جمعہ، 4 ستمبر، 2015
September 04, 2015 at 09:52PM
"حور"۔۔۔ قسط: 27 ۔۔۔ تحریر: اویس سمیر۔۔۔ (گزشتہ سے پیوستہ) میں اس کے بستر کے کنارے سر ٹکا کر بیٹھا ہوا تھا، میرے سر پر اس ہی شفیق ہاتھ کا لمس محسوس ہوا، میں نے ماں کی گود میں سر رکھ دیا، نہ جانے کتنے آنسو ان کی گود میں گرا دئے، وہ میرے بالوں میں اپنی انگلیوں سے کنگھی کرتی رہیں۔ ان کے لب ہلتے رہے، دعائیں کرتی رہیں مجھ پر دم کرتی رہیں، بہت سکون مل رہا تھا، میری اس وقت بس ایک ہی دعا تھی، اللہ میری حور کو اچھا کردے۔ ڈاکٹر کے مطابق حور ہوش میں تو آ گئی تھی، مگر مستقل نقاہت میں تھی، کبھی اس پر بیہوشی طاری ہوجاتی تو کبھی بہتری کی طرف جاتے جاتے پھر بگڑ جاتی، میں بہت پریشان تھا، اور پھر یہ ایک نہیں دو جانوں کا سوال تھا ۔ ۔ ۔! (اب آگےپڑھئے) میں ساری رت جاگتا ہی رہا، نیند میری آنکھوں سے کوسوں دور تھی، اماں میری گرتی ہوئی صحت دیکھ کر بہت پریشان تھیں، میں کرتا بھی کیا، ان حالات میں کس کو کھانے پینے کا ہوش تھا، آںکھوں کے گرد حلقے تھے کو مزید بڑھ کر میرا سراپا خوفناک بنا رہے تھے۔ پھر بھی میں نے ضد کرکے اماں کو گھر بھیج دیا تھا وہ بھی مستقل یہاں رہنے سے تھک گئیں تھیں، اور اصل بات یہ بھی تھی کہ میں اپنی حور کی دیکھ بھال خود کرنا چاہتا تھا، رات بھر اس ہی امید میں رہا کہ حور کب آنکھیں کھولے اور مجھ سے باتیں کریں، ۔ ۔ ۔ بھلے بات نہ کرے مگر میری جانب آنکھ اُٹھا کر ہی دیکھ لے، مجھے باتوں کیلئے الفاظ کی ضرورت نہیں، حور سے میں آنکھوں آنکھوں میں ہی بہت باتیں کرسکتا تھا۔ مگر اس رات حور نہ جاگی۔ "حور ۔ ۔ ۔دیکھو نا ۔ ۔ میں لوٹ آیا، یاد کرو تم نے ایک دفعہ کہا تھا کہ تمہیں ایسی محبت کی چاہ ہے جو کھو دینے کا خوف نہ رکھتی ہو، دیکھو میں لوٹ آیا تمہارے لئے، اب وہی محبت ہوگی جیسا تم چاہتی ہو" "حور ۔ ۔ ۔ تمہیں پتا ہے؟ ایک بات جو میں نے نہ جانے کب سے تم سے چھپائی ۔ ۔۔ بولو؟ بتا دوں؟ پتا ہے شادی سے قبل میں نے ایک بار بھی تمہاری تصویر نہیں دیکھی تھی، مجھے سرپرائز بہت پسند تھے، اور دیکھو اللہ نے پھر مجھے تمہاری صورت زندگی کا ایک انمول سرپرائز دیا" "یاد ہے حور، جب میں نے پہلی بار باہر جانے کا فیصلہ کیا تھا، تو تم کیسی روہانسی سی ہوگئیں تھیں! اور تم مجھ سے شکایت کرتی کرتی مجھ میں سمٹنے لگیں تھیں! اس دن میں نے مزید سرد مہری دکھائی تھی، کیوں؟ کیوں کہ مجھے تمہارا مجھ میں سمٹنا بہت بھلا لگ رہا تھا" "اور ہاں حور۔۔ جب پہلی بار تم ناراض ہوئیں تھیں تو تمہیں کیسے منایا تھا؟ یاد ہے؟ نہ کچھ کہا تھا نہ کچھ سُنا، وہ ساری باتیں آنکھوں ہی آنکھوں میں ہوگئیں تھیں، پتا ہے ۔ ۔ ۔ تمہارا یوں میرے کاندھے کو سختی سے بھینچ لینا ہی مجھے بتلا گیا کہ اب ہمارے درمیان کوئی خلا نہیں!" "اور ہاں ۔ ۔ ۔ یہ چوڑیاں ۔ ۔ یہ تمہاری ان نازک کلائیوں میں ہی اچھی لگتی ہیں! انہیں اپنے ہاتھ سے اُتارنے اور مجھ پر وارنے کیلئے اتنی بےتاب نہ ہوا کرو" اور ۔ ۔ نہ جانے کتنی ساری باتیں میں اس سے کرتا جارہا تھا، وہ آنکھیں بند کئے بستر پر دراز تھی، شاید سُن رہی تھی، یا شاید نہیں، مگر مجھے تو یہ سب کچھ اس سے کہنا تھا، اس کو بتانا تھا، اور میں کہتا ہی گیا، نہ جانے کتنے گھنٹے گزر گئے، میں اس وقت رُکا جب میرے کانوں میں فجر کی اذان کی آواز آئی اور میرے ہاتھ بےاختیار دعا کے لئے اُٹھ گئے، آنسو میری آنکھوں میں تھے، ہاتھ بلند ، جس قدر اللہ سے بھلائیاں مانگ سکتا تھا مانگتا گیا، نماز کا وقت ہوگیا تھا میں نے وضو کیا اور نماز ادا کی، نماز پڑھ کر بھی دعاؤں میں ہی مشغول رہا، اور پھر وہیں بستر سے سر ٹکا دیا، نہ جانے کب میری آنکھ لگ گئی۔ صبح ہوچکی تھی ۔ ۔ ۔ حور بدستور غنودگی میں تھی، ہسپتال کا اسٹاف کمرے کی صفائی اور چادر وغیرہ بدلنے کے لئے آیا ہوا تھا، ایک نرس بھی ساتھ تھی، اس کے ہاتھ میں کچھ رپورٹس تھیں جن پر وہ پین سے کچھ لکھ رہی تھی، پھر وہ میری جانب متوجہ ہوئی اس نے میرا مریضہ سے رشتہ پوچھا اور پھر ساری تفصیلات بتانے لگی، اس کی ساری باتوں کا لب لباب صرف یہ تھا کہ ، "ابھی کچھ بھی کہنا قبل از وقت ہے، بڑے ڈاکٹر صاحب آکر ہی تفصیل بتائیں گے"، خیر جہاں اتنا انتظار کیا تھا وہاں اور کرلیتا مجھے بہرحال اللہ سے مانگی گئیں اپنی دعاؤں پر اتنا تو بھروسہ تھا کہ وہ کسی دعا کو رد نہیں کرے گا۔ مجھے انتظار کرتے کرتے کئی گھنٹے گزر چکے تھے، گھڑی دیکھنا چھوڑ چکا تھا، بس وقت کے بہاؤ کے ساتھ بہتا چلا جارہا تھا، کافی دیر بعد ڈاکٹر صاحب کی آمد ہوئی، ان کی آمد کے ساتھ ہی سارا اسٹاف اپنے اپنے کاموں میں لگ گیا، میری جانب آتے آتے ان کو مزید ایک گھنٹہ لگ چکا تھا، جب تک میں مزید ذہنی دباؤ کا شکار ہوچکا تھا۔ وہ میری جانب آئے، رپورٹ دیکھنے لگے، میں نے بےصبری سے کچھ ۔۔ بلکہ بہت کچھ پوچھنا چاہا جسے انہوں نے شان بے نیازی سے ہاتھ کے اشارے سے روک دیا، "نہ جانے کیسے اتنے بےرحم ہوجاتے ہیں لوگ"، میں نے سوچا۔ بہت دیر بعد وہ گویا ہوئے، "چونکہ مریضہ کی جسمانی کمزوری، کومہ اوردوسری کامپلیکیشنز کی وجہ سے یہ کیس بگڑ چکا ہے، لہذا میں یہ مشورہ دوں گا کہ آج ہی آپریشن کرا دیں تاکہ زیادہ لیٹ ہونے سے مزید خرابیاں ہونے سے بچ جائیں" مجھے نہیں معلوم تھا کہ کیا کہہ رہا ہے، کیوں کہہ رہا ہے، آج رات آپریشن کا وقت دے دیا گیا تھا۔ رات آپریشن شروع ہوا، بھائی بھی آچکے تھے، اور آتے ہی ان پر ایک کام کا بوجھ خون کا بندوبست کرنا تھا، میں نے بھی خون کے لئے اپنے دوستوں کو فون کرنا شروع کردیا، اللہ اللہ کرکے بندوبست ہوا، آپریشن اسٹارٹ ہوچکا تھا، اماں، بھائی اور میں باہر بیٹھے تھے، ماحول میں ٹینشن جیسے کوٹ کوٹ کر بھر دی گئی تھی، اچانک آپریشن تھیٹر کا دروازہ کھُلا، ڈاکٹر صاحب نے مجھے ساتھ آنے کا اشارہ کیا، اندر تھیٹر کی جانب ایک طرف لے جا کر مجھے کہنے لگے، "صبح میں آپ سے ذکر کر چکا تھا، کیس بگڑ چُکا ہے، ابھی صورتحال مزید واضح ہوئی ہے، مجھے افسوس ہے ہم ماں اور بچے میں سے کسی ایک کو ہی بچا سکتے ہیں ۔ ۔ ۔ " میرا خون کھول رہا تھا، ڈاکٹر میری جانب حیران نظروں سے دیکھنے لگا، میں نے ان کی طرف دیکھ کر کہا ، "ڈاکٹر صاحب، جائیے جو آپکی ذمہ داری ہے وہ پوری کیجئے" "دیکھو، آپ کو ایک فیصلہ کرنا پڑیگا ۔ ۔ "، اس کے الفاظ ابھی زبان پر ہی تھے کہ میں نے جھپٹ کر اس کا گریبان پکڑ لیا "کیسا فیصلہ ۔ ۔؟؟" میں چینخا! ۔ ۔ ۔"تم کون ہوتے ہو جان بچانے والے؟" میں بےقابو ہورہا تھا، "زندگی دینے والی ذات صرف اللہ کی ہے اللہ کی!" میں نے اس کو جھٹکا دیا "جاؤ جا کر اپنی کوشش کرو ۔ ۔ مجھے نہیں کرنا کوئی فیصلہ ویصلہ ،، ، " وہ دیوار سے لگا خوف زدہ نظروں سے مجھے دیکھ رہا تھا "ساحل ساحل ۔۔ چھوڑو اسے ۔ ۔ دور ہٹو ۔ ۔ " ، بھائی دوڑتے ہوئے آئے اور مجھے چھڑانے لگے۔ (جاری ہے)
جمعرات، 3 ستمبر، 2015
September 03, 2015 at 09:50PM
"حور"۔۔۔ قسط: 26 ۔۔۔ تحریر: اویس سمیر۔۔۔ (گزشتہ سے پیوستہ) اُدھر حور کی طبیعت دن بدن خراب ہوتی چلی جارہی تھی، میں اس جانب سے بہت فکر مند تھا۔ میں وطن واپس لوٹنے کی تیاری کرنے لگا، حالات کچھ اس نہج پر تھے کہ میں کچھ اور سوچنے سمجھنے کے قابل نہیں رہا تھا۔ جتنا جلدی جو کچھ ہو سکتا تھا میں نے کیا، میرے واپس لوٹنے تک حور کومہ میں جاچکی تھی۔ (اب آگےپڑھئے) مجھے نہیں پتا تھا کیا ہوا کیسے ہوا، کسی پل میں آفس میں تھا تو کسی پل میں اپنے پاسپورٹ کے لئے تگ و دو کر رہا تھا، کسی پل میں ٹکٹ کے لئے بھاگ رہا تھا تو کسی وقت مسجد میں بیٹھا آنسو بہا رہا تھا، نہیں معلوم کب مجھے ٹکٹ ملا کب میں نے وہاں سے دوڑ لگائی، فلائٹ کب کی تھی، کتنے گھنٹے میں سفر میں رہا ۔ ۔ مجھے بس اتنا معلوم تھا کہ مجھے حور کے پاس پہنچنا ہے، ایئر پورٹ سے سیدھا نکل کر میں اس ہی جانب گیا ۔ ۔ میں ہسپتال میں داخل ہوا، بکھرا حلیہ، نقاہٹ چہرے پر، سفر کی تھکن، ہاتھ میں سفری بیگ، جیب خالی، ایسا لگتا تھا جیسے تھکن سے گِر جاؤں گا، پاؤں درد سے اینٹھ رہے تھے، ایک ایک قدم مَن مَن بھر بھاری ہورہا تھا، شاید حور کو دیکھنے کی ہمت مجتمع نہیں کر پارہا تھا میں کاؤنٹر پر گیا، میرے منہ سے صرف اتنے ہی الفاظ نکلے، "حور ساحل"، اس سے آگے میں کچھ نہیں بولا کاؤنٹر پر بیٹھی لڑکی نے ایک نظر مجھ پر ڈالی پر کمپوٹر میں کچھ انڈر کیا، "سر کمرہ نمبر 044" ، وہ بولی چوتھے فلور تک کا سفر، اور اب میں کمرہ نمبر چوالیس کے دروازے کے سامنے کھڑا تھا، فلور پر کمروں کی قطاریں موجود تھیں، جانے ہر کمرے میں ایک الگ کہانی ہوگی، کسی کی ماں، کسی کا باپ، کسی کی حور تو کسی کا ساحل، یہی زندگی کی داستان ہے یہی سانسوں کی ڈور، کب ای سی جی مشین پر ابھرتی دل کی دھرکن کی بیپ ایک لمبی ٹون میں تبدیل ہوجائے، اور بس ۔۔۔ روز و شب کے میلے میں، غفلتوں کے مارے ہم، بس یہی سمجھتے ہیں، ہم نے جس کو دفنایا، بس اس ہی کو مرنا تھا۔ شاید ہم زندگی کی حقیقت نہیں سمجھتے، یا سمجھتے ہیں تو ماننے سے انکار کرتے ہیں، اپنی زبان سے نہیں تو اپنے عمل سے ضرور، نہ جانے کیوں اس زندگی کو ایک انتظار گار ایک امتحان گاہ سمجھ کر نہیں گزارتے! میں نے دروازے کے لاک کو گھما کر زور دیا اور اندر داخل ہوگیا، بستر پر میری حور تھی، ہاں ۔۔ یہ میری حور تھی ، ، نہیں ۔۔۔ یہ میری حور نہیں ہوسکتی، میں زمین پر بیٹھ گیا، میں آنسوؤں کو روک نہیں پایا، اچھا تھا کہ کوئی کمرے میں نہیں تھا، ورنہ مجھے بالکل بھی بھلا نہیں لگتا اگر کوئی اس وقت مجھے روکتا یا دلاسا دیتا، مجھے رونا تھا، جی بھر کر، مجھے اس غم کو اپنے آنسوؤں کی صورت بہانا تھا، شاید کہ اس سے میرے دل کی بےچینی کم ہوجاتی، کیوں ساحل؟ کیوں کیا تم نے ایسا؟ بولو؟ کیا بگاڑا تھا حور نے تمہارا، صرف ایک ہی تو خواہش تھی، صرف تمہارا ساتھ ہی تو مانگا تھا، کیوں ساحل کیوں؟ میں خود سے سوال کرتا جاتا اور بلکتا جاتا تھا۔ میں اُٹھا، اور حور کے پاس جا پہنچا، بند آنکھیں سپاٹ پیلا پڑتا چہرہ، ہاتھوں میں گھپی سوئی کی نوکیں، جن کے دوسری جانب کئی ساری ڈرپیں لگی تھیں، وہ رعنائی، وہ گرمجوشی، وہ چمکتی آنکھیں، وہ کھلکھلاہٹ، کدھر گئی میری حور، کئی لمحے گزر گئے میں اس کو دیکھتا رہا، میں اس کے سرہانے بیٹھ گیا، اس کا ہاتھ تھام لیا، اس لمس کی چاہت مجھے کتنے دنوں سے تھی، برف جیسا ٹھنڈا ہاتھ، ایک ایک لمحہ مجھے یاد آرہا تھا، وہ لمحہ جب حور رخصت ہو کر میرے دل کی دھڑکن بنی، وہ لمحہ جب میں نے اس کا گھونگٹ اُٹھا کر واقعتاً ایک حور کا روپ دیکھا،وہ لمحہ جب میں نے اس کے دونوں ہاتھ چوڑیوں سے بھر دئے، وہ لمحہ جب بارش میں ہم دونوں بھیگ گئے، وہ سارے لمحے جب ہم ایک دوسرے کی چاہتوں میں کھوئے رہے، وہ لمحہ جب اس نے میری بیماری میں اپنی طبیعت کی پرواہ نہ کی، وہ لمحہ جب میرے کاندھے کو وہ مضبوطی سے تھامے رہی، وہ لمحہ جب میری مالی پریشانی کو دیکھتے ہوئے اس نے اپنی چوڑیاں مجھے دینا چاہیں، وہ لمحہ جب جدائی کے تصور نے ہمیں ایک دوسرے کے اور قریب لا کھڑا کیا تھا، وہ لمحہ جب ساحل سمندر پر اس نے چلتے چلتے اچانک رک کر مجھ سے وہ محبت مانگنی جس میں ڈر کی آمیزش نہ ہو، اور ہر وہ لمحہ جب اس کی معصوم کھلکھلاہٹ ساری آوازیں گم کردیتی اور صرف حور کی کھلکھلاہٹ ہی چار سو رہ جاتی ۔ ۔ میں اس کے چہرے پر جھکا ہوا تھا، ایک ایک کرکے سارے لمحے میری آنکھوں کے سامنے آتے جاتے، میری آنکھ سے نادانستہ طور پر ایک آنسو ٹپکا اور حور کے چہرے پر لڑھک گیا، شاید میری گرفت اس کے ہاتھ پر مضبوط تھی، اس کے بدن میں ارتعاش ہوا، اس کی آنکھیں کھلیں، بہت کم، بہت مدھم، نیم وا آنکھوں سے اس نے میری جانب دیکھا، لب ہلے، شاید کچھ کہنا چاہتی تھی مگر کہہ نہ سکی، شاید کہ "اتنی دیر ساحل؟"، اس نے کچھ لمحے مجھے دیکھا اور پھر آنکھیں بند کرلیں، بہت تھک بھی تو گئی تھی دُکھ سہتے سہتے۔ --------- میں اس کے بستر کے کنارے سر ٹکا کر بیٹھا ہوا تھا، میرے سر پر اس ہی شفیق ہاتھ کا لمس محسوس ہوا، میں نے ماں کی گود میں سر رکھ دیا، نہ جانے کتنے آنسو ان کی گود میں گرا دئے، وہ میرے بالوں میں اپنی انگلیوں سے کنگھی کرتی رہیں۔ ان کے لب ہلتے رہے، دعائیں کرتی رہیں مجھ پر دم کرتی رہیں، بہت سکون مل رہا تھا، میری اس وقت بس ایک ہی دعا تھی، اللہ میری حور کو اچھا کردے۔ ڈاکٹر کے مطابق حور ہوش میں تو آ گئی تھی، مگر مستقل نقاہت میں تھی، کبھی اس پر بیہوشی طاری ہوجاتی تو کبھی بہتری کی طرف جاتے جاتے پھر بگڑ جاتی، میں بہت پریشان تھا، اور پھر یہ ایک نہیں دو جانوں کا سوال تھا ۔ ۔ ۔! (جاری ہے)
بدھ، 2 ستمبر، 2015
September 02, 2015 at 11:39PM
"حور"۔۔۔ قسط: 25 ۔۔۔ تحریر: اویس سمیر۔۔۔ (گزشتہ سے پیوستہ) ادھر حور کا بھی الگ ہی حال تھا، وہ اپنی زبان سے تو صرف یہی بیان کرتی کہ وہ "ٹھیک" ہے، مگر اس کی اصل حالت کا علم مجھے امّاں اور گھر کے دوسرے افراد سے ہوتا تھا، وہ نہ تو اب کسی سے زیادہ بات کرتی تھی نہ ہی خود کو مصروف رکھنے کیلئے کوئی مشغلہ اختیار کرتی، اس کی صحت دِن بدِن گر تی جارہی تھی، وہ بیمار رہنے لگی تھی، اُسکی کھلکھلاہٹ تو جیسے کسی اور ہی دنیا جا بسی تھی، امّاں نے کچھ دن اُس کو میکے بھیجا شاید دل بہل جائے مگر جلد ہی وہ واپس چلی آئی، اماں کے پوچھنے پر بس اتنا جواب دیا کہ، "اس گھر سے ساحِل کی نسبت ہے"، کبھی تو اس قدر پُر سکون ہوتی اور کبھی اس قدر بےچین گویا اس کے دل میں ایک طوفان ہو جا پھٹ پڑنے کو تیار ہو۔ ایک دن میں آفس میں تھا کہ میرے پاس فون آیا، کال ریسیو کی تو دوسری جانب بھائی جان تھے، میرے بار بار پوچھنے پر صرف اتنا بتایا، "آج صبح کام کرتی کرتی گِر گئی تھی، حور کی طبیعت بہت خراب ہے ساحل، ہم ہسپتال میں ہیں" (اب آگےپڑھئے) میں پہلے ہی گھر سے دوری کی وجہ سے پریشان تھا میرے لئے تو یہ خبرجیسے ایک قیامت بن کر نازل ہوئی تھی ، اس صورتحال میں میں خود کو کیسے سنبھالتا، کچھ دیر تو میں نے اپنے آپ پر قابو پانے کی ہر ممکن کوشش کی مگر سب بےسود میں ، فون میرے ہاتھ سے گر چکا تھا، میں مدہوش ہوچکا تھا، فون پر کچھ دیر بھائی میرا نام پاکرتے رہے مگر پھر جیسے ہر جانب خاموشی سی طاری ہوگئی۔ ہر جانب اندھیرا تھا، اِس اندھیرے میں میں بھٹکنے لگا، کبھی اپنے دائیں جاتا تو کبھی بائیں مگر ہاتھ کو ہاتھ سجھائی نہ دیتا، مجھے میرا راستہ نہ ملا، مگر میں نے کوشش کرنی بند نہ کی، آخر کار تھک ہار کر اللہ کے سامنے سر جھکا دیا، میں سجدے میں گِر چکا تھا، میری ہر امید میرے اللہ سے وابستہ تھی، نہ جانے کتنی دیر میں سجدے میں سر جھکائے پڑا رہا، میرے ہر جانب اندھیرا ہی اندھیرا تھا، مجھے روتے روتے نہ جانے کتنی دیر ہوچکی تھی، پھر ایک شفیق سا ہاتھ میرے سر پر آیا، کوئی ہولے ہولے میرے سر پر ہاتھ پھیر رہا تھا۔۔۔ میں اس ہاتھ کے لمس کو اچھی طرح پہچانتا تھا، جب میں ننھا سا تھا تو یہی ہاتھ مجھے انگلی پکڑ کر کھڑا کرتا تھا، یہی ہاتھ مجھے سہارا دیتا تھا، اس ہی ہاتھ کا لمس تھا کہ میں روتے روتے چُپ ہوجاتا تھا، یہی ہاتھ تھا کہ گھر آنے کے بعد جب تک میرے سر پر اس کا لمس نہ ثبت ہوتا مجھے چین نہ آتا، یہی ہاتھ تو میری پہلی محبت تھا، میری ماں کا ہاتھ، ہر لمحے میری لئے رونے والا دعا دنے والا۔۔۔ میں نے سر اٹھایا، ہاں شاید ماں ہی تھیں، میں ان کی گود میں سر رکھ دیا، اور بلک بلک کر رونے لگا، "ماں ۔۔ کیا یہ سزا ہے؟ یا یہ امتحان ہے؟"، ماں کچھ نہ بولی، بس اس کے لب ہلتے رہے نہ جانے وہ میرے لئے کیا کیا دعائیں کر رہی تھیں۔ پھر نہ جانے کیا ہوا کہ میرے گرد موجود اندھیرا چھَٹنے لگا، میں اُٹھ کھڑا ہوا، ایک نور کا ہالہ میرے اطراف میں تھا۔۔۔ شاید میں ہسپتال میں تھا، شاید وہ دل کا دورہ تھا، یا کچھ اور ۔۔ مگر وہ خبر سُن کر میں اپنے ہوش میں نہ رہا تھا، فون میرے ہاتھ سے گر گیا تھا، آفس میں ساتھ والے مجھے اُٹھا کر ہسپتال لے آئے ، باقی میری ماں کی دعا اور توجہ تھی کہ میں ٹھیک رہا، اگلے چوبیس گھنٹوں میں میں بہتر ہوچکا تھا، فون منع تھا، بستر سے اٹھنے کی اجازت ملتے ہی فوراً اپنے گھر کال ملائی، بھائی سے بات ہوئی، انہیں میں نے اپنی طبیعت کے حوالے سے کچھ بھی نہیں بتایا، وہ پوچھتے رہے کہ کیا ہوا تھا اور میں نے فون کیوں بند کردیا تھا مگر میں ٹالتا رہا۔۔۔ ان ہی کی زبانی مجھے معلوم ہوا کہ اماں اُس وقت سے اب تک جائے نماز پر بیٹھی میرے اور حور کے لئے دعائیں کر رہی ہیں۔ حور بدستور ہسپتال میں ہی تھی، میرا بےچینی سے برا حال تھا، نہ جانے کیا ہوگیا تھا، اگلا دن آفس گیا، واپسی کے بعد سارا وقت مسجد میں بیٹھا دعائیں مانگتا رہا۔ نہ کھانے کا ہوش تھا نہ ہی پینے کا، حور کا موبائل بند تھا، شام میں بھائی کو کال کی، "بھیا! حور کیسی ہے؟"، میں نے پوچھا۔ "بہتر ہے، گھر واپس آگئی ہے ڈاکٹر نے کہا ہے کہ بہت کمزوری ہے، اس حالت میں کمزوری بہت برا اثر ڈلتی ہے، اس لئے فوری طور پر کئی ڈرپ چڑھائی گئیں اور بعد ازاں صحت کو معمول پر لانے کے لئے وٹامنز ۔ ۔ ۔ " بھائی نہ جانے کیا کیا بولے جارہے تھے مگر میرا ذہن و دل ان کے اس لفظ پر رُک گیا، "اس حالت" میں؟کیا کہہ رہے ہیں بھائی، کس حالت کی بات کر رہے ہیں؟ میں سمجھا نہیں!"، میں نے پوچھا "ساحل ۔۔ ان شاءاللہ بہت جلد اللہ تم کو خوشیاں دے گا۔۔" میرا دل خوشی سے جھوم سا گیا "کیا میری حور سے بات ہوسکتی ہے؟"، میں نے بےتابی سے پوچھا، اب اور انتظار کی سکت مجھ میں نہ تھی! "ساحل ۔۔ وہ تو ابھی آرام کر رہی ہے، ہاں جیسے ہی وہ نارمل ہوتی ہے میں اس کی تم سے بات کراتا ہوں"، بھائی نے کہا۔ "مگر بھائی ۔۔ " ، میں نے کچھ کہنا چاہا ۔۔ مگر بھائی نے ہسنتے ہوئے کہا کہ ، "ارے اتنی بھی کیا بےصبری ساحل ۔۔ میں سمجھ سکتا ہوں، مجھ پر بھروسہ کرو"۔ تقریباً پانچ گھٹے بعد میرے موبائل کی گھنٹی بجی اور میں نے ایک سیکنڈ ضائع کئے بغیر وہ فون اُٹھا لیا۔ دوسری جانب حور کی نقاہت بھری آواز آئی ۔۔ "ساحل" اس نے کہا۔ "ہاں حور بولو میں سن رہا ہوں۔۔ ۔ " میری آواز بھرا سی گئی تھی۔ "ساحل ۔۔ مجھے آپ کی ضرورت ہے۔" "میں تمہارے پاس آجاؤں گا حور بہت جلد تم فکر نہ کرو"، میری بات میں ایک یقین سا تھا "مجھے یقین ہے ساحل آپ جلد میرے پاس آجاؤ گے" "ان شاءاللہ" میں نے جوا ب دیا اس وقت زیادہ بات نہ ہوئی، حور کی طبیعت اس قابل نہیں تھی کہ وہ زیادہ بات چیت کرسکے -------- اللہ نے حور سے میرے وعدے کا بھرم رکھ لیا، لیکن وہ کہتے ہیں نا کچھ پانے کے لئے کچھ کھونا پڑتا ہے، کچھ ایسا ہی میرے ساتھ بھی ہوا میری نوکری کو دو ماہ مکمل ہونے والے تھے، ایک دن صبح میں آفس پہنچا تو مجھے اطلاع دی گئی کہ ویزہ پالیسی میں کچھ تبدیلی کی وجہ سے تین ماہ کے ویزوں کو دو ماہ میں تبدیل کردیا گیا ہے، لہذا میرا اور مجھ جیسے دوسرے ملازمین کا ویزہ ختم ہوچکا تھا جس کے بعد ہمیں واپس بھیج دیا جانا تھا جب تک کہ کمپنی دوبارہ ویزہ جاری نہ کردیتی، یہ میرے لئے ایک بہت بڑا مسئلہ تھا، کیوں کہ اب تک تو صرف میرے پاس اتنے ہی پیسے جمع ہوئے تھے کہ میں اپنے اوپر موجود قرض، کمیٹی کے پیسے اور چند ماہ کا خرچ اٹھا سکوں، اس سے زیادہ اگر کچھ بھی ہوتا تو میر ے لئے بہت مسائل کا باعث ہوسکتا تھا۔ اُدھر حور کی طبیعت دن بدن خراب ہوتی چلی جارہی تھی، میں اس جانب سے بہت فکر مند تھا۔ میں وطن واپس لوٹنے کی تیاری کرنے لگا، حالات کچھ اس نہج پر تھے کہ میں کچھ اور سوچنے سمجھنے کے قابل نہیں رہا تھا۔ جتنا جلدی جو کچھ ہو سکتا تھا میں نے کیا، میرے واپس لوٹنے تک حور کومہ میں جاچکی تھی۔ (جاری ہے)
منگل، 1 ستمبر، 2015
September 01, 2015 at 10:20PM
"حور"۔۔۔ قسط: 24 ۔۔۔ تحریر: اویس سمیر۔۔۔ (گزشتہ سے پیوستہ) "آر یو آل رائیٹ سر؟" کسی نے میرا کندھا پکڑ کر جھنجوڑا، "سر کیا آپ ٹھیک ہیں؟"، کسی مرد کی آواز میری سماعت سے ٹکرائی مسافروں کی باتیں، بھنبھناہٹ، مائیک پر ایئر ہوسٹرس کا سیٹ بیلٹ باندھنے کا اعلان، جہاز کے پہیوں کی زمین پر لگنے کی گڑگڑاہٹ اور دھمک، سب کچھ معمول پر آچکا تھا "تو کیا یہ سب ایک خواب تھا۔۔؟"، میں نے سوچا (اب آگےپڑھئے) "سر کیا میں آپ کی مدد کرسکتی ہوں؟" ، اب شاید جہاز کی ایئر ہوسٹس بھی اس جانب متوجہ ہوچکی تھی "نہیں، میں ٹھیک ہوں!"، میں نے جواب دیا جہاز لینڈ کرچکا تھا، مسافر اپنی اپنی سیٹوں سے اُٹھ چکے تھے اور باہر کی جانب جارہے تھے، میں نے کچھ دیر رَش چَھٹنے کا انتظار کیا اور پھر اپنا سامان سمیٹ کر باہر کی جانب نکلنے لگا ایک عجیب سی سنسناہٹ میرے سارے بدن میں دوڑ گئی۔ ایک عجیب سا ڈر کہ نہ جانے کیا ہو، نہ جانے کب تک یہاں رہنا پڑے، گھر سے اور اپنوں سے دور کیا ماحول ملتا ہے، بہت سی سوچیں تھیں مگر اللہ کا نام لے کر قدم رکھا، گھر والوں کی دعائیں تھیں اور سب سے بڑھ کر حور کے آخری الفاظ میرے لئے کسی آبِ حیات سے کم نہ تھے۔ یوں میں نے اپنے نئے دور کا آغاز کیا، حور سے رابطے میں تھا، اپنے ملک میں آفس جاتا تو میرا وہاں رکنا محال ہوتا، یہاں تو نہ جانے کب تک میں گھر سے دور رہتا، مجھے بالکل سمجھ نہیں آرہا تھا کہ کیا کروں ۔۔۔ پہلے دن آفس گیا، اچھا ماحول تھا، اچھے لوگ اور کام بھی نہایت آسان اور کم تھا، میں آدھے دن میں ہی اپنا سارا کام نمٹا کر فارغ ہوجاتا، پھر وقت پورا ہوتے ہی گھر واپسی، اب گھر پہنچ کر وقت گزارنا ایک الگ مسئلہ تھا، پہلے دوسرے دن تو تھوڑا بہت گھوم پھر لیا تو دل بہل گیا مگر اس کے بعد کیا کرتا، پھر جیسے جیسے رات ہوتی گئی تو ویسے ویسے میرے ذہن و دماغ میں پرانی یادیں میں تازہ ہوتی گئیں، پھر اس میں شدت پیدا ہوتی گئی۔ میں نے طے کیا ہوا تھا کہ حور سے بات ہوگی تو کسی قسم کی دکھ دینے والی بات نہ کروں گا مگر کال آئی تو جیسے سارے ضبط ٹوٹ گئے، "حور ۔۔۔ ۔ ۔ ۔ "، میں نے مدھم آواز میں کہا میری آواز ہلکی سی بھرائی مگر میں نے خود پر قابو رکھا، حور سن اور سمجھ چکی تھی وہ ضبط نہ کرسکی اور رونے لگی، میں اس کو چُپ کرانے لگا مگر پھر میری آواز بھی لرز گئی، ضبط کرتا مگر کتنا، اتنے دن گزارنے تھے، ایسا تو کبھی سوچا بھی نہ تھا جیسا ہوگیا تھا وہ روتی رہی، میں سسکتا رہا، پھر بہت دیر میں نے اس کو نہیں روکا، رونے دیا، اگر بند کمزور ہو تو طوفان کے آگے نہیں باندھا کرتے! ہماری روز بات ہوتی مگر روز ہی ہماری کیفیت وہی ہوتی، بس آنسو تھے، آہیں تھیں، اور بس۔۔۔! کئی ہفتے گزر گئ ےتھے مگر یہ ماحول مجھے راس نہیں آیا، شاید میں مشین بن کر کام کرنے کے لئے نہیں بنا تھا، میں حساس تھا، مجھے کسی مادی اشیاء سے زیادہ محبت، جذبات و احساسات کی فکر تھی۔ وہ کہتے ہیں نا کہ بعض لوگ اس قدر غریب ہوتے ہیں کہ سوائے پیسے کہ ان کے پاس کچھ نہیں ہوتا، اور بعض اس قدر امیر کہ محبت سے سہارے ساری زندگی گزار دیتے ہیں، شاید میں دوسری قسم والوں میں سے تھا۔ گن گن کر دن گزار رہا تھا، دن تو جیسے تیسے گزر جاتا مگر راتیں حور کا تصور کرتے ہی گزرتیں، نوبت یہاں تک پہنچ گئی کہ آفس والوں نے بھی اس بات کو نوٹ کر لیا کہ میں جسمانی طور پر تو یہاں موجود ہوتا ہوں مگر میرا ذہن کہیں اور ہی ہوتا ہے، یوں پورا ایک مہینہ گزر گیا، ایک ماہ ۔ ۔ ۔ ہاں ۔ ۔ پورا ایک ماہ گزر گیا تھا،کہاں آٹھ گھٹے کہ میں اس کے بغیر نہیں رہ سکتا تھا اور کہاں یہ نوبت تھی کہ ایک ماہ گزار چکا تھا، آٹھ گھنٹوں اور ایک ماہ کا موازنہ کرو، میرا کھانا میرا پینا میرا اوڑھنا بچھونا میرا ہر انداز و طور بدل چکا تھا۔۔ -------- ادھر حور کا بھی الگ ہی حال تھا، وہ اپنے منہ سے تو صرف یہی بیان کرتی کہ وہ "ٹھیک" ہے، مگر اس کی اصل حالت کا علم مجھے اماں اور گھر کے دوسرے افراد سے ہوتا، اب نہ کسی سے زیادہ بات کرتی تھی نہ ہی کوئی مشغلہ، اس کی صحت دن بدن گر رہی تھی، وہ بیمار رہنے لگی تھی، اس کی کھلکھلاہٹ تو جیسے کسی اور ہی دنیا جا بسی تھی، اماں نے کچھ دن اس کو میکے بھیجا کہ شاید دل بہل جائے مگر جلد ہی وہ واپس چلی آئی، اماں کے کہنے پر بس اتنا کہا، "اس گھر سے ساحل کی نسبت ہے"، اس کے دل میں گویا ایک طوفان تھا جو پھٹ پڑنے کو تیار تھا۔ ایک دن میں آفس میں تھا کہ میرے پاس فون آیا، کال ریسیو کی تو دوسری جانب بھائی جان تھے، میرے بار بار پوچھنے پر صرف اتنا بتایا، "آج صبح کام کرتی کرتی گِر گئی تھی، حور کی طبیعت بہت خراب ہے ساحل، ہم ہسپتال میں ہیں" (جاری ہے)
پیر، 31 اگست، 2015
August 31, 2015 at 08:24PM
"حور"۔۔۔ قسط: 23 ۔۔۔ تحریر: اویس سمیر۔۔۔ (گزشتہ سے پیوستہ) میں نے اندر کی جانب قدم بڑھائے، گیٹ کے نزدیک پہنچ کر میں نے پیچھے دیکھا، سب کو ہاتھ ہلایا اور اندر آگیا۔ بورڈنگ پاس اور سارے معاملات کس طرح ہوئے مجھے یاد نہیں، میں جہاز میں بیٹھ چکا تھا، ایئر ہوسٹس نے مائیک پر اعلان کیا، اپنے موبائل فون بند کرلیں، ٹھیک اس ہی وقت میرا موبائل بجنا شروع ہوا، میں نے موبائل نکالا، اسکرین پر موجود نام دیکھ کر میرا دل بیٹھنے لگا۔۔۔ (اب آگےپڑھئے) "حور"۔۔۔ موبائل کی اسکرین پر ابھرنے والا نام کوئی اور نہیں حور کا تھا، وہ کیا کہنا چاہتی تھی، کیا ہوگیا، کہیں گھر جاتے کچھ نہ ہوگیا ہو، کہیں ایسا نہ ہو، کہیں ویسا نہ ہو، میرے ذہن میں بہت سے خدشات پلک جھپکتے کی تیزی میں آئے اور گزر گئے، "نہیں"۔۔ میں کچھ بھی برا نہیں سوچنا چاہتا تھا میں نے بےتابی سے موبائل کے ہرے بٹن کو دبایا، اور کان پر لگا لیا، "السلام علیکم؟" ۔۔۔۔ "حور۔۔۔؟؟"