جمعہ، 14 اگست، 2015
August 14, 2015 at 05:50PM
"حور"۔۔۔ قسط: 7 ۔۔۔ تحریر: اویس سمیر۔۔۔ بائیک کی رفتار لمحہ بہ لمحہ تیز ہوتی جارہی تھی، آج چھٹی کا دن تھا لہذا سڑک بھی صاف ملی تھی میں اُڑا جارہا تھا، پوری کوشش کے باوجود کچھ تو ایسا تھا کہ حور کی قربت ہر برف پگھلا دے رہی تھی ، کچھ دور جانے کے بعد بائیک کو ایک الگ جانب موڑ دیا، حور نے چونک کر دیکھا اور پھر کچھ سوچ کر مطمئن ہوگئی۔ جشنِ آزادی کی وجہ سے ہر طرف ہری ہری جھنڈیاں اور جھنڈے لگے ہوئے تھے، سڑک کی دونوں جانب جھنڈوں کے اسٹال لگے تھے، میں نے بائیک ہلکی رفتار سے چلانی شروع کردی میں اپنے آس پاس کچھ ڈھونڈ رہا تھا۔ ہلکی رفتار کے باوجود حور کی گرفت میرے کاندھے پر مضبوطی سے جمی رہی، شاید وہ نہیں چاہتی تھی کہ میں اس کے احساس سے ایک لمحہ بھی غافل غافل ہوں، بائیک ہلکی سے ہلکی کرتے ہوئے میں نے ایک جھنڈوں کے اسٹال پر بائیک روک دی حور اور میں بائیک سے اترے اور ایک اسٹال کی جانب بڑھے۔ اسٹال والا اس وقت اپنا اسٹال سیٹ ہی کررہا تھا، شاید وقت کی ضرورت بھی تھی اور قسمت کی شرارت بھی، ہمارے پہنچتے ہی اسٹال والے نے ہری سفید چوڑیوں کا ڈبا سامنے لا کر سیٹ کیا اور دوسری جانب مڑ کر اپنے کام میں لگ گیا، حور میرے قریب کھڑی تھی، میں نے ڈبے سے چوڑیاں اٹھائیں، حور ایک اچھی بیوی کی طرح میری سوچ پڑھ چکی تھی اس نے اپنی نازک کلائیاں میرے سامنے بچھا دیں اور میں نے ایک ایک کرکے اس کو ہری سفید چوڑیاں پہنانی شروع کردیں، دونوں کلائیاں بھرنے کے بعد میں نے اسٹال پر نظر دوڑائی اور اپنی بائیک کے لئے ایک ننھا سا ہرا جھنڈا پسند کیا۔ دکاندار کو ادائیگی کرکے ہم واپس بائیک کی جانب بڑھے۔ کچھ ہی لمحوں میں ہماری بائیک سی ویو کی جانب بھاگنے لگی، حور کے چہرے پر ایک شرمیلی مسکراہٹ رقص کرنے لگی تھی، یہی تو دل کا رشتہ ہوتا ہے، ایک دوسرے کے جذبات کوکہے بنا جان لینا۔ ایسا نہیں کہ کچھ کہا یا سُنا نہ جائے بہت سارے مقامات ایسے بھی ہوتے ہیں جب آپ کو کچھ کہنا اور اپنے جذبات کا اظہار کرنا بہت ضروری ہوجاتا ہے۔ لیکن ایسے بھی بہت سے مقام آتے ہیں کہ جب آنکھیں ہی کہتی ہیں اور آنکھیں ہی سنتی ہیں۔ سی ویو پر نسبتاً کم رش والی ایک جگہ پر ہم بیٹھ گئے، سورج نکل چکا تھا، دھوپ میں تمازت نہ تھی، کچھ دیر بعد ہم نے سمندر کے کنارے کنارے چہل قدمی شروع کی لہریں ہمارے پاؤں عقیدت سے چوم چوم کر واپس جاتیں جیسے ہماری محبت پر رشک کررہی ہوں، اس نے میری جانب دیکھے بغیر کہا، "میں بھی ان لہروں کی طرح ہوں ساحل"، میں نے جواب دیا "مگر میں تو تمہارے ساتھ ہی ہوں"۔۔ "مجھے ایسا ساتھ چاہئے کہ جس میں الگ ہونے کا خوف نہ ہو!" کچھ دیر میں اس جملے کے سحر میں کھویا رہا، کل سے اب تک کی ساری ٹینشن ختم ہوچکی تھی، ہلکا ہلکا محسوس کرنے لگا تھا۔ "ساحل! گھر چلیں؟ کھانے کا وقت ہونے والا ہے، آج تو گھر میں بھی سب موجود ہیں" میرے چہرے پر مسکراہٹ کھیلنے لگی۔ "جب میں نے تمہیں دیکھا، میں تمہاری محبت میں گرفتار ہوگیا، اور تم بھی مسکرانے لگیں، کیوں کہ تمہیں بھی معلوم ہو چکا تھا!" – شیکسپیئر (جاری ہے)
سبسکرائب کریں در:
تبصرے شائع کریں (Atom)
کوئی تبصرے نہیں:
ایک تبصرہ شائع کریں