بدھ، 19 اگست، 2015

August 19, 2015 at 10:58PM

"حور"۔۔۔ قسط: 12 ۔۔۔ تحریر: اویس سمیر۔۔۔ (گزشتہ سے پیوستہ) گھر آ کر بھی میں آرام ہی کرتا رہا، رات کھانا لگانے اور گھر کی دوسری ذمہ داریوں سے فارغ ہو کر حُور میرے پاس آگئی۔ کافی دیر ہم یوں ہی چپ چاپ لیٹے رہے، کئی پہر کچھ کہے کچھ سُنے گزر گئے، شاید اس وقت گزشتہ واقعات اور آنے والے کل کے حوالے سے بہت سے خیالات ہمارے ذہنوں میں اُبھر رہے تھے، دنیا بھی کیا عجیب شے ہے، اس سے دور ہو جاؤ تو یہ تمہارے پیچھے بھاگتی ہے، اس کے پیچھے بھاگو تو کبھی ہاتھ نہیں آتی۔ مگر دنیا کے پیچھے بھاگتے بھاگتے ہم اکثر اپنے نہایت قریبی رشتوں سے دوری پیدا کرلیتے ہیں، یہ جانتے ہوئے بھی کہ ان کے نزدیک ہر آسائش سے زیادہ ضروری ہماری ذات ہی ہے، مجھے اس کا بخوبی اندازہ تھا اس لئے کوئی بھی فیصلہ لینے سے پہلے میں ہر پہلو پر غور کرنا چاہتا تھا۔ کافی دیر کی خاموشی کے بعد حور نے سکوت توڑا، "ساحل! میں نے بھی ایک فیصلہ کرلیا ہے۔۔۔" (اب آگےپڑھئے) کچھ دیر تو میں سوچتا رہا، کہیں اُس کے اگلے الفاظ کچھ ایسا نہ کہہ دیں جو میں سہہ نہ سکوں، بہت سارے خدشات نہ جانے کہاں کہاں سے آ کر میرے ذہن پر میں گھر کرنے لگے۔ کچھ دیر بعد میں نے اس کو مخاطب کیا، "حور! بولو ۔۔۔ میں سُن رہا ہوں" مگر بجائے کچھ کہنے کے وہ رونے لگی، اس کی سِسکیاں بڑھ کر بھَل بھَل کرتے آنسوؤں کا روپ دھار گئیں۔ ان ہی سِسکیوں میں اس نے ٹھہر ٹھہر کر کہا، "ساحل، میں نے تو آپ کو خود سے جدا نہ ہونے کی تلقین کی تھی، تو آپ کو کس نے حق دیا کہ ہمیشہ کیلئے مجھ سے جُدا ہونے کی کوشش کرو۔۔۔۔ میں بہت ڈر گئی تھی ساحل۔۔ اور وہ ڈاکٹر ۔۔۔۔ اس نے کہا تھا کہ بس دعا ہی ان کو بچا سکتی ہے۔۔۔۔ بولو۔۔ کیوں کیا ایسا۔۔۔ اور وعدہ کرو ۔۔۔ ۔اب ایسا نہیں کرو گے" میں نے اس کو خود سے قریب کیا اور سمجھاتے ہوئے کہا، "ایسا نہیں کہتے حور، تم تو اتنی سمجھدار ہو ۔۔۔ میں نے کچھ نہیں کیا، بےشک ہمارے اختیار میں تو زندگی موت نہیں۔۔۔ نہ ہی ہمیشہ جدائی اور ساتھ کا فیصلہ ہمارے اختیار میں ہے۔۔۔ یہ تو اللہ کا کرم تھا کہ اس نے تمہاری اور گھر والوں کی دعائیں سُن لیں! حور! دیکھو۔۔۔ تم جانتی ہو نا۔۔ زندگی میں پوری چاہت کیساتھ جو بھی مانگو وہ بالآخر مل ہی جاتا ہے۔ بس شاید یہی وجہ ہے کہ آج تمہارا ساحل تمہارے پاس ہے" حور نے آنسو پوچھتے ہوئے میری آنکھوں میں دیکھتے ہوئے کہا، "ساحل، میں نے یہ فیصلہ کیا ہے کہ مجھے آپ کا ہر فیصلہ منظور ہے، میں آپ سے جدا رہ لوں گی، لیکن اگر میری کسی ضِد کی وجہ سے آپ کی زندگی کو کچھ ہوا تو میں خود کو کبھی معاف نہیں کر پاؤنگی۔۔۔۔"، اس نے ٹوٹی پھوٹی سانسوں میں اپنی بات مکمل کی۔ نہ جانے کیوں بہت بات ایسا ہوتا ہے کہ زندگی ہمیں کوئی بات سمجھانے کیلئے کوئی نہ کوئی سبق دیتی ہے۔ ہم کیوں پہلے سبق نہیں سیکھتے۔ کیوں کچھ ہو جانے کے بعد ہی ہم یہ کہتے ہیں کہ اے کاش ایسا کر جاتے تو ویسا ہو جاتا، کیوں ہم پہلے ہی حالات کی نزاکت کو پہچان کر اس کے مطابق عمل نہیں کرتے، ایسے بہت سے "کیوں" میرے ذہن میں آ کر گزرتے گئے۔ شاید بہت بار بہت ساری باتیں دلیلوں، منطقوں اور فلسفوں سے بھی بالاتر ہوتی ہیں۔ حور نے بھلے مجھے اپنی جانب سے ہر فیصلے کی حمایت کا یقین دلایا تھا، مگر اس کے آنسو کچھ اور ہی کہانی سُنا رہے تھے۔ پھر نہ جانے کب ہم دونوں نیند کی وادیوں میں کھو گئے۔ میں نے کچھ ہی دن میں آفس جانا شروع کر دیا، روز مرہ کی زندگی میں جو فیصلہ کیا تھا وہ بھول سا گیا تھا، ایسا لگتا سا سب کچھ ٹھیک چل رہا ہے، مگر زندگی ہو اور مسائل نہ ہوں ایسا تو ہو نہیں سکتا۔ آفس میں کئی دفعہ معاملات کشیدہ ہوجاتے، مَیں نوکری کے معاملے میں میں سخت گیر تھا، کسی غلط بات کو برداشت کرنا میری فطرت اور لغت میں نہ تھا۔ اس لئے سینیئر ہو یا جونیئر اُن کی غلطیاں کھول کر اُن کے سامنے رکھ دیتا، یہی بات جاب میں تلخیوں کا باعث بن گئی۔ ہر روز کوئی نیا تنازعہ کھڑا ہوجاتا، اتفاق سے ہر تنازعہ میں ایک فریق میں ہوتا اور دوسرا وہ شخص ہوتا جو میری نظر میں پالیسیوں سے ہٹ کر کام کررہا ہو۔ لیکن نہ جانے کیوں اعلی افسران کو ان کے مخبروں نے کیا بتایا۔۔۔وہ سمجھنے لگے کہ مسائل پیدا کرنے والا میں ہو۔ یوں ایک طویل اور لمبے عرصے تک سرپھٹول چلنے کے بعد ایک دن میں گھر پہنچا تو حور نے میرا چہرہ دیکھ کر پہچان لیا۔۔۔۔مجھ سے نہایت پیار سے پوچھنے لگی کہ کیا ہوا۔۔۔ اپنی کھنکھتی ہوئی آواز میں کچھ نہ کچھ کہہ کر میرا موڈ ٹھیک کرنے کی ناکام کوشش کرنے لگی، میں نے سوچا حور سے چھُپانا بیکار ہے بتاؤں گا تو کوئی اچھا مشورہ ہی مل جائیگا، لہذا بالآخر میں نے اس کو بتا دیا کہ، "میری نوکری ختم ہوگئی ہے!" آگے کیا کرنا ہے، کیا ہونا ہے، سارے معاملات کیسے چلیں گے، ہم دونوں ہی اس بارے میں لاعلم تھے۔ (جاری ہے)

کوئی تبصرے نہیں:

ایک تبصرہ شائع کریں