اتوار، 9 اگست، 2015

August 09, 2015 at 04:15PM

حور قسط: 2 تحریر : اویس سمیر میں نے اس کی آنکھوں میں جھانکا، اپنے نام کی مانند بڑی بڑی آنکھیں لئے وہ میری ہی جانب دیکھ رہی تھی، مگر میرے جواب کی منتظر. یہ سوال نما خواہش نہ صرف اُس کے لئے اہم تھی بلکہ میرے لئے بھی اہمیت کی حامل تھی، " ایسی محبت کہ جس میں کھو دینے کا خوف نہ ہو " اور جب میں بولنا شروع کیا تو میری آواز جیسے کوسوں دور سے آتی ہوئی محسوس ہوئی، "محبت قربانی مانگتی ہے حور، کچھ حاصل کرنے کیلئے کچھ کھونا پڑتا ہے، اور ایک دروازہ بند ہو تو سینکڑوں کھُل جاتے ہیں.. اور .. " میں نے اپنی دانست میں اس کو بہلانے کی کوشش کی مگر وہ بچی نہیں تھی مجھے اپنے الفاظ روکنے پڑے. "دیکھو ساحل! مجھے سمجھو، میں نے کبھی تم سے زیادہ کچھ نہیں مانگا، میں صرف اپنے لئے تمہاری محبت چاہتی ہوں، ساحل، اس خوف سے مجھ کو نجات دلا دو، الگ ہونے کا خوف، دور رہنے کا خوف، فاصلے کا خوف، اور ان سارے ڈروں میں اپنی ننھی سی محبت کی کونپل کی پرورش کرنا بہت مشکل ہے ساحل..." وہ آہستگی سے میرے پاس سِمٹ آئی تھی. "محبت تو حوصلہ دلاتی ہے، ہمت بڑھاتی ہے حور..." میں نے اس کی ٹھوری کو اپنے ہاتھ میں لے کر کہا .. پلک جھپکنے میں دو موٹے موٹے آنسو اس کی آنکھوں سے بہہ کر میری کلائی پر بہنے لگے. شاید ضبط بہت دیر سے تھا، آنکھوں میں بےقرار پانی شاید میرے ہی لمس کے انتظار میں تھے. میں نے اسے رونے دیا میں نے اس کو روکا نہیں کہ بہت بار رونا دِل کےلئے بہت ضروری ہوتا ہے. (جاری ہے) #blog

کوئی تبصرے نہیں:

ایک تبصرہ شائع کریں