پیر، 10 اگست، 2015
August 10, 2015 at 05:12PM
حور ۔۔۔ چوتھی قسط ۔۔۔ تحریر: اَویس سمیر ۔۔۔ میں نے اس کی آنکھوں میں جھانکتے ہوئے کہا، جہاں فکر مندی کی لکیریں اور گہری ہوچکیں تھیں: "میں فکرمند ہوں آنے والے وقت کیلئے، میری تنخواہ، ماہانہ گزارہ شاید ہمارے آنے والے دنوں میں ہمارے لئے مشکلات کھڑی کردے" "کیوں ایسا سوچتے ہو ساحل؟" حور نے مجھے تسلی دیتے ہوئے کہا، میری پریشانی سُن کر وہ ایسے بولی جیسے اس کا مکمل حل اُس کے پاس موجود ہو، "زندگی کو اچھے سے گزارنے کیلئے ضروری نہیں کہ اچھا بنگلہ، اچھا پہناوا، اچھا رہن سہن ہو۔ دیکھو! جہاں محبت ہوتی ہے ناں، وہاں یہ سب اشیاء بےمعنی ہو کر رہ جاتی ہیں!" "مگر حور! صرف محبت کے سہارے تو زندگی نہیں گزاری جاسکتی ناں؟ آنے والے وقتوں میں ہمارے آنگن میں پھول کھلنے ہیں، ان کی ضروریات ۔۔۔۔" میں نے حور کے چہرے کو بغور دیکھتے ہوئے کہا جہاں اس کے رُخسار کی سُرخی مزید گہری ہورہی تھی، کچھ دیر اس کی نظریں جھُکی رہیں ۔۔ "ساحل!" حور نے چند ثانیوں بعد آہستگی سے کہا، "تم اس جانب سے کبھی پریشان نہ ہونا کہ ہمارا گزارا کیسے ہوگا، میں نے اب تک اس گھر کو ذمہ داری سے چلایا ہے، تو آگے بھی اس کو بخوبی چلاؤنگی۔۔۔" اس رات میری اماں سے اس موضوع پر کافی دیر بات ہوئی، ابا ، اماں ، ماموں غرض جس سے بھی میں نے مشورہ مانگا سب نے مجھے باہر ملک جانے کا مشورہ دیا، میں جانتا تھا میرا یہ فیصلہ حور کے لئے کسی طور بھی قبول نہیں ہوگا، مگر مجھے مبہم سا اطمینان تھا کہ اگر میں اس کو اپنے آنے والے مستقبل میں ہونے والی پریشانیوں کا حال بتلاؤں تو شاید اس کے دل کو تھوڑی ڈھارس بندھے اور جب کہ میں یہ سب کچھ اُس ہی کے لئے تو کر رہا تھا۔" وہ رات میں چھت پر لیٹا آسمان کی جانب تکتا ہوا گہری سوچ میں تھا، یکایک مجھے میرے اطراف میں مخملی بالوں کا احساس مخمور کر گیا۔۔ میں نے اپنے جذبات کو دباتے ہوئے حور کی آنکھوں میں جھانکتے ہوئے ایک فیصلہ کرلیا۔۔۔ حور کی آنکھوں میں ایک انجانا سا خوف در آیا تھا ۔۔ (جاری ہے)
سبسکرائب کریں در:
تبصرے شائع کریں (Atom)
کوئی تبصرے نہیں:
ایک تبصرہ شائع کریں