اتوار، 9 اگست، 2015

August 09, 2015 at 11:20PM

حور قسط: 3 تحریر : اویس سمیر میں منتظر رہا کہ کب وہ کھلکھلا کر مجھے مخاطب کرے مگر بےسود شاید آج کی باتوں میں درد بہت تھا، یا پھر درد سے زیادہ "کسک" جو کہ ہر درد پر حاوی ہوتی ہے. حور میری بیوی تھی، میرے گھر کا سکون، میرے ایمان کی تکمیل اور میری آنکھوں کی ٹھنڈک. ہماری محبت مثالی تھی، گو میاں بیوی میں اکثر اس شدت کی محبت کم ہی نظر آتی ہے، مگر جب لوگ ہماری محبت دیکھتے تو یہاں سارے تجزیے بےکار ہوجاتے . شادی سے قبل میں نے اُسے نہیں دیکھا تھا، نہ سامنے اور نہ ہی تصویر میں، مجھے سرپرائز پسند تھے، ہاں تصور میں ایک شبیہ اپنے ذہن میں بنائی تھی. نکاح کے بعد رخصت ہوکر جب وہ میرے گھر آئی اور اُس کا گھونگٹ میں نے اٹھا کر دیکھا تو پہلی نظر میری اس کی آنکھوں پر بڑی، بےاختیار میرے منہ سے کلمہ شکر نکلا اور حور مزید شرمانے لگی تھی. پھر تو میرے پاؤں ہی جیسے زمین پر نہ ٹکتے ہوں، اتنی محبت دی کہ کچھ ہی دن میں لوگ ہماری مثالیں دینے لگے. بعض جورو کا غلام بھی کہتے مگر وہ کہتے ہیں نا کہ محبت میں سب جائز ہے لہذا کسی اعتراض پر کان نہ دھرا. میرے لئے یہی کافی تھا کہ حور مجھ سے اور میں حور ساحل سے خوش ہوں. آفس میں گزارے گئے آٹھ گھنٹے مجھ پر گراں گزرتے، گھر آتے ہی جیسے ساری تھکن دور ہوجاتی. یہی کچھ حال حور کا تھا، اماں کہتی تھیں کہ دن بھر جیسے بےآب ماہی کی مانند رہتی اور ساحل کے آتے ہی دیکھو یوں کھل اُٹھتی ہے جیسے ویرانے میں چپکے سے بہار آجائے یا پھر جیسے صحرا کی ریت پہلی بارش کے بعد جل تھل ہوجاتی ہو. ہمارے تعلقات مثالی تھے، ہر گزرتا دن محبت میں والہانہ پن اور تعلقات میں مضبوطی لارہا تھا. وہ بھی اس ہی صبح کی مانند ایک خُنک دن تھا جب میں نے حور سے اپنی فکرمندی ظاہر کی، "میں ہمارے مستقبل کے بارے میں بہت فکرمند ہوں...." ، میں حور کے چہرے پر واضح فکرمندی کے آثار دیکھنے لگا جو مزید گہرے ہوتے جارہے تھے. (جاری ہے) #blog

کوئی تبصرے نہیں:

ایک تبصرہ شائع کریں