منگل، 18 اگست، 2015
August 18, 2015 at 09:17PM
"حور"۔۔۔ قسط: 11 ۔۔۔ تحریر: اویس سمیر۔۔۔ (گزشتہ سے پیوستہ) حور مجھے مختلف قسم کے دلاسے دیتے دیتے بالآخر رو پڑی، میری پریشانی جو کچھ بھی تھی مگر میں حور کی آنکھوں میں آنسو نہیں دیکھ سکتا تھا، لہذا میں نے ایک فیصلہ لے لیا۔ اگلے ہی لمحے میں ایک فون نمبر ڈائل کررہا تھا۔ (اب آگے پڑہئے) چند گھنٹے بیل جاتی رہی، پھر بھائی نے کال اُٹھائی ۔۔ دوسری جانب سے آواز آئی، "ہیلو۔۔۔" ، میں خاموش رہا، فون کے اسپیکر پر دوبارہ آواز اُبھری۔۔ "ساحل۔۔۔؟؟؟" مجھ سے بولا نہیں جارہا تھا۔ میں چند لمحے مزید خاموش رہا۔۔ پھر میں نے کہا، "ہیلو بھائی جان!" ۔۔ "ہاں ساحل بولو۔۔ کیسی طبیعت ہے؟"، "الحمدللہ، بہتر ۔۔ "، "ڈسچارج ہوچکے؟" دوسری جانب سے بھائی نے پوچھا۔۔۔ میں نے کچھ لمحے توقف کیا، پھر دل مضبوط کرکے بات شروع کی، "جی بھائی اس ہی حوالے سے کال کی ہے، وہ دراصل۔۔۔ ڈسچارج کیلئے بل ۔۔۔ کلیئر کرنا ضروری ہے، اس وقت ۔۔۔ میرے پاس ۔۔۔ دس ہزار ۔۔۔ کم پڑ رہے ہیں" ،۔ میں نے اٹک اٹک کر بالآخر پوری بات کہہ دی۔ "ہمممممممم۔۔" دوسری جانب سے بھائی کی لمبی ہوں سنائی دی، اَب کچھ دیر خآموش رہنے کی باری اُن کی تھی۔ "ساحل ، ماہ کا آخر چل رہا ہے، اور تم میرے حالات سے بخوبی واقف ہو۔۔۔۔ خیر ۔۔۔ میرے پاس خوش قسمتی سے اس دفعہ کچھ بچت ہوگئی ہے، اللہ اس ہی طرح راستے نکالتا ہے، میں تمہیں رقم پہنچاتا ہوں" فون بند کرکے میں نے سکون کا سانس لیا، اللہ کا شکر ادا کیا کہ اس نے پہلی ہی کوشش میں بندوبست کردیا۔ حور میری جانب خَفا خَفا نظروں سے دیکھ رہی تھی، جب اُس نے بولنا شروع کیا تو اس کے ہر لفظ میں محبت بھری شکایت تھی، "ساحل! کیا میں آپ کی مدد نہیں کرسکتی؟ کیا میرا حق نہیں کہ میں آپ کے کام میں حصہ ڈال کر ثواب حاصل کرسکوں؟ کیا آپ نہیں چاہتے ہم جنت میں بھی ساتھ رہیں؟"، اس نے ایک ہی سانس میں ساری شکایتیں کردیں۔ میں نے بہت پیار سے حور کی ٹھوری کو اپنے ہاتھ سے تھاما اور کہا، " ایسا نہیں ہے حور، میں نے جب تم کو اپنایا تو اپنایا ہی ہمیشہ کیلئے تھا، یہ ساتھ نبھانے کا وعدہ نہ صرف اِس زندگی بلکہ آنے والی ہمیشگی کی زندگی کا بھی وعدہ تھا۔ اور ہاں جہاں تک نیکی اور ثواب کی بات ہے تو ان تمام دنوں میں میری بےلَوث خدمت کرکے میری رضا حاصل کرکے تم تو جنت کے حصول کی دوڑ میں مجھ سے بہت آگے نکل گئی ہو، جزاک اللہ۔" حور کی آنکھوں میں یک دم خوشی کی چمک سی آگئی، وہ کانچ کی گُڑیا تھی ہی اتنی معصوم، ذرا سی ٹھیس لگے تو ناراض ہو جانا، اور جھٹ سے دو میٹھے بول سُن کر سارے گِلے شِکوے بھُلا دینا۔ بھائی کا آفس پانچ بجے بند ہوتا تھا۔ یوں تو میں ڈسچارج کے لئے تیار ہوچکا تھا مگر جب تک بھائی رقم نہیں لے آتا تھا مجھے یہیں رُکنا تھا تاکہ بل وغیرہ کے معاملات نمٹا کر ہی واپس جاسکوں۔ چار گھنٹوں کے طویل انتظار کے بعد شام چھے بجے کے قریب بھائی آئے اور سارے معاملات طے پانے کے بعد ہم گھر واپس آئے۔ گھر آ کر بھی میں آرام ہی کرتا رہا، رات کھانا لگانے اور گھر کی دوسری ذمہ داریوں سے فارغ ہو کر حُور میرے پاس آگئی۔ کافی دیر ہم یوں ہی چپ چاپ لیٹے رہے، کئی پہر کچھ کہے کچھ سُنے گزر گئے، شاید اس وقت گزشتہ واقعات اور آنے والے کل کے حوالے سے بہت سے خیالات ہمارے ذہنوں میں اُبھر رہے تھے، دنیا بھی کیا عجیب شے ہے، اس سے دور ہو جاؤ تو یہ تمہارے پیچھے بھاگتی ہے، اس کے پیچھے بھاگو تو کبھی ہاتھ نہیں آتی۔ مگر دنیا کے پیچھے بھاگتے بھاگتے ہم اکثر اپنے نہایت قریبی رشتوں سے دوری پیدا کرلیتے ہیں، یہ جانتے ہوئے بھی کہ ان کے نزدیک ہر آسائش سے زیادہ ضروری ہماری ذات ہی ہے، مجھے اس کا بخوبی اندازہ تھا اس لئے کوئی بھی فیصلہ لینے سے پہلے میں ہر پہلو پر غور کرنا چاہتا تھا۔ کافی دیر کی خاموشی کے بعد حور نے سکوت توڑا، "ساحل! میں نے بھی ایک فیصلہ کرلیا ہے۔۔۔" (جاری ہے)
سبسکرائب کریں در:
تبصرے شائع کریں (Atom)
کوئی تبصرے نہیں:
ایک تبصرہ شائع کریں