکنے کی ناکام کوشش، حور عجیب کشمکش میں تھی اور اس کرب کو زندگی کا ساتھی ہونے کے ناطے میں بھی محسوس کئے بنا نہیں رہ سکا۔ ایک جانب وہ مجھ سے شکوہ کرنا چاہتی ہے، مگر مجھ سے کیا گیا وعدہ اس کو روکے ہوئے تھا۔ ایک جانب وہ مجھے نیک تمناؤں کے ساتھ رخصت کرنے کی خواہش مند تھی تو دوسری جانب دل کے ہاتھوں مجبور بھی تھی۔ عجیب کشمکش تھی۔ یہ مادہ پرستانہ معاشرہ بھی کتنا عجیب ہے، انسان کتنا بھی اس سے بَچنا چاہے مگر کسی نہ کسی طرح یہ زندگی کے کسی موڑ پر اپنا ڈراؤنا چہرہ لئے نمودار ہوجاتا ہے، اپنی لپیٹ میں لے لیتا ہے، دنیاوی ضروریات جو کہ دن بدن بڑھتی چلی جاتی ہیں اور انسان اِن میں اُلجھ کر اپنا اصل مقصد گنوا بیٹھتا ہے، پھر اُس کا مقصدِ حیات صرف یہی رہ جاتا ہے کہ کماتا رہے اور کسی طرح اپنا اور اپنے بیوی بچوں کا پیٹ پالنے کا سبب بنتا رہے، گو کہ یہ بھی ایک عبادت ہے، مگر یہ تو صرف ایک جُز ہے، کُل نہیں۔ میں حور سے بہت کچھ کہنا چاہتا تھا، بہت سا دلاسا دینا چاہتا تھا، مگر ہمت ہی نہ بن سکی کہ اس سے کچھ کہ سکوں۔ وہ رات میں نے جاگ کر گزاری اور مجھے یقین تھا کہ حور بھی جاگ ہی رہی ہوگی، گو کہ ہم دونوں کے درمیان نہ کوئی تلخ کلامی ہوئی نہ ہی کوئی مَنفی بات مگر کچھ تھا جو ہم دونوں کو بےچین کئے دے رہا تھا۔ صبح صبح مجھے پاسپورٹ آفس جانا تھا، اس ہی لئے علی الصباح تیار ہوگیا، ساری رات جاگنے کے باوجود حور میرے لئے وقت پر ناشتا لے آئی، ناشتا کرتے ہی میں نے پاسپورٹ آفس کی راہ لی، سویرے پہنچنے کی وجہ سے چند ہی لوگ لائن میں لگے ہوئے تھے لہذا جلدی باری آگئی اور تمام ضروری تقاضے پورے کرنے کے بعد بالآخر مجھے پاسپورٹ لینے کیلئے اگلے ہفتے کا وقت دیا گیا، غنیمت! ہفتہ گویا سال بن چکا تھا، گزر ہی نہیں رہا تھا، حور اور میری گفتگو لمبی چوڑی باتوں سے سِمٹ کر اب بس "ہوں، ہاں" تک رہ گئی تھی۔ ان ہی دنوں میں سے ایک دن حور ڈریسنگ ٹیبل کے سامنے بیٹھی اپنے بال سنوار رہی تھی کہ میں اس کے سامنے جا پہنچا، کچھ دیر تو مجھے نظرانداز کرکے وہ بدستور بال سنوارتی رہی، میں نے نہایت نرمی سے اُس کے دونوں کندھوں کو پکڑ کر رُخ اپنی جانب کیا اور پوچھا، "حور، کیوں ناراض ہو مجھ سے؟" مگر حور تو جیس ے چُپ کا روزہ رکھی ہوئی تھی، کچھ نہ بولی۔ اس کی جھُکی جھُکی نظریں بہت سی کہانیاں سُنا رہی تھیں مگر میں وہ سب کہانیاں اس کے منہ سے سننا چاہ رہا تھا۔ میں نے اس کو مخاطب کرکے کہا، "حور! جب تک بات نہیں کرو گی تو مسائل کا حل کیسے نکلے گا، بہت بار چُپ رہنے سے معاملات سلجھتے نہیں بلکہ اور زیادہ الجھ جاتے ہیں۔ میں جانتا ہوں یہ سب میرے باہر جانے کے فیصلے کی وجہ سے ہے، لیکن میرے ہر عمل کی وجہ تم بھی جانتی ہو، میں نے تمہیں اپنے ہر فیصلے کا لازمی جُز مانا ہے۔" طویل عرصہ خاموشی طاری رہی، ہم دونوں ایک دوسرے کو دیکھتے ہی رہے۔ پھر حور نے دھیرے دھیرے بولنا شرو ع کیا، "ساحل میں ناراض نہیں ہوں، نہ ہی آپ کے کسی فیصلے سے خفا ہوں، لیکن آپ کی دوری کا ڈَر ہی میرے اندر کی تمام خوشگوار سوچوں کو غموں کی ایک چادر اوڑھا گیا، ساحل، میری ہنسی آپ کے ہی دم سے ہے۔ ہمارے مستقبل اور ہمارے بہتر کَل کیلئے یہ بات ٹھیک ہے کہ آپ کو مجھ سے دور جانا پڑیگا، میں آپ کے ساتھ کھڑی ہوں، مگر میں اس بات کی کوئی ضمانت نہیں دے سکتی کہ پھر میری ہنسی برقرار رہیگی کہ نہیں، ہاں مگر جب آپ پاس ہونگے تو۔۔۔!" وہ جو کچھ کہہ رہی تھی اس کا بخوبی اندازہ مجھے بھی تھا، لیکن ہم دونوں ہی مجبور تھے۔ اس دوران میں نے اُس آفس ایک بار اور چکر لگایا تاکہ انہیں پاسپورٹ ملنے کی تاریخ سے مطلع کرسکوں۔ ٹھیک ایک ہفتے بعد پاسپورٹ میرے پاس موجود تھا مگر میرے چہرے پر مردنی ایسی چھائی ہوئی تو جیسے کوئی فوتیدگی ہوگئی ہو۔ خواہشوں کا قافلہ بھی عجیب ہے، یہ وہاں سے گزرتا ہے جہاں راستے نہیں ہوتے ۔۔۔ (جاری ہے)
سبسکرائب کریں در:
تبصرے شائع کریں (Atom)
کوئی تبصرے نہیں:
ایک تبصرہ شائع کریں