، میں نے کچھ سیکنڈ رُک کر کہا، دوسری جانب طویل خاموشی تھی، میرا دِل بیٹھا جارہا تھا، ہاں مگر اُس خاموشی میں بھی میں اس کی سانسوں کی آواز سُن سکتا تھا پھر اس کی آواز اُبھری، "ساحل، میں مطمئن ہوں، میں نے صرف اس لئے کال کی ہے تاکہ آپ کا سفر برا نہ گزرے، ساحل، میں نہیں چاہتی کہ جب آپ مجھ سے دور ہوں تو ہمارے درمیان کوئی ناراضگی، خوف، یا کوئی اور جذبہ ہو، ہمارے رشتے کی بنیاد محبت پر تھی، اور اس ہی محبت کو آگے بڑھنا چاہئے، مجھے دعاؤں میں یاد رکھیں ساحل، اللہ آپ کو خیریت سے منزل مقصود پر پہنچائے" اس نے اپنی بات مکمل کی، میرے سارے خدشات، خوف، وغیرہ سب کچھ ایک پل میں کافور ہوچکا تھا، میں یک دم سکون میں آچکا تھا، جیسے چاروں جانب ٹھنڈی ٹھنڈی ہوائیں چل رہی ہوں، یاخدا ۔ ۔ ۔ وہ دس دن کی ٹینشن اور تھکن، حور کے ان دو جملوں نے سب کچھ بھُلا دیا تھا، کتنا سکون مل گیا تھا، "اتنی دیر کیوں کی حور؟َ"، دل تو کہہ رہا تھا کہ اس سے شکوہ کردوں لیکن میں اس پَل کو اپنے آنے والے دِنوں کیلئے بچا کر رکھنا چاہتا تھا۔ "حور ۔۔۔۔ میری ساری دعائیں تمہارے لئے، مجھے تم سے کوئی شکوہ نہیں، تم نے جو کیا ایک اچھی بیوی ہونے کے ناطے اپنا فرض ادا کیا، اپنی خواہشات کو میری خواہشات پر ترجیح دی، حور ۔۔ میں دعا کرتا ہوں کہ ہم جلد مل جائیں۔ آمین"، میں نے بات مکمل کی، حور کی خوشی بھری کھلکھلاہٹ موبائل کے اسپیکر پر گونجی ایئر ہوسٹس نے مجھے فون بند کرنے کا اشارہ کیا، میں نے حور سے اجازت لی اور فون بند کردیا، جہاز کراچی کی فضاؤں میں بلند ہونے لگا، مکانات، عمارتیں، پارک، سب نیچے، بہت نیچے جانے لگے اور ذرات کی مانند ہوگئے، جہاز کی آواز مدھم ہونے لگی، جہاز فضا میں بلند ہوچکا تھا، میں نے سیٹ کی پچھلی جانب سر ٹِکا دیا، صبح کا اُٹھا ہوا تھا کچھ ہی دیر میں میں غنودگی آنے لگی۔ ------- وہ آواز تو میں ہزاروں آوازوں میں پہچان سکتا تھا، حور کے ہنسنے کی آواز کہیں قریب ہی سے مجھے سُنائی دی، میں نے چونک کر اپنے اطراف میں دیکھا، وہ مجھے سامنے سے آتی ہوئی نظر آئی، مجھے اپنی آنکھوں پر یقین نہیں آیا، "حور۔۔۔۔۔۔۔ تم؟"، میں نے حیرت سے پوچھا۔ "تم یہاں کیسے آئیں؟"، میں نے سوال کردیا وہی کھلکھلاہٹ جو ساری آوازیں مدھم کردیتی تھی، مسافروں کی باتیں، ایئر ہوسٹس کا مائیک پر اعلان کرنا، جہاز کا شور، سب کچھ پس منظر میں گُم ہوچکا تھا، سامنے تھا تو بس حور کا منظر اور اُس کی کانوں میں رس گھولتی آواز، "ساحل! آپ نے کیا سوچا تھا، میں اور آپ بھلا کبھی الگ ہوسکتے ہیں؟" اس نے ایک ادا سے کہا "مگر تم یہاں آئیں کیسے؟" میں ابھی تک حیرت میں تھا "آپ تو جانتے ہو ساحل، میں جب بھی اللہ سے پورے دِل سے جو بھی مانگتی ہوں اللہ کبھی بھی مجھے مایوس نہیں لوٹاتے، بس میں نے اپنے اللہ سے آپ کا ساتھ مانگ لیا، اور دیکھیں ہم ایک ساتھ ہیں اب" ، وہ چہکی "ہاں حور۔۔ اب ہم ساتھ رہیں گے ۔۔۔ کبھی الگ نہ ہونگے، تم نہیں جانتی تم نے یہ سب میری خاطر کرکے کتنا اچھا کیا ہے، بس اب کہیں مت جانا۔" ۔۔ ۔میں نے اس کا ہاتھ تھام کر کہا، مجھے لگا جیسے میں جیسے سکون کے سمندر میں غوطے لگا رہا ہوں، کئی لمحے یوں ہی گزر گئے، میں نہیں چاہتا تھا کہ یہ وقت گزرے "مجھے جانا ہوگا ساحل۔۔ " اس نے اچانک ہاتھ چھڑا تے ہوئے کہا، "مگر کہاں؟ ابھی تو تم نے خود کہا تھا کہ تم میرے پاس ہمیشہ کیلئے آگئی ہو؟" میں نے اس کے ہاتھ کو مضبوطی سے تھامتے ہوئے کہا "نہیں ساحل۔۔ بس مجھے چلنا ہے، میں اور دیر نہیں رُک سکتی"، اس نے ایک جھٹکے سے اپنا ہاتھ چھڑا لیا، میں حیرت سے اُسے دیکھ رہا تھا۔ "مگر حور جہاز ٹیک آف کرچکا ہے۔۔ حور ۔۔ "، میری آواز تیز ہوتی گئی، "حور ۔۔۔" میں چینخا ------- "آر یو آل رائیٹ سر؟" کسی نے میرا کندھا پکڑ کر جھنجوڑا، "سر کیا آپ ٹھیک ہیں؟"، کسی مرد کی آواز میری سماعت سے ٹکرائی مسافروں کی باتیں، بھنبھناہٹ، مائیک پر ایئر ہوسٹرس کا سیٹ بیلٹ باندھنے کا اعلان، جہاز کے پہیوں کی زمین پر لگنے کی گڑگڑاہٹ اور دھمک، سب کچھ معمول پر آچکا تھا "تو کیا یہ سب ایک خواب تھا۔۔؟"، میں نے سوچا (جاری ہے)
اتوار، 30 اگست، 2015
August 30, 2015 at 10:01PM
"حور"۔۔۔ قسط: 22 ۔۔۔ تحریر: اویس سمیر۔۔۔ (گزشتہ سے پیوستہ) اگلا سارا دن اس ہی دفتر کے چکر میں گزرا، دن کے اختتام پر ویزے کے کاغذات میرے پاس آگئے تھے۔ میں گھر میں داخل ہوا، عجیب سی کیفیت تھی، اتنا بڑا کام ہو گیا تھا مگر مجھے خوشی نام کو نہ تھی، عجیب سا بجھا بجھا سا ماحول، کچھ تو کمی تھی، شاید بہت بڑی کمی ہونے جارہی تھی۔ میں اپنے روم میں داخل ہوا، ٹکٹ ایک جانب ٹیبل پر رکھا، حور نے سوالیہ انداز میں میری جانب دیکھا میں نے اثبات میں سر ہلا دیا یعنی کام ہوگیا! ٹھیک تین دن بعد انتیس تاریخ کو میری فلائیٹ تھی۔ (اب آگےپڑھئے) اگلا ہی دن تھا، میں گھر سے باہر نکل رہا تھا کہ میں نے حور کو دیکھا وہ بھی جلدی جلدی تیار ہو کر میرے ساتھ جانے کیلئے تیار ہوگئی تھی، شاید وہ بہت سا وقت میرے ساتھ بیتانا چاہتی تھی۔ میں کچھ نئے کپڑے خریدنا چاہ رہا تھا تاکہ نئی نوکری میں پہلا امپریشن بہترین دے سکوں۔ کچھ ہی دیر میں میری بائیک صدر بازار کی جانب روانہ ہو گئی، ایم اے جناح روڈ سے ہوتے ہوئے ہم زینب مارکیٹ کی جانب مُڑ گئے، کچھ دیر مختلف دوکانوں کا دورہ کیا پھر ایک دوکان سے شرٹیں اور کچھ پہنٹیں خریدیں، آدھے گھنٹے میں میری شاپنگ ختم ہوچکی تھی، کھانے کا بھی وقت ہورہا تھا ، اب ہماری بائیک کا سفر برنس روڈ کی جانب تھا، ایک ہوٹل کے فیملی ہال میں بیٹھے کچھ ہی دیر میں بیرا مینیو لے آیا۔ حور کے چہرے پر ہلکی سی مسکراہٹ کھیل رہی تھی، شاید میرے ساتھ گزارے گئے ان پلوں کو قید کر رہی ہو، میں بھی جی بھر کر اس کو دیکھ رہا تھا، نہ جانے اگلے کچھ دنوں میں زندگی کیا رُخ اختیار کرتی ہے۔ میں نے اُس کو گہری سوچ میں دیکھا تو پوچھا، "کس بارے میں سوچ رہی ہو حور؟" کچھ دیر تو وہ میری جانب دیکھتی رہی پھر اس کے چہرے سے مسکراہٹ غائب ہوگئی، کچھ پل یونہی گزرے، پھر اس کے لب ہلے پھر یوں ہوا کہ ساتھ تیرا چھوڑنا پڑا ثابت ہوا کہ لازم و ملزوم کچھ نہیں حور نے میری آنکھوں میں دیکھتے ہوئے کرب سے کہا، اس کی نگاہوں کی شدت سے گھبرا کر میں نے اس کے چہرے سے نگاہیں ہٹا لیں۔ یوں تو یہ سب کچھ چند لمحوں میں ہی ہوچکا تھا، مگر اس دوران بھی حور نے محسوس کرلیا تھا کہ میں اس کے جذبات کی آگ سے گھبرا گیا ہوں، اور وہ ہرگز ایسا نہیں چاہتی تھی، محبت کے سوا کوئی اور جذبہ قابل قبول صرف کچھ لمحوں کا ہی تھا، اس کے بعد محبت اگر اس کی جگہ نہ لے گی تو کیا ہوگا اس سے آگے شاید ہم سوچ نہیں سکتے تھے، بالکل ویسے ہی جیسے کبھی رات کی تاریکی میں گھر کی جانب لوٹتے ہوئے جلد بازی میں کسی شارٹ کٹ کی جانب جاتے جاتے رُک جانا، کہیں یہ راستہ کہیں اور نہ نکل جائے، یا پھر جیسے اپنی کوئی بہت پیاری سی چیز سب کی نگاہوں سے بچا کر الماری کے ایک ننھے سے خانے میں چھُپا کر رکھنا اور چپکے چپکے دیکھنا، مبادا کوئی اُچک نہ لے، ہماری محبت بھی ایسی ہی تھی، اس کو کھونے کے ڈر سے ہم وہ تمام باتیں، یادیں، سوچیں اور موضوعات سے بچتے تھے جو محبت سے ہٹ کر ہوتے۔ بالآخر وہ دن آ ہی گیا، صبح دس بجے میری فلائٹ تھی، فجر میں میری آنکھ کھلی، مجھے اُٹھانے والا کوئی اور نہیں حور ہی تھی۔ میرا سامان، ایک سوٹ کیس جس میں میرے کپڑے، استعمال کی اشیاء، دستاویزات، میری تعلیمی ریکارڈ کے سرٹیفیکیٹ، سب کچھ جو میرے سفر اور بیرونِ ملک رہائش کے لئے ضروری تھا، حور نے سب کچھ سلیقے اور نفاست سے بنا کر تھا لیکن میں اس کو الگ ہی نگاہ سے دیکھ رہا تھا، میں اس سامان کی ایک ایک شئے میں محبت محسوس کر رہا تھا۔ ہم گھر سے نکلے، کوئی گلہ نہ شکوہ، نہ عداوت، نہ رنجش ۔ ۔ ۔ سپاٹ چہرہ، ہاں مگر حور نے سارا وقت میرا ہاتھ سختی سے بھینچے رکھا، شاید ڈر کا جذبہ محبت پر حاوی ہو رہا تھا، میں نہیں چاہتا تھا کہ ایسا ہو، کیوں کہ جب محبت کے اندر کھو دینے کے خوف کی دراڑ پڑ جائے نا، تو پھر کچھ باقی نہیں رہتا، رہ جاتا ہے تو صرف خوف ۔ ۔ ۔ ایئر پورٹ پہنچے، میں نے گھر والوں سے اجازت لی، حور کو دیکھا، نہ جانے کیوں، نہ میری آنکھ میں آنسو تھا، نہ اس کی آنکھ میں، چاہتا تھا یہ ضبط ٹوٹے، کچھ تو کہیں، ارے کوئی شکوہ، کوئی گلہ، کیا میں اتنا دور ہوچکا تھا کہ مجھ سے کوئی گلہ نہیں کیا جاسکتا۔ "حور کیوں کر رہی ہو ایسا؟"، میں نے اس کی جانب دیکھ کر سوچا۔ اس نے اپنی نظریں جھکا لیں، شاید کہہ رہی تھی، "اب ایسا ہی ہوگا ساحل"، مگر زبان سے کچھ بھی نہ کہا "السلامُ علیکم!"، میں نے اس کی جانب دیکھ کر کہا "وعلیکم السلام ساحل!"، اس کے لب پہلی بار ہِلے میں نے اندر کی جانب قدم بڑھائے، گیٹ کے نزدیک پہنچ کر میں نے پیچھے دیکھا، سب کو ہاتھ ہلایا اور اندر آگیا۔ بورڈنگ پاس اور سارے معاملات کس طرح ہوئے مجھے یاد نہیں، میں جہاز میں بیٹھ چکا تھا، ایئر ہوسٹس نے مائیک پر اعلان کیا، اپنے موبائل فون بند کرلیں، ٹھیک اس ہی وقت میرا موبائل بجنا شروع ہوا، میں نے موبائل نکالا، اسکرین پر موجود نام دیکھ کر میرا دل بیٹھنے لگا۔۔۔ (جاری ہے)
ہفتہ، 29 اگست، 2015
August 29, 2015 at 10:31PM
"حور"۔۔۔ قسط: 21 ۔۔۔ تحریر: اویس سمیر۔۔۔ (گزشتہ سے پیوستہ) "حور۔۔۔"، میں نے کہا، "محبت فاصلوں اور قربت کی محتاج نہیں ہوتی، محبت تو صرف محبت ہوتی ہے، اور جب بات حور اور ساحل کی محبت کی ہو تو بات ہی کچھ اور ہوتی ہے۔۔۔"، میں نے کہا کافی دیر خاموشی چھائی رہی، حور کا سر میرے کاندھے پر جما رہا، شاید اس کو ہمیشہ کی طرح ایک مضبوط سہارے کی ضرورت محسوس ہورہی تھی۔ "اپنی آنکھیں بند کرو ساحل۔۔"، حور نے کہا میں نے اس کی جانب دیکھا، اور دیکھتا رہا۔ میری حور میرے سامنے ہو اور میں آنکھیں بند کروں کیسے ممکن ہے۔۔ میں چُپ رہا۔ (اب آگےپڑھئے) "ساحل آنکھیں بند کرو، تصور کرو، ہم ایسی دنیا میں موجود ہیں، جہاں کوئی مادی ضرورت نہیں، جہاں ہمیں اس دنیا کی مانند پیسوں کی ضرورت نہیں، جہاں پریشانی نہیں، بیماری نہیں، جہاں جدائی نہیں، جو کہ ہمیشگی کی زندگی ہو، تصور کرو ساحل۔۔۔۔"، میں یہ سب کہتی ہوئی حور کو وارفتگی سے دیکھے جارہا تھا۔ میں نے اپنی آنکھیں بند کیں، تصور کیا، کیا ہی بھلی زندگی تھی، نہ کوئی غَم نہ کوئی دکھ، نہ کوئی مادی ضرورت، نہ جدائی، صرف محبت ہی محبت، یہ تو بالکل جنت تھی"، حور مجھے خیال ہی خیال میں جنت کا بتا رہی تھی، لیکن جنت تو ہمارے خیالوں سے بھی زیادہ اچھی ہے، ان نعمتوں کے بارے میں تو ہم کبھی ٹھیک اندازہ بھی نہیں لگا سکتے۔ "ساحل۔۔۔، اس ہمیشگی کی دنیا میں مجھے آپ کا ساتھ چاہئے۔۔۔ جب میں کہتی تھی ناں کہ مجھے ایسی محبت چاہئے کہ جس میں جدائی کا تصور بھی نہ ہو، تو میرے نزدیک یہی ہمیشہ کی دنیا تھی، ساحل، اس دنیا میں تو آزمائشیں ہیں، دکھ ہیں پریشانیاں ہیں جدائیاں ہیں، لیکن بعد کی دنیا میں یہ سب نہیں ہوگا، اور مجھے آپ کا ساتھ آنے والی دنیا میں بھی چاہئے اور یقیناً اس کیلئے میں اِس دنیا کی ہر آزمائش کو خوش دلی سے سہوں گی"، حور نے اپنی بات ایک عزم سے مکمل کی میں نے نوٹ کیا۔۔۔۔ اس نے میرا ہاتھ بہت سختی سے بھینچا ہوا تھا، مبادا میں اس کو چھوڑ کر نہ چلا جاؤں۔ میں اُٹھ کھڑا ہوا، وہ بھی میرے کاندھے سے لگی کھڑی ہوگئی، بہت دیر تک ہم یوں ہی کھڑے رہے، شاید سورج ڈوبنے کا نظارہ ہی اس قدر مسحُور کن ہوتا ہے، لیکن یہی تو ایک نئے دن کے طلوع ہونے کی نوید ہوتا ہے، بےشک ہر رات کے بعد دن ہے اور ہر اندھیرے کے بعد اجالا ہے۔ آنے والے دنوں میں حور نے میرے لئے جو کیا اس کے بعد میرے دل میں حور کی قدر اور بھی زیادہ بڑھ گئی، ایک دن میں گھر لوٹا تو کیا دیکھتا ہوں کہ حور مصلّے پر بیٹھی ہے اور اس کی آنکھوں سے آنسو جاری ہیں، وہ رو رو کر اللہ سے دعائیں کر رہی تھی۔ میں چُپ چاپ بستر پر لیٹ گیا، کافی دیر بعد وہ میرے قریب آئی، اور میرے پہلو میں بیٹھ گئی، پھر کہنے لگی، "ساحل یہ بہت مشکل ہے"، میں نے اس کی جانب سوالیہ نگاہوں سے دیکھا، آنسو کے ننھے قطرے اس کی پلکوں پر اب بھی ستاروں کی مانند چمک رہے تھے، "ساحل، میں اللہ سے آپ کی کامیابی کی دعا مانگتی ہوں، مگر میرا دل نہ جانے کیوں آپ سے جدا نہ ہونے کی دعا کرنے میں لگ جاتا ہے، میں چاہتی ہوں کہ میرا وقت آپ کی جاب کی مشکلات دور کرنے کی دعا میں صرف کروں، مگر جب ہاتھ اُٹھتے ہیں تو دل سے ایک ہی دعا نکلتی ہے، اللہ ساحل کو مجھ سے الگ نہ کیجئے، پھر میں رو پڑتی ہوں کہ نہ جانے میں کیوں اپنی محبت میں اس قدر خود غرض ہوگئی ہوں کہ آپ کی خواہشات کو اپنی دعاؤں کا حصہ بنانے کی بجائے اپنی خواہشات کو ہی ترجیح دے جاتی ہوں"، اس کی آنکھوں سے پریشانی جھلک رہی تھی۔ میں نے اس کو دلاسا دیا اور اس کو یقین دلایا کہ مجھے اس پر بھروسہ ہے ان شاءاللہ اللہ اس کی دعائیں ضرور قبول کرے گا جو ہم دونوں کے حق میں ہونگی، حور یہ سن کر مطمئن سی ہوگئی۔ --------- اتوار کا دن آچکا تھا، سارا عالم ہمیشہ کی طرح سو رہا تھا، میں عادت سے مجبور اُٹھا ہوا تھا اور حور میرا ساتھ دے رہی تھی۔ عاشر بھائی نے کمیٹی کی میٹنگ چار بجے کے قریب بلائی ہوئی تھی، مجھے کافی امید تھی کہ کمیٹی میرے حوالے کردی جائے، مقررہ وقت پر میں ان کے پاس پہنچا، کمیٹی کے باقی افراد بھی ایک ایک کرے آتے گئے، احمر بھی موجود تھا، عاشر بھائی نے اپنی بات شروع ہی کی تھی کہ میں نے اپنا ہاتھ کھڑا کیا، عاشر بھائی نے وجہ پوچھی تو میں نے شروع سے لے کر اب تک کی نوکری کے حوالے سے جدوجہر گوش گزار کردی، باقی کمیٹی کے ارکان بھی یہ سب سُن رہے تھے، ٹکٹ کے حوالے سے بات ہوئی میرے پاس صرف چند ہی دن باقی تھے، اس کے بعد نوکری کا یہ چانس میرے ہاتھ سے نکل جاتا اگر میں مقررہ وقت پر جاب والے دن کمپنی نہ پہنچتا۔ عاشر بھائی اور باقی افراد نے یہ سب بغور سنا، باقی لوگوں کے مسائل میں کسی کو اس ماہ نئی بائیک لینی تھی، تو ایک صاحب کو اس ماہ اپنے بیوی بچوں کے ساتھ شمالی علاقہ جات گھومنے کے لئے جانا تھا، عاشر بھائی نے سب کی رائے اور ضروریات سُن کر کہا کہ اس دفعہ کمیٹی ساحل کو دی جارہی ہے کیوں کہ مجھے لگتا ہے کہ اس کی ضروریات ہماری مشترکہ ضروریات سے زیادہ اہم ہیں۔ انہوں نے ایک دفعہ سب سے پوچھا کہ کسی کو اس پر اعتراض تو نہیں، خوش قسمتی سے کسی نے بھی کچھ نہ کہا۔ میرا ایک بہت اہم مسئلہ حل ہو چکا تھا ، یوں سمجھیں کہ میرا آدھے سے زیادہ کام بن چکا تھا۔ اتوار کو سیاحت و سفر سے متعلق تمام ادارے بند ہی ہوتے تھے۔ اگلی صبح میں اماں کی بہت ساری دعاؤں میں اور حور کی بہت ساری محبتوں کے حصار میں گھر سے نکلا ایئر لائن کے آفس پہنچ کر میں نے تمام معاملات نمٹائے اور کچھ ہی دیر میں میرے پاس دبئی کا ٹکٹ موجود تھا، میری فلائٹ انتیس کو تھی تاکہ مجھے جس دن جوائن کرنا ہے اس سے ایک دن قبل وہاں پہنچ کر اپنی تیاری مکمل کر سکوں۔ اگلا سارا دن اس ہی دفتر کے چکر میں گزرا، دن کے اختتام پر ویزے کے کاغذات میرے پاس آگئے تھے۔ میں گھر میں داخل ہوا، عجیب سی کیفیت تھی، اتنا بڑا کام ہو گیا تھا مگر مجھے خوشی نام کو نہ تھی، عجیب سا بجھا بجھا سا ماحول، کچھ تو کمی تھی، شاید بہت بڑی کمی ہونے جارہی تھی۔ میں اپنے روم میں داخل ہوا، ٹکٹ ایک جانب ٹیبل پر رکھا، حور نے سوالیہ انداز میں میری جانب دیکھا میں نے اثبات میں سر ہلا دیا یعنی کام ہوگیا ٹھیک تین دن بعد انتیس تاریخ کو میری فلائیٹ تھی۔ (جاری ہے)
سبسکرائب کریں در:
اشاعتیں (Atom)