ہفتہ، 8 اگست، 2015

August 08, 2015 at 10:21PM

حور پہلی قسط تحریر: اَویس سمیر صبح کا وقت تھا کہ جب ہلکی سی مگر ٹھنڈی ٹھنڈی دھوپ ہر جانب پھیل چکی تھی. سارا عالم خواب میں گُم تھا اور بھلا تنی صبح اُٹھتا بھی کون ہے. مگر وہ اس لمحے میرے ساتھ موجود تھی، اس کی کھلکھلاہٹ سُن کر میں نے اس کو دیکھا، یہ اس کا مجھے متوجہ کرنے کا ایک انداز تھا، چاہے کتنا بھی شور ہو، مگر اس کی ہنسی جیسے چار سو ایک سما باندھ دیتی. بڑی بڑی آنکھوں سے میری جانب دیکھتے ہوئے اس نے میری توجہ ان لہروں کی جانب دلائی جو ہلکے ہلکے ڈول رہی تھیں، ایک لمحہ ساحل کو چھو لیتی تو دوسرے لمحے بہت دور چلی جاتیں... "میں بھی ان لہروں کی مانند ہوں، ساحل!" اس نے کھنکھتی آواز میں کہا. "مگر میں تو تمہارے ساتھ ہی ہوں" ، اس کی بات کو سمجھتے ہوئے میں نے نام نہاد تسلی دینے کی کوشش کی. "کیا یہ ساتھ ہوتا ہے؟ کہ ہر لمحہ کھو دینے کا ڈر...، مجھے صرف اور صرف محبت کا احساس چاہیے کسی بھی قسم کے ڈر کے بغیر، ایک ایسی محبت کہ جس میں کھو دینے کا خوف نہ ہو" میں نے دور آسمانوں کی وسعتوں میں جھانکا، مگر مجھے خالی آسمان کے سوا کچھ نہ دکھا، جیسے ایک سفید کاغذ جو کسی شاعر کے غزل لکھنے کا محتاج ہو، شاید قدرت بھی مجھے اس کے سامنے لاجواب کرنا چاہ رہی تھی... (جاری ہے) #blog

کوئی تبصرے نہیں:

ایک تبصرہ شائع کریں