اتوار، 16 اگست، 2015

August 16, 2015 at 06:13PM

"حور"۔۔۔ قسط: 9 ۔۔۔ تحریر: اویس سمیر۔۔۔ میں نے اُس آواز کی جانب سفر شروع کیا، پھر یوں ہوا کہ ساری آوازیں مدھم ہوتی ہوتی باللآخر محو ہوگئیں، اور پھر صرف ایک ہی آواز باقی رہ گئی، حور مجھ سے کہہ رہی تھی، "ساحل! میں آپ کے پاس ہوں، دیکھیں میں کہیں نہیں گئی!" میں نے ہلکی ہلکی آنکھیں کھولیں، اپنے اطراف کو مزید تفصیل سے دیکھا، ہر سو سفید رنگ تھا، وہ دیواروں کے کالے پن نے اپنی جگہ بدل لی تھی، اب ہر جانب سفید سفید رنگ تھا جیسے کوئی ہسپتال ہو، سفید کوٹ پہنے ایک شخص ہاتھ میں فائل لئے ہلکے ہلکے کچھ کہہ رہا تھا، میرے بیڈ کی چادر ٹھیک کرتا ہوا سفید کپڑوں میں ملبول دوسرا شخص، ہاں میں ہسپتال میں ہی تھا، شاید یہ آئی سی یو یا اس جیسی ہی کوئی جگہ تھی جہاں اور لوگوں کا آنا منع تھا، حور میرا ہاتھ تھامے کھڑی تھی، میرے برف سے ٹھنڈے ہاتھوں کو اس کے ہاتھوں کی گرمی ایک عجیب سا سکون دے رہی تھی۔ "اماں ۔۔۔ کہاں ۔۔۔ ہیں؟" میں نے اٹک اٹک کر پوچھا، "وہ کچھ ہی دیر پہلے یہاں سے گئیں ہیں، آپ کی جانب سے بہت فکرمند تھیں، باقی سب بھی آپ کا بہت پوچھ رہے تھے" ، میں نے کچھ اور پوچھنے کے لئے منہ کھولا مگر کمزوری اور نقاہت نے مجھے اجازت نہ دی۔ حور نے مجھے اس مشقت میں دیکھا تو تڑپ کر مجھے کچھ بھی کہنے بولنے سے روک دیا۔ "ساحل آرام کریں، آپ کو آرام کی ضرورت ہے!" اس کی آنکھوں میں فکرمندی کی گہری لکیریں تھیں۔ اور میری ٹریٹمنٹ جاری رہی، ایک دن ۔۔۔ دو دن ۔۔۔ غرض کئی دن علاج جاری رہا پورے چار دن کے بعد میں اس قابل ہوا کہ اپنے اطراف کو ٹھیک طریقے سے محسوس کر سَکوں۔ میں نے آنکھیں کھولیں، بیڈ کے بالکل ساتھ لگی کُرسی پر حُور موجود تھی اس کا سر میرے سرہانے ٹکا ہوا تھا، جانے کب سے جاگ جاگ کر بہت تھک گئی تھی۔ میں نے اس کے سر پر ہلکے سے ہاتھ پھیرا شاید وہ کچی نیند میں تھی یا شاید سو ہی نہ پائی تھی، اس نے سر اُٹھا کر مجھے نیم وا آنکھوں سے دیکھا، ان آنکھوں میں تھکن، نیند، شکوہ، معصومیت، سب ہی تو تھا۔ میں نے دل ہی دل میں اس کو نہ جانے کتنی دعائیں دے ڈالیں، میرا چہرہ آنسوؤں سے تر ہورہا تھا مجھے یقین تھا کہ میری بیوی کی یہ نیکی کبھی رَد نہ جائیگی اور اس کی آخرت میں خلاصی کا سبب ضروربنے گی۔ چار دن بعد مجھ کو آئی سی یو سے جنرل روم میں شفٹ کیا گیا، میری رپورٹس آئیں تو اس میں کسی خطرناک وائرس کے حملے کا ذکر تھا جس میں میری جان بھی جاسکتی تھی، مگر میرے گھر والوں کی دعائیں تھیں جو اللہ نے مجھے ایک نئی زندگی دی۔ اور کئی دن گزر گئے میں نارمل ہوتا گیا، جس دن میں نے چلنے پھرنے کے لئے بیڈ سے قدم اتارا، اس ہی دن مجھے ڈسچارج کردینے کا نوٹس جاری ہوا، مجھے ہسپتال میں مکمل گیارہ دن ہوچکے تھے، ان گیارہ دنوں میں حور کی میرے لئے کی گئی خدمت کا کوئی نعم البدل نہیں تھا۔ مجھے کبھی کبھی ایسا لگتا جیسے یہ سب کرتے کرتے کہیں وہ خود نہ بیمار ہوجائے۔ کئی دفعہ اس کو آرام کی غرض سے گھر کی جانب روانہ کیا مگر چند ہی گھنٹوں بعد گھر کے کام نمٹا کر بغیر آرام کئے وہ واپس ہسپتال لوٹ آتی، میرے لئے اتنا سب کچھ کرتے کرتے وہ چُرمُرا سی گئی تھی، میں خود کو قصوروار سمجھنے لگا تھا۔ بارہویں دن مجھے بالآخر ڈسچارج کیا گیا، میرے ہاتھ میں ہسپتال کا بل آیا تو میں اور حور دونوں ہی ایک دوسرے کی شکل دیکھنے لگ گئے، یہی وہ لمحہ تھا جس نے ہمیں ہماری آنے والی زندگی کے متعلق بہت کچھ سوچنے پر مجبور کردیا۔ (جاری ہے)

کوئی تبصرے نہیں:

ایک تبصرہ شائع کریں