پیر، 17 اگست، 2015

August 17, 2015 at 08:29PM

"حور"۔۔۔ قسط: 10 ۔۔۔ تحریر: اویس سمیر۔۔۔ (گزشتہ سے پیوستہ) بارہویں دن مجھے بالآخر ڈسچارج کیا گیا، میرے ہاتھ میں ہسپتال کا بل آیا تو میں اور حور دونوں ہی ایک دوسرے کی شکل دیکھنے لگ گئے، یہی وہ لمحہ تھا جس نے ہمیں ہماری آنے والی زندگی کے متعلق بہت کچھ سوچنے پر مجبور کردیا۔ (اب آگے پڑھئے) میرے ہاتھ میں ہسپتال کا ساٹھ ہزار روپے کا بل موجود تھا، چار دن مَیں آئی سی یو میں زیرِ علاج رہا تھا جس کے تقریباً بیس ہزار بل میں لگ چکے تھے، باقی کے دن کے چار ہزار روپے کے حساب سے لگ لگ کر خرچ باون ہزار تک پہنچ چکا تھا، کچھ خرچ دواؤں انجیکشن، اور ڈرپس کا تھا جو دورانِ علاج مجھ پہ خرچ ہوا۔ ایسا نہ تھا کہ ہسپتال کی انتظامیہ نے اس تمام معاملہ میں کوئی ہیرا پھیری کی تھی بلکہ یہ سب آج کل ایک متوسط درجے کے ہسپتال کا عمومی خرچ تھا اور پھر حور جو کہ سارا وقت میری خدمت کیلئے ہسپتال میں رہی تھی وہ اس تمام خرچے کی تصدیق کررہی تھی۔ باقی صورتحال مَیں اپنے بارہ دن کے قیام کے دوران دیکھ چکا تھا، جس میں میرے اطراف کا ہر دوسرا مریض اور اُن کا رشتہ دار مہنگائی کا رونا روتے رہتے تھے۔ اپنے بھلے دِنوں میں اے ٹی ایم سے رقم نکالتے وقت آنے والے پچاس ہزار سے زائد کے بیلنس کو دیکھ کر مطمئن ہوتا کہ کسی مشکل وقت میں اس رقم سے کام چلا سکتا ہوں مگر میری بیماری اور علاج نے تو ایک ہی جھٹکے میں میرے ذہن سے ساری خوش فہمی ہوا کردی۔ یہاں تک تو پھر بھی سب کچھ قابلِ برداشت تھا مگر اگلا مرحلہ بہت ہی تکلیف دہ تھا، میں نے زندگی میں کبھی کسی کے سامنے ہاتھ نہیں پھیلایا تھا، نہ ہی کسی سے کسی قسم کی ذاتی مدد مانگی تھی۔ بل میں شامل دس ہزار کیلئے میں نے سوچ کے گھوڑے دوڑائے کہ کہاں سے میسر ہوسکتے ہیں، میں نے پچاس ہزار کی ایک کمیٹی ڈالی ہوئی تھی جو ابھی تک نکلی نہ تھی، ایک امید مجھے وہاں سے تھی مگر کمیٹی نکلنے کا اعلان اگلے ماہ ہی ہونا تھا۔ میں نے اپنے باقی بینک اکاؤنٹس کے بارے میں سوچا مگر کُل ملا کر بھی ان سب میں ہزار روپے سے زائد کی رقم نہ بنتی تھی۔ پرائیوٹ جاب تھی آفس کے افسران کی سخت پالیسیوں کی وجہ سے آفس سے کسی قسم کا قرضہ ملنے کی امید نہ تھی۔ آخری آپشن یا تو اماں تھیں یا بھائی جن سے مجھے پیسے ملنے کی امید تھی مگر میری فطری شرم مجھے مانگنے سے روک رہی تھی۔ حور آخر میری پریشانی میں کیسے مجھ الگ رہتی، اس نے میری پریشانی کو محسوس کرتے ہوئے پوچھا، "کتنے پیسے کم ہیں ساحل؟" ، "دس ہزار" میں نے منہ لٹکا کر جواب دیا۔ "پریشانی کی کیا بات ہے، یہ ہیں ناں۔۔۔"، حور نے مخصوص کھلکلاہٹ کے ساتھ اپنی کلائیاں میرے سامنے لہرائیں جن میں سونے کی دو چوڑیاں تھیں۔ میں نے اُس کھلکھلاہٹ میں واضح طور پر کھوکلا پن محسوس کیا، وہ کھلکھلاہٹ جو ساری آوازیں مدھم کردیتی تھیں آج تو میرے چہرے کے تاثرات بھی تبدیل نہ کرسکی، یہ سب کیا تھا، کیا حور اس سب حالات میں بہت مایوس ہوچکی تھی؟ یا ہماری آپس کی محبت کم ہورہی تھی؟ کیا حور یہ سب کرتے ہوئے خوش ہے؟ کیا گھر کر سربراہ ہونے کے ناطے اپنی بیوی کو دیا گیا ہدیہ اپنی ضرورت کیلئے اس سے واپس لے لینا ٹھیک عمل ہوگا؟ اور کیا میری مردانگی یہ سب گوارا کرے گی؟ ایک ساتھ ہی انگنت سوالات نے میرا ذہن الجھا دیا اور میں سر پکڑ کر بیٹھ گیا۔ لوگ سمجھتے ہیں کہ مضبوط ہونے کا مطلب یہ ہے کہ انسان کبھی درد محسوس نہ کرے، جبکہ حقیقت یہ ہے کہ مضبوط انسان سب سے زیادہ درد محسوس کرتا ہے، بلکہ اس کو سمجھتا ہے، اور قبول کرتا ہے۔ ہاں مگر وہ درد کو جھیلنے کیلئے اپنے جسم اور سوچ کو ڈھال لیتا ہے۔ حور مجھے مختلف قسم کے دلاسے دیتے دیتے بالآخر رو پڑی، میری پریشانی جو کچھ بھی تھی مگر میں حور کی آنکھوں میں آنسو نہیں دیکھ سکتا تھا، لہذا میں نے ایک فیصلہ لے لیا۔ اگلے ہی لمحے میں ایک فون نمبر ڈائل کررہا تھا۔ (جاری ہے)

کوئی تبصرے نہیں:

ایک تبصرہ شائع کریں