جمعرات، 13 اگست، 2015

August 13, 2015 at 06:23PM

"حور"۔۔۔ قسط: 6 ۔۔۔ تحریر: اویس سمیر۔۔۔ میں لیٹا رہا، حور کا آخری جملہ میرے کانوں میں بہت دیت تک گونجتا رہا "کچھ دن کیوں؟ ہمیشہ کیوں نہیں" "کچھ دن کیوں ۔۔ ہمیشہ کیوں نہیں" دو گھنٹے گزر چکے تھے، آدھی سے زیادہ رات بیت گئی، نیند میری آنکھوں سے کوسوں دور تھی، یا شاید میں انتظار کررہا تھا کہ حور سو جائے تو میں بھی کمرے میں جا کر سوجاؤں، لیکن اس بات کا مجھے بھی یقین تھا کہ حور بھی اب تک سوئی نہ ہوگی، اور سوتی بھی کیسے، مجھے معلوم تھا کہ میرے بغیر اُسے نیند نہیں آتی، وہ تو ایک رات بھی اپنے میکے جاتی تو سارا وقت مجھ سے فون پر رابطے میں رہتی تھی۔۔ ایک تہائی رات گزر چکی تھی، رات کی تاریکی خاموشی سے اپنا سفر پورا کر رہی تھی ، میں اپنی جگہ سے اُٹھا اور بوجھل قدموں سے کمرے کی جانب چل پڑا، میرا ہر قدم گویا جیسے مَن مَن کا ہو رہا تھا، میں آہستگی سے کمرے میں داخل ہوا مبادا میری اٹھک پٹک سے حور کی آنکھ نہ کھل جائے، لیکن میں غلط تھا ۔۔۔۔ وہ تو ساری رات سوئی ہی نہ تھی۔۔۔ آنسوؤں سے بھیگا تکیہ خشک ہوچکا تھا، آنکھیں بند تھیں۔ میں بھی کچھ کہے بنا دوسری جانب منہ کرکے لیٹ گیا اور سونے کی ناکام کوشش کرنے لگا، لیکن بےسود۔ سناٹا اپنا شور مچاتا رہا۔۔ صبح ناشتے پر بھی خاموشی طاری رہی، چند نوالے زہر مارے، وہ حور جس کی وجہ سے میری صبح روشن ہوتی تھی، اس کا بات بات پر کھلکھلنا، ہنسنا، آج اتنی خاموش تھی کے میرا دم گھٹنے لگا۔۔ میں واپس کمرے میں لوٹا تو حور اپنے کپڑے پیک کررہی تھی، میرا دل ٹوٹ سا گیا، میں نے حور کے ساتھ ایسا کیوں کیا ۔۔ کچھ ہی دیر میں وہ تیار ہوگئی، گھر میں سب نے اس تبدیلی کو نوٹ کیا، اماں کو میں نے یہ کہہ دیا کہ طبیعت ٹھیک نہیں اس لئے اس کو چند دن کیلئے میکے چھوڑ رہا ہوں۔۔ حور نے میری انکھوں میں دیکھا، جیسے میں کچھ کہوں گا، روکوں گا، میں نے خود کو ٹٹولا ۔۔ برف سے زیادہ ٹھنڈآ پایا۔۔ ہم ساتھ گھر سے باہر نکلے، میں نے بائیک اسٹارٹ کی حور نے ہمیشہ کی طرح میرے کاندھے پر اپنا ہاتھ رکھ دیا، بائیک ہوا سے باتیں کرنے لگی۔۔حور کی گرفت میرے کاندھے پر مضبوط ہونے لگی، اسے ہمیشہ سے تیز رفتاری سے ڈر لگتا تھا۔ کچھ دیر کے بعد حور نے اپنا سر میرے کاندھے پر رکھ دیا۔۔ برف جیسے پگھلنے سی لگی تھی۔۔۔۔ (جاری ہے)

کوئی تبصرے نہیں:

ایک تبصرہ شائع کریں