بدھ، 12 اگست، 2015

August 12, 2015 at 03:49PM

"حور"۔۔۔ قسط: 5 ۔۔۔ تحریر: اویس سمیر۔۔۔ "حور" میں نے کچھ کہنے کے لئے اس کو مخاطب کیا، مگر ۔۔۔ وہ آنکھیں بند کئے بےپرواہ سی میرے سرہانے بیٹھی رہی، "حور!" میں نے ایک بار اس کو پھر قدرے بلند آواز سے مخاطب کیا۔۔ "میری بات غور سے سننا۔۔" میں نے اپنی بات شروع کرنی چاہی، مگر حور کے رویہ سے لگ رہا تھا کہ وہ سمجھتی ہے کہ میں کیا بات کرنے والا ہوں اس لئے وہ میری بات کو ٹالنا چاہ رہی تھی، یہ بات میرے لئے تو ٹھیک تھی کیوں کہ اس صورت میں مجھے اپنی بات کہنا مزید آسان ہو جاتا مگر حور کیلئے یہ ایک قیامت سے کم نہ تھی اور اِس کا مجھے بخوبی احساس تھا، اور حور ہی کیوں یہ فیصلہ میرے لئے بھی ایک پہاڑ جیسا بوجھ تھا، مگر کچھ تو کرنا تھا نا۔ میں نے اٹک اٹک کر بات شروع کی ۔۔ "سُنو !۔۔ میں نے ۔۔۔ میں نے باہر جانے کا فیصلہ کرلیا ہے!"، میں نے اپنے دل سے پہاڑ ہٹانا چاہا۔۔ حور نے یک دم آنکھیں مکمل کھول دیں اور خوفزدہ نظروں سے مجھے دیکھا جیسے کسی ڈراؤنے خواب سے بیدار ہوئی ہو۔ "حور! ہمارے مستقبل کے لئے ۔۔۔ " میں نے کہنا چاہا مگر حور نے میری بات کاٹ دی ، "ساحل آپ فیصلہ کرچکے ہیں؟" اس کی آنکھوں میں آنسو بھر آئے تھے ، "ہاں حور" ۔۔ میں نے کہا "ساحل اب میں کچھ بھی نہیں کہوں گی، جب آپ فیصلہ ہی کرچکے ہیں تو۔۔۔" اس کا پھولوں جیسا چہرہ مُرجھا سا گیا تھا ۔۔ "مگر ساحل کیا آپ نے یہ سوچا کہ میں آپ کے بغیر کیوں کر رہ پاؤنگی؟" وہ روہانسی ہو رہی تھی۔ "دیکھو گھر میں امی ہیں ، باجی ہیں، سب ہی تو ہیں۔۔۔ اور پھر تمہارا میکہ کتنا نزدیک ہے، وقت کٹ ہی جاتا ہے، کبھی دل نہ لگے تو اپنی سہیلیوں کو بُلا لینا" میں نے دلاسا دینے کے بجائے اپنی دانست میں اُسے مشورے دینے چاہے۔ مگر جیسے لگتا تھا کہ اس کو ان سب باتوں سے کوئی سروکار ہی نہ ہو، اور پھر اس نے بات کی شروعات کی تو پہلا لفظ ہی "ساحل" تھا۔ "ساحل، یہ سب تو میرے پاس آپ کے پاس آنے سے قبل بھی تھا، مگر زندگی میں نہ جانے کیوں ایک بےنام سے کمی سی تھی، ساحل جس دن میں اپ کے پاس آئی، جیسے مکمل سے ہوگئی ہوں، آپ سے چند دن بھی جُدا ہوں تو میری حالت اس پرندے جیسی ہو جاتی ہے جو شام کے دھندلکے میں اپنیے جھنڈ سے بچھڑ گیا ہو، میں کسی صورت ایک لمحہ بھی جدائی کا تصور نہیں کرسکتی۔۔ ۔ آپ نے جن کی بات کی ان سب کی اہمیت میرے نزدیک اب عام لوگوں جیسی ہے کیوں کہ میرے لئے میرا سب کچھ اب آپ ہی تو ہیں ۔۔ دن تو کام کاج میں گزر ہی جاتے ہیں ساحل ، مگر میری شامیں میری راتیں آپ کے بغیر میں سوچ بھی نہیں سکتی ۔۔ میں آپ کی عادی ہوچکی ہوں ، اپنا فیصلہ بدل لیں" ۔۔۔ اس نے مجھ میں سِمٹتے ہوئے بمشکل کہا۔ ۔۔ نہ جانے میں اس لمحہ کیوں اس قدر بےرحم اور سنگ دل ہوگیا، جب میں نے بولنا شروع کیا تو میرے سرد جذبات میری آواز میں بھی شامل ہوچکے تھے ۔۔"اگر یہ عادت ہے تو تمہیں اپنی عادت بدلنی پڑیگی حور!" میں پتھر کا بن چُکا تھا۔۔ "کچھ دن امی کے پاس رہو ۔۔۔ تاکہ ہم ایک دوسرے کے بغیر رہنے کے عادی ہوسکیں" حور نے میری جانب حیرت سے دیکھا، ان بڑی بڑی آنکھوں میں جیسے آندھیاں سی چلنے لگیں، چند لمحے یوں ہی اس نے مجھے دیکھا پھر بجلی کی تیزی سے اُٹھی ۔۔ "اگر یہ بات ہے نا ساحل ۔۔ تو پھر ۔ کچھ دن کیوں؟ ہمیشہ کیوں نہیں؟" وہ رُکی نہیں ۔۔ اپنے آنسوؤں کو چھپاتی وہ تیز تیز قدموں سے اندر کمرے کی جانب بھاگی ۔۔ شاید زندگی میں پہلی دفعہ ہوا ہوگا کہ میں اُس کو منانے اس کے پیچھے نہیں گیا۔۔ (جاری ہے)

کوئی تبصرے نہیں:

ایک تبصرہ شائع کریں