ہفتہ، 15 اگست، 2015
August 15, 2015 at 08:17PM
"حور"۔۔۔ قسط: 8 ۔۔۔ تحریر: اویس سمیر۔۔۔ ہم نے سی ویو سے واپسی کا سفر شروع کیا، بائیک کی رفتار ہوا سے باتیں کرنے لگی، اس دفعہ میرے کاندھے پر حور کی گرفت اتنی مضبوط نہ جیسے اُسے یقین ہو چلا ہو کہ کچھ بھی ہو میں اسے کہیں چھوڑ کر جانے والا نہیں ہوں۔ واپسی پر ہلکی ہلکی پھوار شروع ہوچکی تھی جو ہمارے گھر پہنچتے پہنچتے موسلا دھار بارش میں تبدیل ہوچکی تھی، وہ تو شکر ہوا کہ بائیک کہیں پانی میں پھنسی نہیں، گھر پہنچتے پہنچتے ہم دونوں ہی مکمل بھیگ چکے تھے۔ گھر آتے ہی امی اور گھر والوں نے معنی خیز نظروں سے مجھے دیکھا شاید وہ حور کے اس طرح واپس آجانے پر حیران تھے مگر میرے چہرے کی تازگی دیکھ کر مطمئن ہوگئے، حور آتے ہی کام میں لگ گئی تھی، کہاں وہ طبیعت خرابی اور مرجھایا ہوا چہرہ اور کہاں بارش میں بھیگنے کے باوجود بھی گھر پہنچتے ہی دوڑ دوڑ کر پھُرتی سے کام کاج میں جُت جانا۔ سچ ہے زندگی میں بہت سے معاملات کو ہم منطقی بنیادوں پر نہیں پرکھ سکتے جیسے ڈاکٹر کی نرم مزاجی اور مسکرا کر بات کرنے سے آدھی بیماری کا اُڑن چھو ہوجانا، کسی چیز کی بس خواہش ظاہر کرنا اور نہ جانے کیسے وہ ہمیں بِن مانگے مِل جانا، یا پھر بعض معاملات میں چھٹی حِس کا کام کرنا، حالاں کہ منطقی بنیادوں پر چھٹی حس کوئی وجود نہیں رکھتی۔ نہ جانے کیوں سب کچھ جیسے نارمل ہونے کے باوجود حور اور میں اپنی اپنی جگہ ایک انجانے سے خوف اور خلش کا شکار تھے، اپنے تمام تر اطمینان اور رعنائیوں کے باوجود ہمیں ڈر تھا کہ جو بھی معاملہ ہمارے درمیان ان چند دنوں میں ہوا وہ ختم نہیں ہوا تھا یہ صرف وقتی طور پر پسِ منظر میں چلا گیا ہے جو کبھی بھی ہمارے سامنے دوبارہ نمودار ہوسکتا ہے، ظاہر ہے کسی نہ کسی کروٹ تو اس سب کو بیٹھنا تھا۔ اور پھر یوں ہوا کہ بعد کے کچھ واقعات نے ہمیں بہت کچھ سوچنے پر مجبور کردیا۔ رات میری طبیعت بگڑنے لگی، صبح کی بارش میں بھیگنے کا اثر تھا، آنکھیں جلنے لگیں بخار بڑھنے لگا، یہاں تک کہ میں دو قدم چلنے کیلئے بھی سہارے کا محتاج ہوگیا، ایمبولینس بلائی گئی اور ہسپتال لیجایا گیا، ڈاکٹر نے فوراً ایڈمٹ ہونے کا کہا اور یوں مجھے ایڈمٹ کرلیا گیا، مجھے کیا ہوا تھا مجھے یاد نہیں، کچھ ہی دیر میں مجھ پر غشی طاری ہونے لگی اور پھر نہ جانے کیوں، چاروں سو اندھیرا چھا گیا۔ نہ جانے کون سی جگہ تھی، ہر جانب اندھیرا پھیلا ہوا تھا، ایسا لگتا تھا جیسے میں کسی وسیع و عریض کمرے میں مقید ہوں جہاں کی دیواروں پر کالا رنگ کردیا گیا ہے، جہاں روشنی کی آمد روک دی گئی ہے، ہاں مگر ٹھنڈک بہت زیادہ تھی، کچھ دیر تو اس اندھیرے میں ٹٹولتا رہا، جی کڑا کر کچھ قدم چلنے کی کوشش کی مگر آخر کب تک ۔۔۔ میں بدحواس ہوگیا، خوف میرے دل میں گھر کرنے لگا، کہیں میں ہمیشہ کیلئے تو اس تاریک ہال میں قید تو نہیں ہوگیا؟ میں نے دوڑنے کی کوشش کی مگر کچھ ہی دیر میں ہانپنے لگا، میں تھک کر گر گیا، میں کیا کروں ۔۔۔ میں کدھر جاؤں۔ "یااللہ! میں کہاں ہوں، میری مدد فرما" ، میری آنکھوں سے آنسو جاری ہوچکے تھے۔ میرے ماں باپ، حور، سب گھر والے ایک ایک کرکے مجھے یاد آنے لگے، حور کیسی ہوگی کیا کر رہی ہوگی، "حور! کدھر ہو تم؟ کہاں چلی گئی ہو مجھے چھوڑ کر، میرے پاس آؤ۔ اس جگہ میرا دم گھٹتا ہے" میں چِلایا۔ کئی گھنٹے گزر گئے۔ "ساحل!"، شاید کوئی مدھم سے سرگوشی تھی، مگر اس آواز نے جیسے اطراف میں مدُھر سا سنگیت بکھیر دیا ہو۔ "میں یہیں ہوں ساحل، آپ کے پاس، آپ کے ساتھ، میں کہیں نہیں جارہی آپ کو چھوڑ کر" اس اندھیرے میں مَیں اُٹھ بیٹھا، اپنے اِرد گِرد میں دیکھا تو ایک جانب ہلکی سی روشنی نظر آئی، اندھیرے میں ٹٹولتا ہوا اس جانب بڑھا، وہ آواز وہیں سے آرہی تھی، وہ آواز جسے میں بےہنگم شور میں بھی پہچان سکتا تھا، وہ آواز کہ جب اس کی کھلکھلاہٹ گونجتی تو جیسے باقی سب آوازیں مدھم مدھم ہو کر بالآخر محو ہوجاتیں اور چاروں سو ایک سماں سا بندھ جاتا۔ میں اس جانب چلنے لگا، روشنی مزید بڑھی، اس روشنی میں مجھے کچھ دھندلا دھندلا سا دکھائی دینے لگا تھا۔ (جاری ہے)
سبسکرائب کریں در:
تبصرے شائع کریں (Atom)
کوئی تبصرے نہیں:
ایک تبصرہ شائع کریں